دوستو!
بعض احباب ان دنوں اس شعر کی عملی صورت نظر آ رہے ہیں۔
اب اداس پھرتے ہو ”دھان کے گوداموں میں“
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
اصل شعر کچھ یوں ہے۔
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
رفیقو!
جنہوں نے کوئی جنس (دھان، مکئی وغیرہ) مناسب قیمت میں خرید لی اور ان کو منافع کی توقع ہے۔ ان سے حسد مت کرو۔ ان کو برکت کی دعا دو۔ فرشتے تمھارے لئے دعا کریں گے۔
صاحبو!
اگر دھان کم قیمت میں خرید نہیں کر سکے تو اب مت کہو میں یوں کر لیتا تو یوں ہو جاتا۔ یہ نہ شرعاً مطلوب ہے نہ عقلا محمود ہے۔ بتاؤ کیا دریا کو مخالف سمت بہا کر ہم دوبارہ برف کی صورت میں پہاڑوں کی چوٹی پر جما سکتے ہیں ؟ کیا دودھ کو گائے کے تھنوں میں واپس انڈیلا جا سکتا ہے؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو ماضی کی کھڑکیوں میں بے فائدہ تانک جھانک سے وقت کی دولت ضائع نہ کرو۔
پیارو!
زندگی میں کامیابی کیا ہے؟ فہرست بناؤ۔ کیا صرف کاروبار، بیوپار، تجارت، خرید و فرخت، نفع، منافع ہی کامیابی ہے؟ نہیں، بلکہ ایمان، نیک عمل، رب کو سجدہ، سکون، صحت، مسرت، خاندان، دوست، خوش حالی، غریب کی مدد وغیرہ بھی کامیابی ہیں۔
ساتھیو!
اللہ رب العالمین نے تنگی کے بعد آسانی کا وعدہ کیا ہے۔
سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔
(سورۃ الطلاق، آیت: 7)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی“۔
(جامع الترمذی: 2346 ، حسن)
بھائیو!
آج میں جیو۔ امید کے ساتھ، امنگ کے ساتھ
کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
تیزی، مندے کی پریشانی!