شٹ مت کہیں

شٹ مت کہیں

سوال: سوال کیا گیا ہے پریشانی کے موقع پر لفظ شٹ Shit کہنا کیسا ہے؟
جواب: مجھے یاد ہے کہ میں نے یہ لفظ پہلی بار اپنے ایک دوست سے کالج کے زمانے میں سنا۔ سننے میں Attraction Feel ہوئی اور اس دور میں ہمیں انگریزی لفظ سن کر ویسے ہی اچھا لگتا ہے۔ کچھ دن بعد لغت Dictionary کھولی اور معنی دیکھا۔معنی دیکھ کر لفظ نہایت ہی نامناسب لگا۔ غلاظت اور گندگی کا مفہوم تھا۔ آپ لغت دیکھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔
اس طرح کے الفاظ سے مسلمان کو گریز کرنا چاہیے۔ اسلام کی تعلیمات اس بارے میں کیا ہیں؟ اس حوالے سے ہم آپ کے سامنے ایک مثال رکھتے ہیں۔ مثلاً آپ سفر کے لئے گھر سے نکلے ہیں۔ کسی دوست سے ملنے جا رہے یا تقریب میں جا رہے ہیں۔ خوشی سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ کچھ دیر بعد بعد آپ کی گاڑی کسی ویرانہ میں پہنچتی ہے۔ آپ کو گاڑی کی رفتار کم ہوتی ہوئی ہوں یا بوجھل محسوس ہوتی ہیں۔آپ اتر کے دیکھتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی کا ٹائر پنکچر Puncture ہے۔ فوراً آپ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں Shit شٹ۔ اس طرح کے موقع پر یہ الفاظ کہنا یا یہ کہنا کہ کاش آج میں گھر سے نہ ہی نکلتا۔ شریعت اس حوالے سے کیا رہنمائی کرتی ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تمہیں کوئی (نقصان) پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں (اس طرح) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ (یہ) اللہ کی تقدیر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس لیے کہ (حسرت کرتے ہوئے) کاش (کہنا) شیطان کے عمل (کے دروازے) کو کھول دیتا ہے۔" (صحیح مسلم: 6774)
اور اگر انسان کہتا ہے کہ میں ایسا کرتا ہوں تو ایسا ایسا ہوتا ہے۔ تو یہ الفاظ شیطان کے لیے دروازہ کھولتے ہیں اور شیطان انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔
2۔ دوسری مثال سنئے: آپ کاروبار کر رہیں ہیں۔ آپ کو مالی نقصان ہوگیا۔ یا کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی آگئی۔ تو ایسے موقع پر مسلمان کو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ، سورۃ البقرۃ ، آیت:156۔)یہ الفاظ کسی کی موت کے لئے خاص نہیں ہے۔ چونکہ رشتہ دار کی موت یا یا دوست کی موت بڑا سانحہ ہوتی ہے، بڑی مصیبت ہوتی ہے اسی لئے عموماً یہ الفاظ وہاں استعمال ہوتے ہیں۔ ورنہ کسی بھی طرح کی مصیبت پر یہ جملہ کہنا مشروع ہے اور اسی کا حکم ہے۔
ایک اور حدیث میں کچھ تفصیل ہے: ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ(وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا "یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے (اس کا) اس سے بہتر بدل عطا فرما۔" مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرما دیتا ہے۔"(صحیح مسلم: 2126)
3۔ تیسری صورت دیکھتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔ جناب ابوملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں ، اس نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سواری پر ان پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ کی سواری کو ٹھوکر سی لگی تو میری زبان سے نکلا ”ہلاک ہو شیطان۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”یہ مت کہو، تم جب یہ کہتے ہو تو وہ پھول جاتا ہے یہاں تک کہ ایک گھر کے برابر ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری قوت سے ایسے ہوا۔ لیکن کہو بِسْمِ اللَّهِ” اللہ کے نام سے “ تم جب ایسے کہتے ہو تو وہ سکڑ جاتا ہے ‘ حتیٰ کہ مکھی کی مانند ہو جاتا ہے ۔ “ (سنن ابی داؤد: 4982 ، صحیح)
ہم نے چند مسنون دعائیں اور الفاظ تحریر کئے ہیں۔ کسی بھی طرح کی پریشانی ہو، مصیبت ہو ،مشکل ہو ،اور جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے اور مسنون الفاظ کہتا ہے تو گویا وہ اللہ رب العالمین کی مدد طلب کرتا ہے ۔اور اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے سامنے Surrender کردیتا ہے ۔ اس بات کا احساس اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے میرے ساتھ آزمائش کا معاملہ کیا ہے۔ اللہ رب العالمین بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں اور اللہ رب العالمین ہی اس مصیبت سے مجھے نجات دینے والے ہیں ۔جب یہ سوچ اور یہ فکر اللہ کے ذکر سے پیدا ہوجائے تو پھر انسان کی مشکلات اور پریشانیاں آسان ہوتی ہیں۔ اللہ رب العالمین مجھے اور آپ کو دین کی سمجھ دیں اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(نوٹ: یہ اصلاً ویڈیو درس ہے جو 27 اگست 2019ء کو میرے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے متن کو معمولی ردوبدل کے ساتھ تحریری شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔)