تحریر

علی رضی اللہ عنہ اور لفظ مولا۔۔۔

علی رضی اللہ عنہ اور لفظ مولا۔۔۔
بیتے برسوں کی بات ہے۔ دوستوں کے واٹس ایپ گروپ میں کسی دوست نے ایک مشہور واعظ کا کلپ ارسال کیا گیا۔ کلپ میں واعظ نے مولا علی (رضی اللہ عنہ) کے الفاظ پر مشتمل حدیث بیان کی۔ پھر واعظ نے کہا: ”میں اب حضرت علی نہیں کہتا۔ میں کہتا ہوں: مولا علی۔۔۔“ میں نے گروپ میں پیغام لکھا کہ اس موضوع پرتفصیلی علمی نکات ہیں۔ لیکن میں اس کلپ کے حوالے سے یہاں ایک سوال کرتا ہوں کہ، نہ اس کلپ میں مشہور واعظ سے اور نہ اس کلپ کے علاوہ مشہور واعظ سے اور نہ ان الفاظ کو پہچان بنانے والوں سے۔۔۔ ”مولا محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ اس تاکید و تکرار سے سننے کو کبھی ملے؟ بلاشبہ، ”مولا محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ، سننے کو نہیں ملتے۔ کیا سبب؟ کیا وجہ؟ اگر اس حدیث سے”مولا علی (رضی اللہ عنہ)“ کہنا ثابت ہے، تو ”مولا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)“ بھی اسی حدیث سے ثابت ہے؟ ”مولا علی“ کے الفاظ کہتے ہو اور ”مولا محمد“ کے الفاظ کیوں نہیں کہتے؟ گویا اس حدیث سے صرف اپنی چاہت کی بات بیان کی جاتی ہے اور مخصوص لوگ ایک خاص فکر کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یوں گروپ میں تو بات ختم ہوگئی۔

آج اس موضوع کے حوالے سے چند مزید گزارشات درج ذیل ہیں:
مَنْ كُنْت مَوْلَاهُ فِعْلِيٌّ مَوْلاهُ جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3713، صحيح، الالبانی // السلسلة الصحيحة: 1750، صحیح، الالبانی) راجح بات یہ ہے کہ بیان کردہ حدیث میں ”مولا“ کا لفظ محب، دوست اورمحبوب کے معنی کرنا ہی صحیح ہے۔
2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں افضل ترین شخصیت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اور خلافت کے بھی وہی زيادہ حق دار تھے ان کے بعد عمر بن الخطاب اور پھرعثمان بن عفان اوران کے بعد علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنھم۔ بعض لوگ اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ دوستی کا خلافت کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔
3۔ علی رضی اللہ عنہ کی فضائل سے کس کو انکار ہے؟ بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ کے فضائل تو کئی ایک صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
لیکن یہاں لفظ ”مولا“ کی وضاحت ضروری ہے۔ جو ہم درج ذیل نکات میں بیان کر رہے ہیں:
4۔ سورت التحریم میں لفظ ”مولا“ اللہ رب العالمین، جبریل علیہ السلام اور نیک مؤمنوں کے لیے استعمال ہوا اور یہاں ”مولا“ کا معنی” مددگار“ ہے۔ وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناً اللہ خود اس کا مددگار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔ (سورۃ التحریم، آیت: 04)
5۔ سورت البقرۃ میں لفظ ”مولا“ اللہ رب العالمین کے لیے استعمال ہوا اوریہاں ”مولا“ کا معنی ”مالک“ ہے۔
أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ (سورۃ البقرۃ، آیت: 286)
6۔ سورت الدخان میں ’’مَوْلًى‘‘ کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی ہے۔
يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ سورۃ الدخان، آیت: 41
7۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں زید (بن حارثہ) رضی اللہ عنہ کے لیے لفظ ”مولا“ استعمال ہوا ہے۔
وَقَالَ لِزَيْدٍ: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا» زید (بن حارثہ) رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2699)
8۔ حدیث میں مولی کا ذکر کئی ایک بار ہوا ہے، یہ ایک ایسا اسم ہے جو بہت سے معانی پرواقع ہوتا ہے، اس کے معانی میں: الرب، المالک، السید، المنعم (نعمتیں کرنے والا)، المعتق (آزاد کرنےوالا)، الناصر (مددکرنے والا)، المحب (محبت کرنےوالا)، التابع (پیروی کرنے والا)، الجار(پڑوسی)، ابن العم (چچا کا بیٹا)، حلیف، العقید( فوجی افسر)، الصھر (داماد) العبد (غلام)، العتق (آزاد کیا گیا)، المنعم علیہ (جس پرنعمتیں کی جائيں)۔
وَقَدْ تَكَرَّرَ ذِكْرُ «المَوْلَى» فِي الْحَدِيثِ، وَهُوَ اسْمٌ يقَع عَلَى جَماعةٍ كَثيِرَة، فَهُوَ الرَّبُّ، والمَالكُ، والسَّيِّد، والمُنْعِم، والمُعْتِقُ، والنَّاصر، والمُحِبّ، والتَّابِع، والجارُ، وابنُ العَمّ، والحَلِيفُ، والعَقيد، والصِّهْر، والعبْد، والمُعْتَقُ، والمُنْعَم عَلَيه۔ (كتاب النهاية في غريب الحديث والأثر، ابن الأثير)
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 15۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)

- - - - - - - - - -
گزارش یہ ہے پر واپس