انگریزی، عربی اور دیگر زبانوں میں ”ایگریمنٹ فار برننگ پیس“ کی عبارت پس منظر میں واضح تھی۔ دوحہ (قطر) میں کندھے پر سفید چادر ڈالے، سفید اُجلے پیرہن میں ملبوس، کالی واسکٹ پہنے سیاہ دستار سر پر سجائے، گھنی داڑھی کے ساتھ ملا عبدالغنی برادر کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔ نیلے کوٹ پتلون اور سرخ ٹائی میں ملبوس نما ئندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے سٹیج پر موجود دوسری نشست سنبھالی، دستاویز پر دستخط ہوئے، دونوں نے مصافحہ کیا، تالیوں کی گونج پیدا ہوئی، ساتھ ہی نعرہ تکبیر اور پھر اللہ اکبر کی آواز بھی گونجی 50 ملکوں کے نمائندے اس تقریب میں شریک تھے۔ دستاویز کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: افغانستان میں قیام امن کے لئے عمارت اسلامیہ افغانستان ”جس کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا، وہ طالبان کے نام سے جانی جاتی ہے۔“ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین معاہدہ 29 فروری 2020ء بمطابق 5 رجب 1441 ہجری اور 10 حوت... 1398 چار صفحات اور چار حصوں پر مشتمل اس معاہدے کے تحت امریکہ 14 ماہ میں افغانستان سے افواج نکالے گا۔
صحافی نے طالبان رہنما ملا عبدالسلام ضعیف سے سوال کیا: ”طالبان کی سوچ جو تبدیل ہوئی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ طالبان کیوں معاہدے کے لئے تیار ہوئے؟“ ملا عبدالسلام ضعیف نے جواب دیتے ہوئے کہا: ”امریکہ نے افغانستان میں 2001ء میں جو لڑائی شروع کی تھی، اس کا انتخاب طالبان یا افغانستان کے لوگوں نے نہیں کیا تھا، وہ لڑائی افغانستان پر مسلط کی گئی، امریکہ نے پورے غرور، طاقت اور پڑوسیوں کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا۔ 2008ء کے بعد طالبان کے لئے سیاسی چینل پیدا کیا گیا۔ طالبان کی نہیں، بلکہ امریکہ کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔“ ملا عبدالسلام ضعیف نے مزید کہا: ”طالبان نے اب تک جو بات چیت کی ہے ، وہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے نام سے کی ہے، اور جو معاہدہ ہو رہا ہے، وہ بھی اسی نام سے ہو گا۔ طالبان اپنی امارت (حکومت) سے دستبردار نہیں ہوئے، جب وہ امارت پر ڈٹے ہوئے ہیں، وہ دوسری کسی حکومت کے وجود کو نہیں مان سکتے۔“ یہ وہی ملا عبدالسلام ضعیف ہیں جو کئی سال گوانتانا موبے کیمپ میں امریکی قید میں رہے۔
اس معاہدے تک پہنچنے میں کون سے موڑ آئے؟ کیا مناظر دیکھنے پڑے؟ کون سی داستانیں رقم ہوئیں؟ کن مراحل کا سامنا تھا؟ آیئے دیکھتے ہیں۔ ایک جانب مسٹر تھے، دوسری جانب ملا تھے۔ ایک جانب اسلحہ کا آسرا تھا، دوسری جانب اللہ کا آسرا تھا۔ ایک جانب شمشیر پر بھروسہ تھا، دوسری جانب بےتیغ سپاہی تھے۔ ایک جانب بش، اوباما اور ہیلری تھے، دوسری جانب عمر، عبدالسلام اور عبدالغنی تھے۔ ایک جانب ناٹو کے تربیت یافتہ تھے، دوسری جانب غیر تربیت یافتہ نوجوان تھے۔ ایک جانب ایساف، ناٹو اور اکاون ممالک تھے، دوسری جانب طالبان کا گروہ تھا۔ ایک جانب وسائل کا انبار تھا، دوسری جانب بنیادی سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر دنیا بھر کے لوگ امریکہ کے طرف دار تھے۔ ایک ارب امت مسلمہ بھی بش کی گرج چمک کے سامنے گم سم تھی، سبھی ہوئی تھی، طالبان کے لئے آواز اٹھانے والے اور دعا کرنے والے دیوانے کہلاتے تھے، جبکہ امریکہ کے حمایتی فرزانگی و فراست کا پیر سمجھے جاتے تھے۔
نائن الیون کا منظر دیکھیں۔ 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں 4 ہوائی جہاز ہائی جیک ہوئے۔ دو جہاز ایک سو دس منزلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیو یارک کی بالائی منزلوں سے ٹکرائے۔ تیسرا جہاز پینٹاگون (امریکی وزارت دفاع) سے ٹکرایا۔ چوتھا جہاز ایک میدان ہی میں جا گرا۔ افغانستان حملے کی بنیاد بنی اور ”وار آن ٹیرر“ کا آغاز ہوا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد ”نائن الیون ٹرتھ موومنٹ“ بھی سامنے آئی، جس کا مطالبہ تھا کہ شفاف تحقیقات کی جائیں، نائن الیون کے سانحے کے خفیہ گوشوں کو سامنے لایا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ اس تحریک نے میڈیا پر پیش کئے جانے والے امریکی مؤقف پر مضبوط اعتراضات کئے تھے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2001ء میں افغانستان پر حملے کا آغاز کیا۔ بارک اوباما نے افغانستان میں فوجوں کا اِضافہ کیا۔ دلچسپ بات یہ کہ اوباما کو 2009ء میں امن کا نوبل انعام بھی ملا- 2017ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالی اور یہ معاہدہ سامنے آیا۔
ایک موڑ تورا بورا کی لڑائی تھا۔ یہ ایک فوجی کارروائی تھی، جو افغانستان پر امریکی حملے کے ابتدائی مراحل کے دوران تورا بورا کے ایک احاطے میں ہوئی۔ کچھ جنگجو تورا بورا علاقے کے پہاڑوں میں موجود تھے۔ ہوائی بمباری کا آغاز ہوا، جس میں ڈیزی کٹر کے نام سے جانے والے بڑے بموں کا استعمال کیا گیا۔ لیزر گائیڈڈ بموں اور میزائلوں سمیت بلا توقف بھاری فضائی حملے گھنٹوں تک جاری رہے۔ فضائی بمباری نے پورے علاقے کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ شدید بمباری کی وجہ سے پہاڑ کی چٹانیں ریزہ ریزہ ہوگئی تھیں، آگ کے شعلے بلند ہوئے، دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ اس کے بعد یہ بات لوگوں کی زبان پر تھی: ”جس نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکی اس کا تورا بورا بنا دیں گے۔ پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے۔“
ایک مرحلہ گوانتانا موبے تھا۔ گوانتانا موبے امریکی قیدخانہ ہے جو کیوبا کے ساحل پر واقع امریکہ کے زیرِ انتظام علاقے میں قائم ہے۔ 2001ء میں امریکہ کی طرف سے افغانستان پر حملے کے بعد بہت سے مسلمانوں کو یہاں پر قید کیا گیا۔ امریکہ میں کئی مختلف مقامات پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان کے مظاہرے بھی ہوئے۔ گوانتانا موبے کی بندش کا مطالبہ کیا گیا۔ قیدیوں کی حالتِ زار پر توجہ مرکوز کرانے کے لئے منائے جانے والے دن مظاہرین نے نارنجی رنگ کے لباس پہنے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کہ گوانتانا موبے کے قیدی پہنتے تھے۔ رہا ہونے والے ایک یمنی قیدی کا کہنا تھا: ”میرے چہرے پر اور کمر پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کی جاتی۔ مکمل طور پر سونے سے محروم کر دیا جاتا۔ اگر میں کھانے سے انکار کر دیتا تو کھانا میرے سر پر مار دیا جاتا۔ سینما نما ہال میں لے جایا جاتا، قیدیوں پر تشدد کی ویڈیو دکھائی جاتی اور رقص کا حکم دیا جاتا۔
مجھے جانوروں کی آوازیں نکالنے پر مجبور کیا جاتا، انکار پر مارا جاتا اور آخر میں انتہائی ٹھنڈا پانی پورے جسم پر پھینک دیا جاتا۔ اس خوفناک تشدد کے بعد جب انہیں یقین ہوگیا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تو امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں نے میرے کیس کا ایک بار پھر جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مجھے رہا کر دیا جائے۔“ 19 برس کی المناک داستان کے بیان کے لئے طویل وقت اور توانا اعصاب درکار ہیں۔ اس داستان کو سمیٹنے کے لئے میں نے تین آیتوں کا انتخاب کیا ہے۔ کاش ہمارے دِل رب العالمین کے کلام پر یقین کے لیے آمادہ رہیں۔ ”تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی سربلند ہو گے اگر تم مومن ہو۔“ (آلِ عمران: 139) کئی بار ایسے ہوا کہ تھوڑی سی جماعت اللّٰہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب رہی ہے، اللہ تعالیٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔“ (البقرہ: 249) ”آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔“ (آلِ عمران: 26)
طالبان اور طاقت کا تورا بورا
پی ڈی ایف دستیاب ہے —
ڈاؤن لوڈ کریں