تحریر

ہاشمی صاحب: ادھوری نہیں، پوری تصویر

ہاشمی صاحب: ادھوری نہیں، پوری تصویر
طفیل ہاشمی کی تحریر پر راقم کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے:
گویا آپ کے نزدیک کالجز اور یونیورسٹیز کی تعلیم کا مقصد صرف پیشہ ورانہ معلومات دینا ہے۔ اگر اچھا مسلمان بنانا مقصد نہیں تو پھر نصاب میں اسلامیات کا مضمون شامل کیوں ہے؟ اگر درست طور پر شامل ہے اور نتائج نہیں آ رہے۔ تنقید تو ہوگی۔
کیا یونیورسٹیز اور کالجز کی تعلیم کا مقصد اچھے شہری کی تعمیر نہیں؟ اگر ہے اور نتائج نہیں آ رہے۔ تنقید تو ہوگی۔
اگر ”قطار بنائیے“، ”حقوق و فرائض“، ”نظم و ضبط“، ”قانون کی پابندی“ جیسے عنوانات پر مضامین نصاب میں شامل ہوں جبکہ نتیجہ بے ترتیبی، بدنظمی، بے انتظامی، رشوت، ظلم اور ناانصافی ہو۔ تنقید تو ہوگی۔
جب سرکاری سرپرستی ہو، حکومتی تعاون ہو، گرانٹس ہوں، بہترین مشاہرے اور مراعات ہوں۔ ہزاروں روپےفیس، سٹیشنری اور دیگر لوازمات کی مد میں وصول کئے جائیں۔۔۔ اور نتائج نہ ملیں۔ تنقید تو ہوگی۔
رہی مدارس کی بات، تو چندے سے چلنے والے یہ ادارے، جن کے طلبہ کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے اور وسائل محدود ہیں۔ آپ ان پر اصلاح کے لئے تنقید کیجئے، لیکن پوری تصویر دیکھ کر کیجئے، ادھوری تصویر دیکھ کر نہیں۔
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 18۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)

- - - - - - - - - -

=======
طفیل ہاشمی کی تحریر ملاحظہ کیجئے:
سچ جان کر جیو
جب بھی کوئی شخص علماء کرام یا دینی مدارس پر تنقید کرتا ہے تو جواب میں بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ
کالجز اور یونیورسٹیز کا کردار کون سا معیاری ہے؟
بعض احباب دینی اداروں کی خدمات پر نہ صرف مطمئن بلکہ نازاں ہوتے ہیں.
تاہم
ان اداروں یا افراد پر تنقید کا غیر جانبداری سے جائزہ لینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔
امر واقعہ یہ ہے کہ آپ گلی محلے میں صفائی کرنے والے عملے سے کبھی یہ شکایت نہیں کرتے کہ آپ کی مارکیٹ کے میڈیکل سٹور پر معیاری دوائیاں نہیں ملتیں۔ گروسری والے سے یہ گلہ نہیں کریں گے کہ شہر میں ٹریفک کا نظام درست نہیں ہے۔ ہمیشہ شکایت اسی کی یا اسی سے کی جاتی ہے جس کی ذمہ داری ہو یا جو کوئی کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
جدید تعلیمی ادارے یا تو پروفیشنل تعلیم دیتے ہیں یا جنرل. پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والوں سے یہ شکایت نہیں ہوتی کہ وہ انجینئر ہونے کے باوجود سکرو ٹائٹ نہیں کرسکتا یا ایم بی بی ایس ہوکر نسخہ نہیں لکھ سکتا، ایل ایل بی ہو کر عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا اسی طرح جنرل ایجوکیشن کے ذریعے کلرک بنانے کا کام بہت عمدگی سے جاری ہے۔
اس اصول کو دیکھتے ہوئے آئیے یہ فیصلہ کر لیں کہ دینی تعلیم کا ہدف کیا ہے؟ اگر دینی تعلیم کا ہدف ہر فرقے کے لوگوں کے لیے ائمہ مساجد یا مدارس میں رائج نصاب کی تدریس کی اہلیت پیدا کرنے تک محدود ہے تو میرے خیال میں کسی شخص کو تنقید کا حق نہیں ہے کیونکہ یہ کام احسن طریقے سے انجام پا رہا ہے۔
اگر دینی مدارس اور ارباب مدارس کے اہداف اس سے سوا ہیں تو ان کی نشاندہی ہو جائے تاکہ ہر کسی کو علم ہو کہ وہ عالم کے طور پر اپنا ہدف حاصل کر رہا ہے یا پبلک فنانس سے چلنے والے ادارے اپنا مقصد تخلیق پورا کر رہے ہیں یا نہیں؟
طفیل ہاشمی
گزارش یہ ہے پر واپس