میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 اگست 2023ء کو یوم آزادی جوش و خروش سے منایا جائے گا۔
سرکاری سرپرستی میں۔۔۔
مقروض ملک میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ ہوگا۔
مقروض ملک میں میوزیکل نائٹ (شب موسیقی)کا انعقاد ہوگا ۔
مقروض ملک میں سرکاری عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا جائے گا۔
مقروض ملک میں چراغاں کیا جائے گا۔
مقروض ملک میں سرکاری محکمہ جات تقریبات منعقد کریں گے۔
مقروض ملک کے سرکاری محکمہ جات ان تقریبات کے لئے بینرز اور فلیکس آویزاں کریں گے۔
دسمبر 2022 تک پاکستان 55 ہزار 800 ارب روپے کا مقروض تھا۔اگر قرض کی رقم کو پاکستانی کی آبادی پر تقسیم کیا جائے تو جون 2022 میں، کم و بیش فی کس دو لاکھ 17 ہزار رقم بنتی تھی۔اس رقم کو قرض لینے والی حکومتوں کے وزرائے اعظم ، وزرائے اعلی، وفاقی اور صوبائی کابینہ اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پر تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔
کیا یوم آزادی کی تقریبات پرخرچ ہونے والی یہ رقم قرضہ کی ادائیگی میں نہیں دی جاسکتی؟ یقینا اس رقم سے قرض
ادا نہیں ہوگا، لیکن رخ تو متعین ہو گا کہ ہم اپنے ملک کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔جس قوم کے GDP یعنی مجموعی قومی پیداوار کا 93 فی صد قرضوں کی ادائیگی میں جا رہا ہو۔ قرضوں کی ادائیگی اس کی ترجیح نہیں، بلکہ تقریبات اس کی ترجیح ہیں۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 16۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)
- - - - - - - - - -
مقروض مملکت اور یوم آزادی