تحریر

کزن میرج، اور قاری حنیف صاحب کی تحریر

کزن میرج، اور قاری حنیف صاحب کی تحریر
قاری حنیف صاحب! آپ ”ثابت شدہ جینیاتی مسائل“ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیدائشی نقص والے بچوں کی Percentage (تناسب) لکھ دیتے، کچھ تفصیل بیان کر دیتے تو قارئین کے سامنے حقیقی تصویر آجاتی۔ اب آپ نے ان چار الفاظ (”ثابت شدہ جینیاتی مسائل“) کے ذریعے لوگوں میں خوف پھیلا دیا۔ ممکن ہے کچھ کزن بے چارے ابھی صدمے میں بیٹھے ہوں۔ پھر آپ نے ”ہر دوسرا گھر ایک دو معذور بچے پال رہا ہے“ لکھ کر رہی سہی کسر پوری کر دی۔
بوسٹن کی یونیورسٹی آف میساچوسٹس کے پروفیسر ڈیان پال اور اوٹاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیمش اسپینسر (نیوزی لینڈ) نے کہا کہ چالیس برس کی عمر میں بچے پیدا کرنے والی خواتین کو احساسِ جرم کا شکار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح کزن میرج کرنے والوں کو بھی احساس جرم کا شکار نہیں کرنا چاہئے۔
پروفیسر پال اور اسپینسر نے کہا کہ پیدائشی نقائص کا خطرہ فرسٹ کزن کی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں میں اجنبیوں میں شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت تقریباً 2 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ”40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں پیدائشی نقائص کے حامل بچے پیدا ہونے خطرہ بھی اتنے ہی فیصد ہوتا ہے جبکہ ان خواتین کے لیے یہ تجویز نہیں کیا جاتا کہ انہیں بچوں کی پیدائش سے روکا جائے“۔
اس تحقیق کو درست مانا جائے تو اجنبی افراد کے مقابلے میں فرسٹ کزن میرج میں یہ تناسب صرف 2 فیصد زیادہ ہے۔ کزن میرج کے علاوہ اور کئی ایک وجوہات ہیں جو پیدائشی نقص کا سبب ہیں۔ ان میں ادویات اور کیمکلز کے مضرجانبی اثرات Side Effects ،حمل کی پیچدگیاں، دورانِ حمل ماں کی بیماری، والدین سے بیماری کی منتقلی وغیرہ اہم ہیں۔
پوسٹ پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

There's nothing wrong with cousins getting married, scientists say


تحقیق دانوں کے مطابق کزن میرج سے ہونے والے پیدائشی نقص کا تناسب اتنا بڑا نہیں کہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ایسے اور موقعوں پر جہاں بچوں کے لیے خطرہ زیادہ ہو، اس بارے میں لوگ سوال ہی نہیں اٹھاتے۔ مثال کے طور پر، ہنٹنگٹن Huntington’s disease (جوکہ ایک شدید اعصابی عارضہ ہے)، میں مبتلا افراد سے یہ بیماری اپنے بچوں میں منتقل ہونے کا 50 فیصد امکان ہوتا ہے۔
پوسٹ پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

NO Genetic Reason to Discourage Cousin Marriage


تحقیق دان کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں اور قاری صاحب آپ لوگوں کو اس سے پرہیز اور گریز کروا رہے ہیں اور خوف زدہ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سائنسی تجزیہ تحقیق کے درست ترین نتائج کے لیے کئی ایک عوامل اہم ہوتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اگر مناسب ترین حالات میں اس موضوع پر آئندہ مزید سائنسی تحقیقات ہوئیں تو ممکن ہے کہ کزن میرج کے باعث پیدائشی نقص کا فرق دو فی صد سے بھی کم ہو جائے یا صفر ہو جائے۔
قاری صاحب! آپ تو بسا اوقات صحیح احادیث کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور یہاں آپ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بلا سند اور بلا حوالہ قول لکھ کراپنی بات کو دینی سند بھی عطا کردی۔ آپ کم از کم یہ دو نکاح تو بیان کر دیتے:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی سے کیا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب علی (رضی اللہ عنہ) نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے شادی کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ دو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کہا ں ہے؟“ سنن نسائی: 3376، صحیح، الالبانی
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن ،زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ دیکھئے سورۃ الاحزاب، آیت: 37، صحیح بخاری: 7420 ۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نسب کے حوالے سے دیکھئے [الطبقات الكبرى لابن سعد، ج: 8، ص: 80]. [البداية والنهاية لابن كثير، ج: 7، ص: 106]. (زينب بنت جحش بن رياب بن أسد بن خزيمة، وهي ابنة عمة النبي صلى الله عليه وسلم.أمُّها أميمة بنت عبدالمطلب بن هاشم بن عبدمناف بن قصي)
کزن میرج ہو، رشتہ داروں میں شادی ہو یا اجنبی فیملی میں شادی ہو، یہ سب شرعی طور پر درست ہے۔ فی زمانہ شادی کی راہ میں پہلے ہی بہت رکاوٹیں ہیں، مزید نہ ڈالیں۔

قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 17۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)

- - - - - - - - - -

قاری حنیف ڈار کی تحریر ملاحظہ کیجئے:

پوسٹ پڑھنے کیلئے کلک کریں۔


”کزن میریجز میں سائنسی طور پر ثابت شدہ جینیاتی مسائل ہیں، پرہیز بہتر ہے ورنہ گھر معذوروں سے بھر جائیں گے، ساری زندگی سسکتے گزرے گی۔
اپنے یہاں بھی کزن میریجز کا رواج ہے اور ہر دوسرا گھر ایک دو معذور بچے پال رہا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک قبیلے کے وفد سے ملاقات کی جو سارے ہی نحیف و نزار تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے بنی سائب قبیلے سے باہر شادیاں کرو تاکہ تمہاری نسلیں صحتمند ہوں۔
قاری حنیف ڈار۔“
گزارش یہ ہے پر واپس