کالم

سیاست، سائنس اور قمری کیلنڈر

سیاست، سائنس اور قمری کیلنڈر
اسقاط حمل (ابارشن) سائنسی طریقہ ہے۔ مسلمان کے لیے جائز ہے یا ناجائز، اس کا فیصلہ اسلام کرے گا۔ خنجر، تلوار، بندوق، پستول بنانا سائنس کا دائرہ کار ہے، اس کا استعمال کہاں جائز اور ناجائز ہے یہ اسلام اور شریعت کا دائرہ کار ہے۔ ڈی این اے رپورٹ سائنسی مسئلہ ہے لیکن ڈی این اے رپورٹ کب قابل قبول ہے اور کب نہیں، یہ اسلامی قانون کا مسئلہ ہے۔ بچہ پیٹ سے کب باہر آئے گا آپ نے سائنسی حساب سے اندازہ لگایا، لیکن بچے کی پیدائش سے متعلق شرعی احکامات کا آغاز حسابی وقت سے نہیں بلکہ حقیقی روئیت (پیٹ سے نکل کر، آنکھوں سے نظر آنے) پر ہی ہوگا۔ چاند کی پیدائش کا سائنسی حساب سے اندازہ لگایا، لیکن متعلق شرعی احکامات کا آغاز حسابی وقت سے نہیں بلکہ حقیقی روئیت (اندھیرے سے نکل کر، آنکھوں سے نظر آنے) پر ہی ہو گا۔ نہ اندھا دھند سائنس کی پیروی ہے، نہ اس سے الرجی اور عداوت ہے۔ اسلامی دنیا میں علماء کی کمیٹیاں ماہرین فن سے مشورے کے بعد جدید سائنسی ایجادات پر رائے پیش کرتی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل (پاکستان)، بین الا قوامی اسلامی فقہ اکادمی (او آئی سی)، اسلامی فقہی اکیڈمی (رابطہ عالم اسلامی) کا یہی طرزِ تحقیق ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی(کرپٹو کرنسی) کی پاکستان میں اجازت نہیں۔ گویا حکومتیں بھی اپنے دائرہ کار میں سائنسی ایجادات پر حد بندی اور پابندی کی قائل ہیں۔
واد چودھری نے کہا کہ مولوی صاحبان اگر کہتے ہے کہ اس کا ٹیکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں تو وہ جو عینک پہنتے ہیں وہ بھی ٹیکنا لوجی ہے۔ پہلی بات: عینک علاج ہے اس سے نظر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقی نظر کی صلاحیت کو استعمال کرنے کا معاون آلہ ہے۔ دوسری بات: مولوی صاحبان سائنس اور ٹیکنالوجی کا انکار نہیں کرتے، صرف دائرہ کار متعین کرنے کی بات ہے۔ فواد چودھری کے اعتراض کے جواب میں بھولا کہتا ہے: ”چودھری جی؟ سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے تو سائنس کی منت ہی کر لیتے وہ چاند کو پاکستان کے سے شہروں میں دکھا دیتی۔ صرف سانگھڑ، پسنی، جیونی، بدین اور ٹھٹھہ کا دعویٰ ہی کیوں؟ یا صومالیہ اور افریقہ کے ملکوں کے ساتھ ہی اسی رات کو دکھا دیتی ہم پاکستانی بھی سب سے پہلے عید منا لیتے۔“ بھولا جانے اور سائنس کا وکیل جائے۔
نماز ٹائم ٹیبل (دائمی کیلنڈر) مسجد میں آویزاں ہو یا ڈیجیٹل ڈیوائس کی صورت میں ہو ،اس لئے قابل اعتماد ٹھہر ا کہ عمومی طور پر سارا سال اس کی تصدیق ممکن ہے۔ مثلاًً اگر کسی روز ہم نماز مغرب کے وقت کی تصدیق چاہتے ہیں۔ تو سورج کا غروب آنکھوں سے دیکھتے ہوئے، وقت نوٹ کر کے ہم نماز ٹائم ٹیبل کو ویریفائی کر سکتے ہیں۔ غلطی دیکھ کر اصلاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ہی کیلنڈر پر مختلف شہروں کے اوقات میں منٹوں کے فرق کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ جبکہ فواد چودھری کے کیلنڈر کے مطابق اگر نئے چاند کی پیدائش ہو چکی تو ہم ویریفائی کرنے کے لیے نومولود چاند کو آنکھ سے دیکھ نہیں سکتے۔ صرف ور چوئلی ایپ پر دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ چاند کی رؤیت میں تمام شہروں کو ایک ہی وقت کا پابند کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے ورچوئل چاند کے بعد ، کل کو کوئی ورچوئل نماز اور ورچوئل حج کو بھی سائنس کے مطابق درست کہہ دے۔ ایوان صدر سے آن لائن نماز کا فتوٰی تو جاوید غامدی دے چکے اور اہل پاکستان سن چکے۔
