تحریر

”التیس“ کا اردو ترجمہ کیا ”سانڈ“ ہے؟

”التیس“ کا اردو ترجمہ کیا ”سانڈ“ ہے؟
حلالہ سے متعلق ویڈیو لیکچر کے لیے مطالعہ کر رہا تھا۔ درج ذیل حدیث سامنے آئی۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: :کیا میں کرائے کے سانڈ کے متعلق نہ بتاؤں (کہ وہ کون ہوتا ہے؟) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کہا: جی ہاں (بتائیے) اے اللہ کے رسول! فرمایا: وہ حلالہ کرنے والاہے، اللہ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے۔ سنن ابن ماجه: 1936، حسن، الالبانی
ویب سائٹ پر انگریزی ترجمہ دیکھا تو Borrowed Billy Goat تھا۔ ایک صاحب علم کی مشاورت سے دوسرا ترجمہ دیکھا تو ”کرائے کے سانڈ“ کی بجائے وہاں ”مانگے ہوئے بکرے“ کے الفاظ تھے۔ سنن ابن ماجہ مترجم (اردو) کا پاکستان میں دستیاب معروف نسخہ دیکھا تو وہاں بھی ”کرائے کے سانڈ“ ہی لکھا تھا۔
معروف ماہر لسانیات دکتور ف۔ عبد الرحیم حفظہ اللہ سے استفسار کیا تو انہوں نے جواباً درج ذیل پیغام ارسال کیا: ”السلام علیکم۔ امید کہ آپ بخیر ہوں گے۔تیس کے معنی ہیں بکرا۔ لغت کی مشہور کتاب المصباح المنير کی عبارت ہے: التيس: الذكر من المعز اذا أتى عليه حول، وقبل الحول هو جدي، والجمع تيوس۔ یعنی بكرا جو ایک سال پورا کر چکا ہو، اور ایک سال سے پہلے وہ جدی کہلاتا ہے۔ اس کا ترجمہ سانڈ سےکرناغلط ہے۔“
فیروز اللغات اردو (جامع) پر نظر ڈالی تو اس کے مطابق ”سانڈ: (1) ایسا بیل جسے کسی دیوتا کے نام پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو۔ (2) وہ بیل یا گھوڑا جسے نسل کشی کے لیے رکھا جائے۔“ اس کدوکاوش سے یہ وضاحت ہوگئی کہ التیس کا راجح، ترجمہ سانڈ (بیل) نہیں، بلکہ بکرا ہے۔
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ:11۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)

- - - - - - - - - -
گزارش یہ ہے پر واپس