تحریر

کورونا، قاری اور دعا

کورونا، قاری اور دعا
حنیف ڈار نے ”دعائے کورونا“ کے عنوان سے تحریر نشر کی۔ میں نے جواب لکھا اور کمنٹس میں Paste کر دیا اور اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے بھی نشر کیا۔ کچھ وقت میں حنیف ڈار کے فیس بک اکاؤنٹ سے تحریر ڈیلیٹ کر دی گئی۔
قاری حنیف ڈار کی تحریر کا جواب درج ذیل ہے:
اوّل: گویا آپ کا اعتراض یہ ہے کہ دعا پڑھی اور مانگی تو فوری قبول نہ ہوئی۔
یہ فرمائیے کہ درج ذیل میں جن انبیاء کا تذکرہ کیا گیا ہے کیا ان کی دعا فورا قبول ہوئی؟ اگر ہاں تو دلیل بھی ذکر فرمائیں۔ ”فوری“ میں کتنی مدت ہوتی ہے، یہ بھی ذکر فرما دیں۔
1۔ابراہیم علیہ السلام کی دعا
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129) سورۃ البقرۃ
2۔ نوح علیہ السلام کی کفار کے بارے میں دعا
رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (26) سورۃ نوح
3۔ زکریا علیہ السلام کی دعا
قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) سورۃ مریم
زکریا علیہ السلام کی طلب اولاد دعا کب قبول ہوئی تھی؟ بڑھاپے میں یا جوانی میں؟
4۔ موسی علیہ السلام کی دعا
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (88) سورۃ یونس
دوم: دعا قبول نہ ہونا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول نہ ہوئی، اس پر کچھ ارشاد فرمائیں۔
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (80) سورۃ التوبہ
سوم: شفا کیسے؟
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (80) سورۃ الشراء
ابراھیم علیہ السلام کے ان الفاظ کے پیش نظر تو مالک کائنات کی طرف سے ہرمریض کو شفایاب ہونا چاہئے، کیوں لوگ مستقل بیمار رہتے ہیں اور کیوں اس بیماری سے مر جاتے ہیں؟
اسباب، آئسولیشن Isolation ،میڈیسن لینے والے بھی کیوں مر رہے ہیں ؟ حالانکہ انہی ادویات سے لوگ شفایاب بھی ہوتے ہیں۔ گویا دوا، اللہ رب العالمین کے اذن (اجازت) سے اثر انداز ہوتی ہے اور دعا بھی اللہ رب العالمین کے اذن (اجازت) سے اثر انداز ہوتی ہے۔ گویا دعا عبادت بھی اور سبب بھی۔
(قاری حنیف ڈار کی 02 اپریل 2021ء کی تحریر ”دعائے کورونا“ کے جواب میں)
قلم کار: اعجاز حسن
(سلسلہ: 3۔ گزارش یہ ہے۔۔۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حنیف ڈار کی نشر کردہ تحریر ملاحظہ کیجئے۔

دعائے کورونا۔


دعائے کورونا

اگر آپ نے کسی کو کورونا وائرس سے بچنے کی دعا بتائی ہے، اور اس کو پڑھنے کے باوجود اس کو کورونا ہوگیا ہے تو اس کو بتا دیجئے کہ ترمذی کے راوی نے جھوٹ بولا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں۔
الحمدللہ الذی عافانی مما ابتلاک بہ، و فضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا
اس قسم کی فوری اثر دکھانے کے دعوے کے ساتھ پیش کی گئی دعاؤں کے بےاثر نکلنے کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جس طرح ہم مرزے کی پیشگوئیوں کے جھوٹ ثابت ہونے پر اسکے ماننے والوں کے منہ میں انگلیاں دیتے ہیں۔
بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء و ھو السمیع البصیر
اگر کوئی یہ دعا پڑھ کر زہر بھی کھا لے تو اثر نہیں کرتا , اس کے ساتھ ایک جرنیل کا قصہ بھی نتھی کیا جاتا ہے کہ جس کو دشمن نے زہر دیا اور بس پسینہ نکل کر رہ گیا ،نہ عمر فاروق کو کچھ ہوا نہ خالد بن ولید کو۔
اب اگر کوئی آزمانے کے لئے خود آپ کو ہی یہ دعا پڑھ کر گندم میں رکھنے والی گولیاں کھانے کا چیلنج کرے اور آپ دم دبا کر بھاگ نکلیں تو کہنا دروغ بر گردن راوی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بندہ مؤمن کو دعاؤں کے ذریعے اپنے رب کے ساتھ جڑے رہنا چاہئے۔ اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین دعائیں سکھائی ہیں جن کے الفاظ نہ صرف بندہ مومن کا دل ایمان بااللہ سے بھر دیتی ہیں، بلکہ نفسیاتی طور پر بھی مومن کو مضبوط رکھتی ہیں۔
لیکن ایسی ڈعائیں سکھاتے پھرنا یا شیئر کرتے پھرنا کہ جن کا فوری اثر ثابت نہ ہو سکے یا الٹا اثر ہو تو اس کا نتیجہ ایمان لیوا بھی ہوتا ہے۔ مفتی نعیم صاحب اور دیگر کورونا زدہ علماء جن میں مولانا طارق جمیل صاحب بھی شامل ہیں کیا یہ لوگ اس دعا سے غافل تھے؟ یا اس دعا کو پڑھتے نہ تھے؟ اس کے باوجود وہ کورونا میں مبتلا ہو گئے لہٰذا ”دروغ بر گردن راوی“
قاری حنیف ڈار ۔
گزارش یہ ہے پر واپس