درج ذیل قصہ کچھ عرصہ سے پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہے:
”منشی نول کشور Munshi Nawal Kishore کی چتاکوآگ لگائی گئی اوراس پرکئی ڈبے گھی کے ڈالے گئے لیکن تب بھی آگ نہ لگی۔ بہت کوشش کی گئی لیکن آگ نہیں لگی یہ ایک ناممکن واقعہ تھاایساپہلے کبھی نہیں ہواتھا۔ دہلی کے امام مسجدکی ہدایت پرانہیں شمشان گھاٹ میں ہی دفنادیاگیا۔منشی نول کشورقرآن پاک کی طباعت واشاعت کاکام کیاکرتے تھے۔ ان کااحترام قرآن کایہ عالم تھاکہ جہاں قرآن پاک کی جلدبندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کوخود نول کشورسمیت جوتے پہن کرجانے کی اجازت نہیں تھی۔ بلکہ دوایسے ملازم رکھے ہوئے تھے جن کاصرف اورصرف ایک ہی کام تھاکہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کاچکرلگاتے رہتے تھےکہ کہیں کوئی کاغذ کاایساٹکڑاجس پرقرآنی آیت لکھی ہوتی تھی اس کوانتہائی عزت واحترام سے اٹھاکربوریوں میں جمع کرتے رہتے تھے۔پھران بوریوں کواحترام کے ساتھ زمین میں دفن کردیاجاتا۔“
مجھے ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں یہی قصہ بیان کیا گیا تھا۔ سوال ارسال کرنے والے نے مجھ سے اس پر رائے طلب کی۔ میں نے کچھ تحقیق کی۔ جن لوگوں نے بھی پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا یہ قصہ بیان کیا انہوں نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ تلاش کے بعد ریختہ ویب سائٹ پر”سوانح منشی نول کشور“، از”امیر حسن نورانی“ (طبع شدہ 1995ء) دستیاب ہوئی۔ خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری،پٹنہ نے اسے شائع کیا۔ یہ کتاب 325 صفحات پر مشتمل ہے۔ صفحہ 228 تک سوانح حیات ہے۔ اس کے بعد مطبوعات مطبع منشی نول کشور کی فہرست ہے۔ (1)۔صفحہ 222 تا 223 پر منشی نول کشور کی وفات کا ذکر ہے۔ وہاں کوئی ایسا قصہ بیان نہیں کیا گیا۔ (2)۔ بلکہ لکھا ہے: ”دریا گنگا کے کنارے آخری رسوم ان کے متبنی منشی پراگ نرائن نے ادا کیں۔“ (3)۔اس لئے دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ قصہ مستند اور قابل اعتماد نہیں۔
کتاب کا لنک
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 6۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منشی نول کشورکی چتا اور آگ کا قصہ