تحریر

طفیل کی بھول

طفیل کی بھول
طفیل ہاشمی کی تحریر پر راقم کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔
اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اعتراف کر لیا کہ میں بھول گیا تھا، جبکہ راوی کا اعتراف نہیں ، بلکہ صرف منکر حدیث کی جانب سے بلا دلیل بھول کا الزام ہے۔
کسی شخص کا اعتراف اور شے ہے اور کسی پر بھول کا الزام اور شے ہے۔ مثال: ٹیچر اعتراف کرے کہ میں بھول گیا اور بات ہے۔ جبکہ ایک شاگرد، ٹیچر کو بار بار کہے کہ چونکہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تو آپ بھول رہے ہیں۔
سوچئے اگر ٹیچر طفیل ہاشمی ہو تو کلاس میں کتنی بار بار، شاگرد کی اس گردان کو برداشت کرے گا۔ ابھی بھول کی مزید مثالیں میں نے پیش نہیں کیں۔۔۔ سو کسی بھول میں نہ رہنا۔
دل چسپ بات یہ کہ آپ نے ایک آیت لکھی اور دوسری لکھنا بھول گئے۔
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ (6) إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ (7) سورة الأعلى
بلکہ اس موضوع سے متعلق ایک تیسری آیت بھی لکھنا بھول گئے۔
مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا۔۔۔ (106) سورة البقرة
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشری تقاضے کے پیش نظر بھول گئے اور اعتراف کر لیا تو الجھن کیسی؟ دوسری طرف نہ راوی کا اعتراف اور نہ دلیل، آپ کو حدیث کی سمجھ نہ آئے تو آپ کہہ دیں گے: راوی بھول گیا۔۔۔
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 12۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)

- - - - - - - - - -

طفیل ہاشمی کی تحریر ملاحظہ کیجئے:
!مجھے ایک چھوٹی سی بات کبھی سمجھ نہیں آئی
حدیث کی مستند ترین کتب میں یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا
مجھے یہ آیت بھول گئی تھی اس شخص کے پڑھنے سے یاد آئی۔
لیکن اسی کتاب کے کسی راوی مثلاً ہشام بن عروہ کے بارے میں کہا جائے کہ وہ بھول گئے تھے تو آپ پر منکر حدیث کا فتویٰ فوراً لگ سکتا ہے۔
اللہ کے رسول سنقرئک فلا تنسی کے باوجود بھول جائیں لیکن راوی نہیں بھول سکتا۔۔۔
عقیدت میں لت پت قوم اللہ اسے دین کی سمجھ دے
طفیل ہاشمی
گزارش یہ ہے پر واپس