تحریر

انگریزوں کی آمد سے قبل

انگریزوں کی آمد سے قبل
ہندوستان کی جو خستہ حالی اور بد حالی انگریزوں کی آمد سے قبل بیان کی جاتی ہے، وہ مبالغہ آمیز ہے۔
فرصت میسر ہوئی تو شاید کبھی تفصیل سے اس کے پہلوؤں پر کچھ رقم کروں۔
سردست دو باتیں عرض کرتا ہوں۔
ایک تو آصف محمود کی کتاب ”پس قانون: پاکستانی قانون پر برطانوی نو آبادیاتی اثرات“ جو چند ہفتے قبل ہی شائع ہوئی۔ کتاب لائق مطالعہ ہے۔ مصنف نے ”احساس کمتری: نو آبادیاتی ورثہ؟“ کے نام سے ایک باب قائم کیا ہے کہ اور اس تاثر کی تاریخی حقائق کے ساتھ نفی کی ہے کہ انگریزی قانون سے قبل ہندوستان عدل و قضاء اور عدالت و قانون کے حوالے سے تہی دست تھا۔
دوسری بات یہ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی 1608 میں ہندوستان میں اپنے قدم رکھتی ہے اور 1765 میں مغل بادشاہ شاہ عالم کو شکست دے کر ہندوستان پر قبضہ کرتی ہے۔اگرچہ 1857 کی جنگ آزادی تک مزاحمت جاری رہی۔ جو کہ اڑھائی سو برس کی مدت بنتی ہے۔ایک تہی دامن ، تہی دست ، خستہ حال و بد حال ملک کو ایک ترقی یافتہ ، تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ قوم کم و بیش ڈیڑھ سو برس میں فتح کر پائی۔ اس پر غور و فکر سے شاید مزید زاویے سامنے آئیں۔
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 10۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزارش یہ ہے پر واپس