2019ء کی اخباری رپورٹ کے مطابق وزارت مذہبی امور نے سائنسی اعتبار سے تیار کردہ کیلنڈر کو مستر د کر دیا تھا۔ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کیلنڈر تیار کروایا تھا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے کیلنڈر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کو وزارت مذہبی امور کے سپرد کر دیا تھا۔ وزارت مذہبی امور نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اجلاس میں تمام مکاتب گھر کے علماء نے جدید طریقے سے چاند کی روئیت پر انحصار کرنے کی مخالفت کی اور اس عمل کو شرعی تقاضوں کے مطابق روئیت ہلال کمیٹی کے سپرد کرنے کا کہا۔
کیلنڈر کے مسترد ہونے کے باوجود جس مستقل مزاجی سے فواد چودھری چاند کی روئیت کے معاملے میں روئیت ہلال کمیٹی کی ”رونمائی“ کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ حیران کن ہے۔ بلکہ مفتی غیب الرحمن کے الفاظ میں ”دین میں مداخلت“ کر رہے ہیں۔ فواد چودھری کی ”مستقل مزاجی “ کے پیشِ نظر امید تھی کہ وہ اپنی وزارت میں ضرور کوئی سائنسی کارنامہ کریں گے۔ 55روپے فی کلو میٹر کے بیان کے بعد امید تھی کہ وہ وزارتِ سائنس میں 55 روپے فی کلو میٹر والا یا اس سے سستا ہیلی کاپٹر ضرور ایجاد کر لیں گے، بلکہ جن سیاست دانوں کو وہ خلا میں بھجوانا چاہتے تھے ان کو اسی ہیلی کاپٹر سے ہی بھجوا دیتے۔ فواد چودھری کے الفاظ میں ”آئندہ لوگ عید بھی چاند پر منا سکیں گے ۔“ تو ان لوگوں کو بھی اس سے سستے کاپٹر کے ذریعے چاند پر بھیجا جا سکتا ہے۔ ہبل دور بین سے متعلق بیان کے بعد اُمید تھی کہ وہ سپار کو سے ہبل کی مانند دور بین خلا میں ارسال کروا دیں گے۔ لیکن فواد چودھری اپنی صلاحیتوں کو شاید صرف چاند کی روئیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بلکہ وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے مطابق”چاند چاند کھیل رہے ہیں۔“ سیاست دانوں سے پہلے کون سی امیدیں پوری ہوئی ہیں، اک یہ بھی ہیں۔
اگر اس طرح معاملات میں دخل اندازی اور پر یس کا نفرنس کرنا فواد چودھری کا مینڈیٹ ہے، تو کاش فواد چودھری شوگرمافیا کے خلاف پر یس کا نفرنس کرتے اور کہتے کہ وزارتِ سائنس نے ایسی ایپ بنائی ہے کہ جس کے ذریعے گنے کے کاشتکاروں کو مکمل اور بروقت ادائیگی ہو سکے گی۔ ملک میں آئندہ کا شتکاروں کو مشکل نہیں ہو گی۔ کم قیمت کی ادائیگی کی شکایات ختم ہو جائیں گی۔ وزن میں نا جائز کٹوتی نہیں ہو گی۔ کاش فواد چودھری مستقبل میں گندم کا بحران روکنے کے لیے ایپ لانچ کرتے۔ کاشتکار کو سہولت سے باردانہ ملے گا۔ مکمل اور بروقت ادائیگی ہو گی۔ ملک بھر میں گندم کے خریداری مراکز کی ورچوئل مانیٹرنگ ہو گی۔ کاش وہ پولیس کی بہتر کار کردگی کے لیے مانیٹرنگ سسٹم بناتے۔ کاش وہ پٹواریوں کے فرسودہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایپ بناتے۔ کاش وہ بیورو کریسی کی بہتر کار کردگی کے لیے ایپ بناتے۔ کاش وہ ملک بھر میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے ورچوئل مانیٹر نگ سسٹم بناتے۔ کاش وہ معصوم زینب (قصور) اور سمیع الرحمٰان (کھنڈیاں) کی حفاظت اور جنسی درندوں کی مانیٹرنگ کے لیے نظام تجویز کرتے۔ اہلِ پاکستان دوسری خوشیاں مناتے عید کی خوشیاں مفتی غیب اور روئیت ہلال کمیٹی کے ساتھ عوام کے حقوق کے حصول کی خوشیاں اور انتظام میں تبدیلی کی خوشیاں فواد چودھری کے ساتھ اور وزارت سائنس کے ساتھ۔ لیکن فواد چودھری نے وہی کچھ کیا جو سیاست دان کرتے ہیں۔ انھوں نے روئیت ہلال پر سیاست کی۔ اہلِ دین کو نشانہ بنایا۔ پوائنٹ سکورنگ کی۔ چاند، چاند کھلتے رہے۔
پی ڈی ایف دستیاب ہے — ڈاؤن لوڈ کریں
تمام کالم