کرسمس: شبہات کے جوابات

کرسمس: شبہات کے جوابات

ابتدائیہ

دسمبر 2019ء کے آخری ایام تھے۔ واٹس ایپ گروپ میں Christmas Greetings کے حوالے سے گفتگو چل نکلی۔ اس گروپ میں زمانہ طالب علمی کے دوست شامل ہیں۔ جن میں سے کئی ایک غیرمسلم ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ اپنا موقف ان کے سامنے بیان کیا کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کرسمس کی مبارک باد دے۔ ان کے سوالات کے جواب دئیے۔ انہی ایام میں غامدی فکرسے متاثر فرد نے ایک صاحب کی مفصل تحریر ارسال کی۔ اس تحریر میں مسلمان کے لیے کرسمس کی مبارک باد دینے کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ ارادہ کیا کہ ان تمام شبہات کا جواب دیا جائے۔ 31 دسمبر 2019ء کو "کرسمس، چند سوالات" کی پہلی ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی۔ چند دنوں میں کل 6 Episodes اپ لوڈ کر دیئے۔ دسمبر 2022ء میں "کرسمس، چند سوالات" ویڈیو (تمام 6 حصوں) کو تحریری صورت دے کر نشر کیا۔ ایک PDF فائل میں بھی منتقل کر دیا ہے، الحمد لله! اس تحریر کے عنوانات درج ذیل ہیں:
1. میری کرسمس کا معنی
2۔ کرسمس کی مبارکباد
3۔ مسلمانوں کی عیدیں
4۔ 25دسمبر
5۔ عیسائیوں سے تعلقات
6۔ کفار سے مشابہت
24 دسمبر 2022ء کو واٹس ایپ گروپ میں ایک قابلِ قدر اور قابلِ احترام صاحبِ علم نے ایک تحریر (میری کرسمس) کا لنک شئیرکیا اور اس کا جواب دینے کی طرف توجہ دلائی۔ تحریر میں بیان کردہ شبہات اور ان پر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔ ان میں سے بعض شبہات وہی ہیں جن کے جوابات "کرسمس، چند سوالات" میں دے چکا ہوں۔ اگر ان کو تکرار کے پیشِ نظر ترک کرتا اور "کرسمس، چند سوالات" کا حوالہ دیتا تو قارئین کے لیے مشکل ہوگی اور تحریر کا مکمل جواب بھی تشنہ رہے گا۔ وہ قارئین جو "کرسمس، چند سوالات" کا مطالعہ کر چکے ہیں ان کو اس تحریر میں بیان کردہ شبہات کے جواب میں شاید تکرار محسوس ہو۔ لیکن اس کا عذر میں بیان کر چکا ہوں۔ میں نے مذکور تحریر (میری کرسمس) میں درج کردہ قابلِ ذکر شبہات کو نمبرنگ اور عنوان دیا ہے، اور پھر اپنا تبصرہ اور جواب ذکر کیا ہے۔ جوابی تحریر میں 15 عنوانات قائم کئے گئے ہیں اور اس کو "کرسمس: شبہات کے جوابات" کا نام دیا ہے۔ یہ 15 عنوانات درج ذیل ہیں:
1۔ تمہید
2۔ رومیوں کی فتح اور کرسمس پر مبارک باد
3۔ دعا اور مبارک باد قرآن میں
4۔ عیسائی ،مسلمانوں سے دوستی میں قریب
5۔ عیسائی، جنت اور سلامتی
6۔ آل ابراھیم علیہ السلام پر درود
7۔ اہل کتاب کو ایک بات کی دعوت
8۔ عیسائی بیوی کی دل جوئی
9۔ کرسمس کا مطلب کیا ہے؟
10۔ خدا اور نبی، دو مختلف عقیدے
11۔ راعنا مت کہو
12۔ کرسمس منانے والوں کی مراد
13۔ سالگرہ
14۔ عید اور روزوں پر مبارک باد
15۔ بچے کی پیدائش اور شادی کی مبارک باد

1۔ تمہید

"دنیا کا ہر فرد کئی قسم کے تہوار مناتا ہے۔ مذہبی تہوارجو کسی بھی مذہب کے ماننے والے جہاں بھی ہوں مناتے ہیں۔ علاقائی تہوار جو مخصوص علاقوں تک محدود ہوتے ہیں۔ اس طرح موسموں کے آنے جانے اور سال کے بدلنے پر بھی ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے خوش ہوتا ہے۔ کچھ تہواروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ علاقوں سے ہوتے ہوئے دنیا میں مقبول ہو جاتے ہیں، کچھ عقیدت کی وجہ سے مذہب کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی مذہب کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
عیسائیوں کے تہوار کرسمس کو عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی میں مناتے ہیں اور مذہبی جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ شروع میں یہ تہوار اتنے جوش و خروش سے نہیں منایا جاتا تھا، مگر جب عیسائیت کے شروع ہونے کے چند سو سال بعد عیسائیت بہت سے ممالک کا سرکاری مذہب بن گیا تو اس تہوار نے بھی سرکاری سرپرستی میں پھلنا پھولنا شروع کردیا۔"
1۔ تبصرہ: اس تمہید میں کوئی قابلِ ذکر بات نہیں جس کا جواب دیا جائے۔

2۔ رومیوں کی فتح اور کرسمس پر مبارک باد

"اس تہوار پر عیسائی ایک دوسرےکو مبارک باد اور تحفے تحائف دیتے ہیںِ، وجہ صاف ظاہر ہے کہ تہوار تو عیسائیوں کا ہی ہے، مگر تذبذب کی کیفیت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں پوچھا جاتا ہے کہ کیا کوئی مسلمان بھی کسی عیسائی کو کرسمس کی مبارکباد دے سکتا ہے؟ تو اس کو سختی سے حرام قرار دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ عیسائی حضرات کو کرسمس کی مبارک باد دینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر اکثریتی علماء کا اجماع ہے کہ یہ ناجائز ہے۔ جو لوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں ان کے حوالہ جات میں دنیاوی معاشرت اور اسلامی رواداری کا پہلو شامل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے قرآنِ پاک پڑھنے کے بعد میرا موقف یہ ہے کہ عیسائیوں کو اُن کی خوشی کے مواقع پر جیسے؛ شادی، سالگرہ، پیدائش، میں شریک ہوا جا سکتا، اُن کوتہوار پر مبارکباد دیتے ہوئے میری کرسمس بھی کہا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک میں اس حوالے سے دیکھتے ہیں کیا بیان فرمایا گیا ہے۔
چند قرآنی آیات:- سورہ روم کے شروع میں ذکر ہے کہ رومیوں (عیسائیوں) کی غیر مسلموں کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی میں رومیوں کی شکست پر اہل ایمان کے دل غمگین اور چند سال بعد فتح پر خوش ہو گئے تھے، اس خوشی اور غمی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عیسائیوں کے اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے، کفار کے مقابلے میں، ان کی فتح پر خوش تھے۔ اس وقت بھی عیسائیوں کے یہی عقائد تھے جو آج ہیں۔ اس وقت کے تمام عیسائی عقائد قرآن مجید میں تفصیل سے درج ہیں۔ اس کے باوجود سورۃ روم کی آیات پڑھ کر لگتا ہے کہ اگر مسلمان اس جنگ کے موقع پر عیسائیوں کی مزید مدد کرنے کے قابل ہوتے تو جنگی مدد بھی ضرور کرتے۔
غُلِبَتِ الرُّومُ [٣٠:٢]
”روم مغلوب ہو گئے۔“
فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [٣٠:٣]
”نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔“
فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ [٣٠:٤]
”چند ہی سال میں پہلے اور پچھلے سب کام الله کے ہاتھ میں ہیں اور اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔“
2۔ تبصرہ:
(2A) تفسیر ابن کثیر میں سورہ روم کی ان آیات (1 تا 4) کی تفسیر میں لکھا ہے: "ہاں مسلمان رومیوں کے غلبہ سے خوش ہوئے اس لیے کہ وہ کیسے ہی ہوں تاہم تھے اہل کتاب ۔ اور ان کے مقابلے مجوسیوں کی جماعت تھی جنہیں کتاب سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ تو لازمی امر تھا کہ مسلمان ان کے غلبے سے ناخوش ہوں اور رومیوں کے غلبے سے خوش ہوں۔ خود قرآن میں موجود ہے کہ ’ایمان والوں کے سب سے زیادہ دشمن یہود اور مشرک ہیں اور ان سے دوستیاں رکھنے میں سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش لوگ ہیں اور یہ متکبر نہیں ۔ قرآن سن کر یہ رو دیتے ہیں کیونکہ حق کو جان لیتے ہیں پھر اقرار کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم ایمان لائے تو ہمیں بھی ماننے والوں میں کر لے‘۔ (سورۃ المائدۃ :82-83) پس یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’مسلمان اس دن خوش ہونگے جس دن اللہ تعالیٰ رومیوں کی مدد کرے گا وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ بڑا غالب اور بہت مہربان ہے۔‘"
گویا عیسائی، مجوسیوں کے مقابل فاتح تھے اس لیے مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ عیسائیوں کے غلط عقیدے کی تائید نہیں کی تھی۔ ایک مثال سے شاید مزید وضاحت ہو جائے: موجودہ دور میں دو عیسائی اکثریت ممالک یوکرائن اور روس کے مابین تنازع میں مختلف ملکوں کے مسلمان اپنی ترجیحات کے مطابق کسی ایک کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
(2B) جن رومی عیسائیوں کی فتح پر مسلمان خوش ہوئے تھے۔ انہی عیسائیوں سے جنگ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 9 ہجری میں تقریبا 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے۔ درج ذیل آیات میں غزوہ تبوک کا تذکرہ ہے:
وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ (التوبہ: 92)
لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبہ: 117)
وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (التوبہ: 118)
کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ کے توبہ کے قصے میں بھی غزوہ تبوک کا تذکرہ ہے۔ بلکہ کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ نے عیسائی شاہ غسان کی ترغیبی چٹھی آگ میں ڈال دی تھی۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، صحیح البخاری: 4418، صحیح مسلم: 139)
انہی رومی (عیسائیوں) کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت میں سب سے پہلے جو لوگ قیصر روم کے شہر (دارالحکومت یعنی قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوں گے وہ مغفرت یافتہ ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 2924)
(2C) آگ کے پجاریوں (فارسی مجوسیوں) کے مقابل اور دیگر مشرکین کے مقابل ،یہود و نصاری (اہل کتاب) کے بارے میں اسلام (قرآن و حدیث) میں درج ذیل خصوصیات سامنے آتی ہیں: اہل کتاب تورات اور انجیل (آسمانی کتابوں) کے حاملین ہیں۔ ان کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر ہے۔ اہل کتاب کئی ایک سچے نبیوں پر ایمان لانے والےہیں۔
اسی طرح اہل کتاب کے لیے درج ذیل رعایتیں قابل ذکر ہیں: اہل کتاب کا اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ذبیحہ حلال ہے۔ اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح جائز ہے۔
لیکن قرآن و حدیث میں ان کے غلط عقیدے تائید نہیں کی گئی۔ بلکہ ان کو کفرہی قرار دیا۔ جہاں شریعت نے گنجائش دی ہے ہمیں بھی گنجائش تسلیم ہے۔ جہاں شریعت نے گنجائش نہیں دی ہے ہمیں بھی گنجائش تسلیم نہیں ہے۔

3۔ دعا اور مبارک باد قرآن میں

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا [٤:٨٦]
”اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا الٹ کر ویسی ہی کہو بے شک الله ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔“
سورۃ النساء کی اس آیت میں لفظ بِتَحِيَّةٍ کا استعمال کیا گیا ہے۔ جو مبارکباد کے اور استقبالیہ کلمات ہیں۔
أُولَٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا [٢٥:٧٥]
”یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا اور سلام سے استقبال کیا جائے گا۔“
اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ دعا دینے والا یا کلام کرنے والا مسلمان ہو تب ہی جواب دینا ہے۔
3۔ تبصرہ:
(3A) تحیہ یعنی دعائیہ کلمات یا خیر مقدمی کلمات کے ضمن میں، غیر مسلموں کے حوالے سے اسلام نے کچھ مزید ہدایات بھی دی ہیں۔
اگر اہلِ کتاب خیر مقدمی کلمات کی آڑ میں نامناسب کلمات کہیں تو ان کو ویسے ہی کلمات ان پر لوٹا دئیے جائیں گے۔
وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔ (سورة المجادلة- الآية '8')
یعنی اللہ نے تو سلام کا طریقہ یہ بتلایا کہ تم( السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ) کہولیکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے، انھوں نے آ کر کہا: (السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ) (ابو القاسم! آپ پر موت ہو) کہا آپ نے فرمایا: "وَعَلَيْكُمْ (تم لوگوں پر ہو!) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: "بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! زبان بری نہ کرو۔ انھوں (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے کہا: آپ نے نہیں سنا، انھوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: وَعَلَيْكُمْ اور تم پر ہو۔" (صحیح مسلم: 5658)
یعنی وہ آپس میں یا اپنے دلوں میں کہتے کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہماری اس قبیح حرکت پر ہماری گرفت ضرور فرماتا۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر اللہ نے اپنی مشیت اور حکمت بالغہ کے تحت دنیا میں ان کی فوری گرفت نہیں فرمائی تو کیا وہ آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی بچ جائیں گے؟ نہیں یقیناً نہیں۔ جہنم ان کی منتظر ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔
کافر اگر ایسے کلمات کہے جو شرکیہ و کفریہ عقائد سے متعلق ہوں تو ایسے کلمات کی تائید نہیں کی جائے گی نہ ان کو Endorse کیا جائے گا۔
(3B) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم کی دعا کرنے کی بجائے یہود کے لئے ہدایت اور اصلاح کی دعا کی۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہود نبی اکرمﷺ کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ ﷺ ان کے لیے يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ (اللہ تم پر رحم کرے) کہیں گے۔ مگر آپﷺ (اس موقع پرصرف (يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ) اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کردے) فرماتے۔‘‘ (جامع الترمذي: 2739، صحیح)
(3C) لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ تم میں سے ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بھی بنا سکتا تھا لیکن وہ تو چاہتا ہے کہ اس نے جو کتاب تمہیں دی ہے اس کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے۔ (سورة المائدة - آیت48)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔“ (سنن ابی داؤد: 4031)
ہر قوم یا مذہب کا ملاقات کے وقت مخصوص الفاظ میں خیر مقدم (Greeting) کرنے کا جو انداز ہے، اس کی دو حںاب ہیں۔ ایک اس کے لغوی معنی ہیں جو عام طور پر ملاقات کرنے والے کے لیے دعائیہ کلمات یا اظہارِادب یا اظہارِخوشی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دوسری حیثیت ان الفاظ کی قومی شناخت یا مذہبی شناخت کی ہوتی ہے۔ غیر مسلم سمیت کسی مسلمان سے ملتے وقت سلامِ مسنون کے علاوہ ایسے الفاظ استعمال کرنے کی تو گنجائش ہے جو لغوی طور پر صحیح ہوں، (یعنی ان کا معنی درست ہو، اور اس میں غیر شرعی بات نہ ہو، مثلًا شرک پر رضا مندی یا کوئی کفرئیہ کلمہ وغیرہ) لیکن شرط یہ ہے کہ وہ الفاظ کسی غیر قوم یا مذہب کی شناخت (یا علامت) نہ ہوں۔ اگر وہ الفاظ کسی غیر قوم یا مذہب کی شناخت یا خصوصیت ہیں تو اس قوم (مذہب) سے مشابہت کے سبب اس کا استعمال ممنوع ہوگا۔ اگرچہ اس کے لغوی معنی دعائیہ کلمات پر ہی کیوں نہ مشتمل ہوں۔
خیر مقدمی کلمات یا ترحیبی کلمات یا تہنیتی کلمات یا Greetings کے طور پر سکھ لوگ "واہے گرو جی کا خالصہ، واہے گرو جی کی فتح" یا "بولے سونہال، ست سری اکال" کہتے ہیں، ہندو"نمسکار" یا "نمستے" کہتے ہیں، عیسائی “Praise The Lord” کہتے ہیں، یہودی “Shalom” کہتے ہیں اور مسلمان "السلام علیکم" کہتے ہیں۔ بیان کردہ کلمات عموماً ملاقات کے آغاز و اختتام پر بولے جاتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مذاہب میں دیگر مواقع شکریہ، ہفتہ وار چھٹی اور تہوار وغیرہ سے متعلق بھی مخصوص کلمات موجود ہیں۔ یہ مخصوص مذہبی شعار اور الفاظ ہیں جو کہ ایک مذہب کے ماننے والے کی علامت اور شناخت ہیں۔ سو مسلمان ان کو استعمال نہیں کرے گا۔ اسی طرح میری کرسمس Merry Christmas یا ہیپی کرسمس Happy Christmas کے الفاظ عیسائیوں کی عید کی علامت ہیں اور خدا کے بیٹے کے کفریہ عقیدے کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ اس لئے یہ الفاظ مسلمان نہیں کہے گا۔
لیکن اگر کوئی یہودی یا عیسائی اپنے تہنیتی پیغام میں یہ کہتا ہے کہ: "آپ خوش رہیں" تو اس کے جواب میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ: "آپ بھی خوش رہیں"۔
(3D) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم انہیں راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبورکردو۔‘‘ (صحیح مسلم: 2167)
اس حدیث کے پیش نظر مسلمان خیر مقدمی اور مبارک باد کے کلمات کی ابتدا بھی نہیں کرے گا۔

4۔ عیسائی، مسلمانوں سے دوستی میں قریب

قرآن میں سورۃ المائدہ کی آیت 82 میں درج ہے کہ یہود اور ہنود کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں۔ تو یہ کیسی دوستی ہے کہ ایک طرف وہ تہوار منا رہے ہوں اور ہم مبارکباد بھی نہ دے سکیں؟
4۔ تبصرہ:
پہلی بات یہ کہ سورة المائدة کی آیت 82 میں عیسائیوں کو دیگر مشرکین اور یہود کے مقابل دوستی میں قریب کہا گیا ہے نہ کہ ان کو حقیقی دوست قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ سورۃ المائدة ہی کی آیت
51میں عیسائیوں کی دوستی سے منع کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہود و نصاری تو آپس میں دوست ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا تو یقیناً وہ ان میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورة المائدة - الآية 51)
دوسری بات یہ بھی فرمایا کہ تم (مسلمانوں) میں سے جو انھیں (یہودیوں اور عیسائیوں کو) دوست بنائے گا تو یقیناً وہ ان میں سے ہے۔
تیسری بات کہ یہ ایسا ہی دوستی (تعلق) ہے کہ آپ کا عیسائی ہمسایہ اپنا مذہبی تہوار منا رہا ہوتا ہے لیکن آپ اس کے ساتھ چرچ جا کر وہ تہوار نہیں مناتے۔

5۔ عیسائی، جنت اور سلامتی

قرآنِ کریم کے مطابق یہودی عیسائی صابی جو نیک عمل کرے گا جنت میں جائے گا۔ [٥:٦٩] جنت میں سب ایک دوسرےپر سلامتی بھیجیں گے۔ [١٠:١٠] جب وہاں سلامتی بھیجی جا سکتی ہے تو یہاں ایک دوسرے کو مبارک باد کیوں نہیں دی جا سکتی؟
باقی یہ سوال کہ کون جنت میں جائے گا کسی کو معلوم نہیںِ اللہ تعالیٰ سے لکھوا کر کوئی نہیں لایا۔ [٥:٦٩] میں تا قیامت تک کی بات ہو رہی ہے نہ کہ اُن عیسائیوں کی جو نبی کریم ﷺ سے پہلے گزر چکے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی قرآنِ مجید میں بھی مشرک کے لیے جنت حرام ہونے کا لکھا ہے۔ [٥:٧٢] جو چاہے عیسائی ہو یا کسی اور مذہب کا۔
5۔ تبصرہ:
(5A) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ، جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (سورۃ المائدة، آیت: 69)
مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ یہودی، نصاریٰ اور صابی اپنے اپنے وقت میں جنہوں نے اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھا اور نیک اعمال کرتے رہے، وہ سب نجاتِ اخروی سے ہمکنار ہوں گے۔ اسی طرح اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلمان بھی اگر صحیح طریقے سے اللہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان اور نیک عمل کا اہتمام کریں تو یہ بھی یقیناً آخرت کی ابدی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔
یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا اور اچھے عمل کرتا ہے، اس کی نجات ہوجائے گی، یہ بات درست نہیں ہے۔
قرآنِ مجید کی دیگر آیات سے ہمارے موقف کی مزید تائید ہوتی ہے مثلاً إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔ (آل عمران، آیت: 19) اور فرمایا: وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ (سورۃ آل عمران، آیت: 85)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ "اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس اُمت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اُس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہوگا۔" (صحیح مسلم: 153)
(5B) وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ اور جب عیسیٰ ابنِ مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔ (سورۃالصف: آیت 6)
سورۃالصف کی آیت 6 تا 9 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا تذکرہ ہے اور ایمان نہ لانے والوں کو ظالم کہا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت عیسی علیہ السلام نے اس لیے دی تھی کہ جب وہ تشریف لائے تو ان پر ایمان لایا جائے، اگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان لانا ضروری نہیں، تو پھر بشارت اور اطلاع کی کیا ضرورت؟
سورۃ الأنعام، آیت: 20-21 اور سورۃ البقرۃ: 146-147 میں بتایا گیا کہ اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اس کے باوجود ان پر ایمان نہیں لاتے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں تو پھر پہچان کا ذکر کیوں اور پہچاننے کے باوجودایمان نہ لانے پر اس قدر تنبیہ کیوں؟
لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَةً (2) فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (3) وہ لوگ جنھوں نے اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔ اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔ جن میں لکھے ہوئے صحیح (درست) احکام ہوں۔ (سورۃ البينة: 1-3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واضح دلیل تھے، جس پر ایمان لا کر کفر کرنے والوں کو ہدایت ملنی تھی۔
صاحبِ تحریر کا یہ کہنا بلا دلیل ہے: "تاقیامت تک کی بات ہو رہی ہے نہ کہ اُن عیسائیوں کی جو نبی کریم ﷺ سے پہلے گزر چکے۔ "مزید ہمارے پیش کردہ دلائل سے بھی صاحب تحریر کے دعوی کی کمزوری واضح ہے۔
صاحب تحریر کا یہ کہنا: "جب وہاں (جنت میں) سلامتی بھیجی جا سکتی ہے تو یہاں ایک دوسرے کو مبارک باد کیوں نہیں دی جا سکتی؟"جواب یہ ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے اور جنت دارالجزاء ہے، اس لیے دونوں کے احکامات میں فرق ہے۔ مثلاً جنت میں تو شراب بھی حلال ہو گی، جب کہ دنیا میں حرام ہے۔ کیا اب دنیا میں عیسائیوں کے ساتھ شراب بھی پی جاسکتی ہے؟ یقینا نہیں۔ دیکھئے سورۃ المائدة، آیت 90 اور سورۃ محمد، آیت 15
دوسری بات یہ کہ سلامتی بھیجنے اور کفریہ عقائد پر مبنی عید کی مبارک باد دینے میں بھی فرق ہے۔ تفصیل کے لیےعنوان 3 "دعا اور مبارک باد قرآن میں" میں تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔

6۔ آلِ ابراھیم علیہ السلام پر درود

مبارکباد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے یا اللہ کے بیٹے کے لیے؟
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [٢:١٢٤]
“ اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنادوں گا کہا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔”
اس آیت کے مطابق ہم آل ابراہیم پر دورد بھیجتے ہیں اس کا تعلق آل ابراہیم کے برے لوگوں سے نہیں ہوتا۔ وہ صرف اچھے لوگوں پر جاتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم مبارک اللہ کے رسول کی پیدائش کے لیے دیں اور اللہ اسے بیٹے کے لیے سمجھ کر ہمیں گناہ گار قرار دے۔
6۔ تبصرہ:
(6A) پیش کردہ آیت (سورۃ البقرۃ کی آیت 124) میں آلِ ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجنے کا حکم کہاں ہے؟ اس آیت میں تو درود بھیجنے کا حکم نہیں؟
(6B) البتہ حدیث میں درود بھیجنے کا ذکر ضرور ہے (صحیح البخاری: 3370) (ضمنی نوٹ: صاحب تحریر کی تحریر متن و اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث سے استدلال سے شاید گریز کرتے ہیں، اس لئے ان کی مذکور تحریر میں کوئی حدیث نہیں، سوائے نجاشی کے ایک واقعہ کا ذکر ہے۔) مسلمان جوآل ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجتے ہیں اس کا حکم اورطریقہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ جبکہ عیسی علیہ السلام کے پیدائش پر کفریہ عقیدے کے حامل عیسائیوں کی عید پر جوابی مبارک باد کا حکم اور طریقہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عیسائیوں سے مباہلہ کیا اور آپ ان کی عید پر مبارک باد پر اصرار فرما رہے ہیں۔ (سورة آل عمران: 59 تا 61)
(6C) ایک شخص آیا اللہ کے رسول ﷺکے پاس اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول ﷺ میں نے نذر مانی تھی کہ میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کروں گا تو اللہ کے رسولﷺنے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی جاہلیت کے بتوں میں کسی بت کی عبادت تو نہیں کی جاتی؟ تو لوگوں نے کہا نہیں اللہ کے رسول ﷺ نے پوچھا کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید تو وہاں نہیں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ اور کہا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ (سنن ابی داؤد: 3313، صحیح)
گویا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے Questioning کی اور اس سے پوچھا کہ جاہلیت کے بتوں کی عبادت تو نہیں ہوتی اور کفار کی عید تو نہیں ہے؟ اگران سوالات کا Answer جوہے Yes میں ہوتا تو کیا خیال ہے اللہ کے رسولﷺ اجازت دے دیتے؟ تو گویا کفارکی عید کے مقام پر یا کفار کی عید کی جگہ پر وہاں بھی جانے کی اجازت نہیں۔ اگرچہ وہ عید ہو رہی تھی یا نہیں ہو رہی تھی۔ کرسمس میں شرکت اور اس کی مبارک باد اسی لئے جائز نہیں کہ وہ کفریہ عقیدے پر مبنی ہے۔ اسلام صرف نیت نہیں، بلکہ نیت اور عمل دونوں کا اعتبار کرتا ہے۔ کرسمس کی جوابی مبارک باد دیتے ہوئے آپ کا عقیدہ عیسائی سے مختلف ضرور ہے لیکن آپ کا عمل شریعت کے مطابق نہیں۔
(6D) اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورۃ البقرۃ: آیت 104)۔اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں مسلمان بیٹھتے اور اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے رَاعِنَا کہتے۔ یہود بھی جب مجلس میں آتے تو وہ اسی رَاعِنَا کے الفاظ کو اس کا معنی ہے (ہماری طرف متوجہ کیجئے) راعینا کر کے پڑھتے جس کا معنی ہے ہمارے چرواہے۔ اور یہود اس لفظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استھزاء کرتے۔ تو اللہ رب العالمین نے ان الفاظ کے استعمال کرنے سے منع کردیا کہا: لَا تَقُولُوا رَاعِنَا یہ الفاظ نہ کہو بلکہ وَقُولُوا انظُرْنَا اس معنی بھی یہ ہی ہے کہ (ہماری طرف متوجہ کرو) گویا یہود جس الفاظ کو اللہ کے رسول ﷺ کی توہین کا ذریعہ بنا رہے تھے اللہ رب العالمین نے ان الفاظ کے استعمال سے بھی مسلمانوں کو روک دیا۔ تو مسلمان وہی الفاظ استعمال کریں گے وہی Greetings کریں گے جو شریعت کی روشنی میں جائز ہوں گی۔ جو شریعت کی روشنی میں درست ہوں گی۔ جوعیسائیوں اور یہودیوں کو کسی طرح کا کوئی ایسا موقع فراہم نہیں کریں گی کہ جس سے اُن کے عقیدے کی یا اُن کی سوچ کی ترویج ہو یا اسلام کی کسی طرح کی کوئی توہین کرنے کا اُن کو موقع مل سکے۔
(6E) آل میں پیروکار اور مددگار بھی شامل ہوتے ہیں۔ وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ۔ ۔ ۔ (الأعراف، آیت: 130)۔ وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ۔ ۔ ۔ (البقرة، آیت: 49)
(6F) ابراہیم علیہ السلام کے زیادہ قریب لوگ ان کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں: بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب یقیناً وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (سورة آل عمران، آیت: 68)

7۔ اہلِ کتاب کو ایک بات کی دعوت

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ [٣:٦٤]
“کہہ اے اہلِ کتاب! ایک بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ سوائے الله کے اور کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور سوائے الله کے کوئی کسی کو رب نہ بنائے پس اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہونے والے ہیں۔”
اس آیت کے مطابق اگر عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان برابر کی بات دیکھیں تو وہ یہ ہے کہ اس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ پیدا ہونے پر خوشی ہی منائی جاتی ہے۔
نجاشی نے سورۃ مریم کی پیدائش مسیح سے متعلق آیات سن کر کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان لکیر سے زیادہ فرق نہیں۔اس نے مسلمانوں اور عیسائیت کے درمیان برابر کی بات ہی دیکھی تھی جو پیدائش عیسیٰ علیہ السلام تھی نہ کہ اُنکا نعوذ باللہ خدا کا بیٹا ہونا۔
7۔ تبصرہ:
(7A) بیان کردہ آیت (سورۃ آل عمران ، آیت: 64) میں اہل کتاب سے برابر کی بات ذکر کر دی گئی ہے اور وہ تین امورپر مشتمل ہے: (1) صرف اللہ کی عبادت کرنا۔ (2) اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ (3) اورانسان ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں (شریعت سازی کا مقام نہ دیں)۔
اب آپ خود ساختہ برابری تلاش کریں اور یہ کہیں کہ برابری یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی علیہ السلام دونوں کا میلاد منایا جائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنا میلاد منانے کا حکم نہیں دیا چہ جائیکہ عیسی علیہ السلام کا میلاد، ان کو خدا کا بیٹا ماننے والوں کے ساتھ منانے کا حکم دیتے؟
اگر کوئی خود ساختہ برابری تلاش کرتے ہوئے کہے کہ شریعت محمدی آ جانے کے باوجود اہل کتاب کے ساتھ برابری کی بات یہ ہے کہ عیسی اور موسی علیہما السلام کی بات بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی مانند مانی جائے تو بتائیے کیا کیا جائے؟
(7B) صاحب تحریر نے نجاشی کے بیان کا حوالہ Reference ذکر نہیں کیا؟ بہرحال یہ واقعہ کتب سیرت میں موجود ہے۔ تلاش کے بعد اس کی تفصیل مسند احمد 1740 میں بھی دستیاب ہوئی ہے۔ محدث احمد شاکر نے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے جود إسناده الألباني في سلسلة الأحاديث الصحيحة (7/578)۔ تفصیل کچھ یوں ہے: "جب مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس نے سوال کیا تو جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ لے کر آئے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے، اسکے رسول، اسکی رُوح اور اسکا وہ کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاک دامن حضرت مریم علیہما السلام کی طرف القا کیا تھا۔' اس پرنجاشی نے زمین سے ایک تنکہ اٹھایا اور بولا: 'جو کچھ تم نے کہا ہے عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔' اس پر بطریقوں نے ’ہونہہ‘ کی آواز لگائی۔ نجاشی نے کہا: اگرچہ تم لوگ ’ہونہہ‘ کہو۔۔۔"
نجاشی انصاف پسند عیسائی تھا، اس نے حق کی بات کی اور حق (اسلام) کو قبول بھی کر لیا۔ جبکہ دربار میں موجود بطریقوں (عیسائی مذہبی پیشواؤں) نے حق کا انکار کیا ۔ آج بھی جو عیسائی حق بات کو مانتے ہیں وہ نجاشی کی مانند اسلام کو قبول کر لیتے ہیں، یوں عیدالفطر اور عیدالاضحی مناتے ہیں۔ جو حق کو ٹھکرا دیتے ہیں وہ بطریقوں کی مانند گمراہی میں بھٹکتے ہیں، اور کرسمس مناتے ہیں اور اس کی مبارک باد دیتے ہیں۔
(7C) بخاری کی ایک طویل حدیث کے مطابق: اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک منگوایا، اسے پڑھا تو اس میں یہ لکھا تھا: ’’شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام: اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ ا بعد! میں تجھے کلمہ اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہو جاؤ تو محفوظ رہو گے۔ اللہ تعالٰی تجھے دوچند اجر دے گا۔ اگر تم یہ بات نہیں مانو گے تو تمہاری رعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔‘‘ اور يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ إِلَى قَوْلِهِ اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان یکساں مسلم ہے۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں۔ گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہیں۔ (صحیح بخاری: 4553) اس حدیث کی روشنی میں بھی " برابری کا کلمہ" عقیدہ تثلیث اور شرک کو ترک کر کے، توحید کی دعوت کو اپنانا ہے۔

8۔ عیسائی بیوی کی دل جوئی

معاشرت کا تقاضا-- اسلام اپنے اندر جتنی رواداری دوسرے مذاہب کے لیے رکھتا ہے اتنی دنیا کا کوئی مذہب نہیں رکھتا۔ مگر ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رواداری صرف مذہبی عبادات کی اجازت دینے کی حد تک ہے اور بس۔ قرآن کریم کے مطابق مسلمان مرد کو اہلِ کتاب عورت سے شادی کی اجازت ہے۔ (سورۃ المائدہ: آیت 5)، اسی وجہ سے بہت سے مسلمان مرد اہلِ کتاب عورت سے شادی بھی کرتے ہیں۔ یاد رہے مسلمان مرد سے شادی شدہ اہلِ کتاب عورت پر اس کی عبادات کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اب ذرا تصور کریں کتنی مضحکہ خیز صورتحال ہو گی کہ کسی کی بیوی، جو اس کی سب سے بڑی دوست ہوتی ہے، اس کی شریک حیات، اس کا لباس، اس کا پردہ، اس کی راز دار (سورۃ البقرہ: آیت 187)، وہ اپنا تہوار منا رہی ہے، اپنی عبادت کر رہی ہے، تہوار کی خوشی میں اچھے اچھے کھانے پکا رہی ہے، مسلمان مرد پر یہ کھانے کھانا حلال ہے۔ (سورۃ المائدہ: آیت 5) مگر بیوی کو اس مذہبی یا رسمی تہوار کی مبارک باد دینا حلال نہیں۔ بہت سے لوگ جوان کے ملک میں رہتے ہیں، اُن میں کھاتے ہیں، انہی کا سا لباس پہنتے ہیں، مگر ہر سال پھر پاکستانی مولوی سے ایک ہی بات کا فتویٰ طلب کرتے ہیں کہ کرسمس کی مبارک باد دیں یا نا دیں؟
8۔ تبصرہ:
عیسائی بیوی کا عقیدہ کفریہ ہے اور مسلمان شوہر کیا دل جوئی کے لیے اس کے کفریہ عقیدے کو اپنا لے؟ اگر وہ خنزیر Pork پکاتی اور کھاتی ہے تو مسلمان شوہر دل جوئی کے لیے کھانے میں شریک ہو گا؟ ممکن ہے عیسائیوں کے ہاں خنزیر کی حلت و حرمت کا سوال پیدا ہو۔ایک مثال اور دیکھتے ہیں کہ وہ اولاد کو چرچ لے کر جاتی ہے ؟یا کوئی بھی ایسا کام کرتی ہے جو اسلام میں جائز نہیں تو شوہر کیا کرے گا؟ ظاہر شادی کے وقت کچھ شرائط ہوں گی، کچھ کڑوے گھونٹ شادی کے بعد بیوی کو بھرنے ہوں گے اور کچھ سمجھوتے شوہر کو کرنے ہوں گے، جن میں یہ بھی ہوگا کہ شوہر کرسمس کی مبارک باد نہیں دے گا۔
مثال کے طور پر پاکستانی مسلمان خاوند کی اولاد اور اس کی پولش Polish عیسائی بیویوں کا کیس ان دنوں (دسمبر 2022) مشہور ہے۔ پاکستانی شوہر سلیم نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’صرف اور صرف مذہب کی وجہ سے‘ ان کے اپنی بیویوں کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی بیویاں’ بچوں کو چرچ لے جاتی تھیں۔‘‘
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بچے پولش ماؤں کے حوالے کرنے کا حکم: ’کیا بچی کی والدہ نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا؟‘


مسلمانوں کے آپس میں تعلقات اور کافر سے تعلقات میں فرق ہوتا ہے۔ ہمارے پاس ہندو کاروباری مہمان آیا اس نے گوشت کھانے سے انکار کر دیا۔ ہم نے برا نہیں منایا اوراس کی چاہت کے مطابق اسےمتبادل (سبزی وغیرہ) دے دیا۔ کافر ملک کے سفر میں ہم بھی حرام کو انکار کر دیتے ہیں۔

9۔ کرسمس کا مطلب کیا ہے؟

ناجائز ہونے کے بارے میں دلائل-- کرسمس کا مطلب اللہ تعالیٰ نے بیٹا جنا--
ایک اعتراض تو یہ کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی عیسائی کو کرسمس کی مبارک باد دیں گے تو آپ اس بات پر ایمان لے آئیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں (نعوذ باللہ)۔
نہ جانے یہ غلط فہمی کہاں سے آگئی کہ کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا (نعوذ باللہ) ہوتا ہے۔ ایسا کسی لغت میں نہیں لکھا ہوا۔ مزید یہ کہ جب صدر اوبامہ کسی مسلمان کو روزوں کی مبارک باد دیتا ہے تو کیا وہ ایمان لے آتا ہے کہ مسلمانوں کے روزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی برحق حضرت محمد ﷺ پر فرض کیے گئے۔ نہیں, بلکہ وہ صرف اپنی عیسائی دنیا کی رواداری دکھا رہا ہوتا ہے۔ کرسمس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے منسوب ایک تہوار ہے بس، کوئی اسے مذہبی عقیدت سےمناتا ہے تو کوئی بھرپور کاروباری جذبے سے اور کچھ چھٹیاں منانے کے لیے۔
9۔ تبصرہ:
(9A) کرسمس کی مبارک باد دینے سے کوئی مسلمان عیسائیوں کے عقیدے (عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں) پر ایمان تو نہیں لے آتا، لیکن کفریہ عقیدے کی پر مبنی مبارک باد کی تائید کرنے اورعیسائیوں کی مشابہت کرنے کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔
لغت میں کیا لکھا ہے وہ آپ نے بیان نہیں کیا؟ کیا عیسائی کرسمس بغیرکسی عقیدے کے مناتے ہیں؟ اس کے پیچھے کوئی سوچ اور فکر نہیں؟
(9B) اگر غیر مسلم صدر یا وزیرِاعظم کسی مسلمان کو روزوں کی مبارک دیتا ہے، مان لیتے ہیں کہ وہ روزوں پر ایمان نہیں لا رہا۔ لیکن یہ مبارک باد یا تووہ اپنے مذہب کی اجازت کے تحت دے رہا ہے یا مذہب کی اجازت کے بغیر دے رہا ہے۔ جبکہ مسلمان کسی ٖغیر مسلم کے عمل کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو پیش نظر رکھتا ہے۔ مسلمان کا دین کرسمس کی مبارک باد کی اجازت نہیں دیتا، لہذا مسلمان ایسا نہیں کرے گا۔
جہاں تک رواداری کا تعلق ہے تو یاد رہے کہ فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں چہرے کو حجاب سے ڈھانپنا منع ہے۔ اس سے نام نہاد رواداری کا اندازہ ہوتا ہے۔
(9C) عیسائی افراد، نبی (جس کو وہ خدا کا بیٹا تصور کرتے ہیں) کی پیدائش کا تہوار مناتے ہیں۔ بتلائیے نبی کی پیدائش کے تہوار (کرسمس) کو Cultural کیسے مانا جائے؟ کرسمس منانے والے تمام پادری، اسقف ،Priest، بشپ اور Practicing Christians اور دیگر کروڑوں افراد اس کو مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ چند لوگ اسے کاروباری جذبے سے منائیں تو کیا یہ صرف کمرشل ہو جائے گا؟ مذہبی بنیاد پر منانے والے کروڑوں افراد کی وجہ سے عیسائی (مذہبی) تہوار نہیں ہو گا، چند کمرشل اور کلچرل سمجھنے والوں کی وجہ سے کمرشل اور کلچرل ہو جائے گا؟ عجیب و غریب فکر ہے۔
عصرِ حاضر میں کچھ لوگ غیر مذہبی Non Religious شناخت اس لئے ظاہر کرتے ہیں تاکہ مذہبی احکامات پر مکمل طور پر عمل پیرا نہ ہونا پڑے۔ اب ایسے چند لوگ اگر Christmas Holidays میں کرسمس Celebrations کریں تو کیا ان چند افراد کے کہنے یا کرنے سے کرسمس کلچرل تہوار میں تبدیل ہوگیا؟
ان بے مذہبی لبرلز کے خیال میں ہندو دیوالی اور ہولی منائیں تو وہ بھی کلچرل۔۔۔ عیسائی کرسمس اور ایسٹر منائیں تو وہ بھی کلچرل۔۔۔۔ سکھ بیساکھی منائیں تو وہ بھی کلچرل۔۔۔ یہودی یومِ کپور منائیں تو وہ بھی کلچرل۔۔۔ مسلمان عید منائیں وہ بھی کلچرل۔۔۔ کیونکہ یہ بے مذہبی لبرلز، مذہب کو زندگی میں دخیل دیکھنا نہیں چاہتے۔۔۔ یہ بے مذہبی لبرلز ہر تہوار کو کلچرل کہہ کر اس سے صرف لطف اور نشاط کی راہ نکالیں گے۔ کمرشل کہہ کر مال سمیٹیں گے۔ ہیومن کہہ کر لوگوں کو شرکت پر آمادہ کریں گے اور یوں مذہبیت کی نفی کریں گے۔
مذہبی تہوار اور ان کی شناخت واضح ہے۔ مسلمان عید منائے گا، سکھ بیساکھی مناتا ہے، ہندو ہولی مناتا ہے، عیسائی ایسٹر اور کرسمس مناتا ہے۔

10۔ خدا اور نبی، دو مختلف عقیدے

اس حوالے سے قاری محمد حنیف ڈار صاحب کی ایک تحریر سے اقتباس:
” کیا ایسا ممکن ھے کہ وہ خدا سمجھتے رھیں اور ھم نبی سمجھ کر خوش ھو لیں،، جی ایسا بالکل ممکن ھے، قرآن حکیم میں ایک سورت ھے الصآفآت اس کی آیت نمبر 125 میں حضرت الیاس اپنی قوم کو کہہ رھے ھیں کہ تم بعل کو پکارتے ھو بچے مانگنے کے لئے اور احسن الخالقین کو بھول جاتے ھو،، یہ بعل نام کا بت تھا جس پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے اور بیٹے مانگے جاتے تھے، لنگ پوجا ٹائپ کی عبادات کی جاتی تھیں،، الغرض اس بت کی وجہ سے شوھر کو بھی "بعــل” مجازی خدا یعنی بیٹے دینے والا کہا جانے لگا! اب یہی بعل کا لفظ حضرت سارا اپنے شوھر ابوالانبیاء حضرت ابراھیم کے لئے استعمال کرتی ھیں،، سورہ ھود کی آیت 72 میں وہ فرماتی ھیں کہ ”اءلدُ و انا عجوزٓ و ھٰذا "بــعـــــلی" شیخاً؟ کیا میں اب جنوں گی جبکہ میرا بعل بوڑھا پھونس ھو گیا ھے؟ یہاں بعل شوھر کے معنوں میں استعمال ھوا ھے نہ کہ بت کے معنوں میں،، اسی طرح عیسی علیہ السلام کو وہ جو مرضی ھے سمجھیں ھم انہیں اللہ کا رسول سمجھ کر ان کی پیدائش کی مبارک دے سکتے ھیں !“
10۔ تبصرہ:
(10A) وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (83)وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (84) وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ (85) وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ (سورۃ الأنعام: 86)
سورۃ الانعام کی مندرجہ بالا آیات کے مطابق الیاس علیہ السلام کا زمانہ ابراھیم علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ ابراھیم علیہ السلام کی بیوی نے شوہر کے لیے بعل کا لفظ استعمال کیا۔ نجانے کتنی صدیوں بعد کس نے ایک بت بنایا، پھر بعل کے لفظ کواس بت پر چسپاں کیا گیا اور الیاس علیہ السلام کے دور میں بعل نامی بت کو پکارا جانے لگا۔ تحریر میں قاری حنیف ڈار کے اقتباس میں لکھا ہے: "الغرض اس بت کی وجہ سے شوھر کو بھی ”بعل“ مجازی خدا یعنی بیٹے دینے والا کہا جانے لگا! اب یہی بعل کا لفظ حضرت سارا اپنے شوھر ابوالانبیاء حضرت ابراھیم کے لئے استعمال کرتی ھیں۔" سو 'بت کی وجہ سے شوہر کو بھی بعل کہا جانے لگا۔' والی بات کی بنیاد ڈھے گئی، کیونکہ بعل نامی بت کو الیاس علیہ السلام کے دور میں پکارا جاتا تھا، جبکہ اس سے صدیوں پہلےابراھیم علیہ السلام کے دور میں بعل نامی بت کے وجود کی اور اس کو پکارنے کی کوئی دلیل تحریر (اقتباس) میں موجود نہیں۔ گویا ابراھیم علیہ السلام کے دور میں بت کے لیے، بعل کا لفظ استعمال ہونا ثابت ہی نہیں۔ اس وقت بعل کا لفظ شوہر کے لیے استعمال ہوتا تھا، جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے۔
تفسیر طبری کے درج ذیل حوالے کی رو سے بھی الیاس علیہ السلام، تو موسی علیہ السلام کے بعد تشریف لائے اور ابراھیم علیہ السلام تو بلا شبہ موسی علیہ السلام سے بھی پہلے مبعوث ہوئےتھے۔ فكان ابن إسحاق يقول: هو إلياس بن يسى بن فنحاص بن العيزار بن هارون بن عمران، ابن أخي موسى نبيّ الله صلى الله عليه وسلم (التفسيرالطبري، سورۃالأنعام: 85)
(10B) اب اگلا سوال یہ ہوگا کہ بعل کے لفظ کو بعد والے دورمیں ہی بت کے لیے بولا تو گیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں لفظ کی وضاحت دیگر قرائن مثلاً معنی، نسبت، جملہ (الفاظ کی ترکیب)، موقع و محلاور عقیدہ کو دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جائے گا۔
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ (125) اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ (126) (سورۃ الصافات)
قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ (سورۃ ھود، آیت: 72)
ایک آیت (سورۃ الصافات) میں بت (بعل) کو پکارنے پر تنبیہ ہے اور رب العالمین سے دوری پرحیرانگی، موقع دعوت و اصلاح ہے اور اللہ رب العالمین کے مقابل یہ لفظ بت کے لیے استعمال ہوا۔ جبکہ دوسری آیت میں بعل کی نسبت زوجہ ابراھیم علیہ السلام نے اپنے ساتھ جوڑی اور وہبچے کی بشارت پر اپنے اورشوہر کے بڑھاپے کا ذکر کر رہی ہیں۔ قرآنی جملے کے پسِ منظر اور بقیہ تفصیل سے لفظ بعل کے استعمال کی وضاحت ہو گئی۔ ایسے لفظ کی صورت میں تفصیل ضروری ہے۔ اگر تفصیل (وضاحت) یا تردید ممکن نہ ہو تو راعنا کی طرح لفظ ترک کر دیا جائے گا۔
عیسی علیہ السلام کی مثال پرغور کیجئے۔ عیسائی، عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور خدا سمجھتے ہیں اور جبکہ مسلمانوں عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول سمجھتے ہیں۔ شخصیت ایک تھی، عقیدے دو تھے۔ جب قرآن مجید نازل ہوا تو اللہ رب العالمین نے اسی ایک شخصیت کے بارے میں قرآن مجید میں ہی کفریہ عقیدے کا رد کیا، صحیح عقیدہ بیان کیا۔ قرآن مجید نے بارہا ان کوعیسٰی بن مریم (علیہما السلام) کے نام سے پکارا مریم کا بیٹا قرار دیا اور اللہ کا کلمہ قرار دیا۔ قرآن مجید میں بیان کردہ تفصیل سے معلوم ہوگیا اسی ایک ہی شخصیت سے متعلق حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔
عام حالات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے مابین عیسی علیہ السلام کی شخصیت کے حوالے سے گفتگو اور وضاحت کی صورت نادر ہی ہو گی، چہ جائیکہ کوئی مذہبی مکالمہ وغیرہ ہو۔ لیکن عیسائی جب پیدائش کا تہوار مناتے ہوئے میری کرسمس Merry Christmas کے الفاظ کہتا ہے تو وہ اپنے عقیدے کے مطابق، خدا کے بیٹے کی پیدائش کے تہوار کی مبارک دے رہا ہے۔ تو غور فرمائیے مسئلہ کیا ہے؟ (1) قرآنِ مجید میں لفظ راعنا کا استعمال ترک کرنا۔ (2) سورة المجادلة کی آیت 8 کی روشنی میں اہلِ کتاب کا خیر مقدمی کلمات سے متعلق غلط طرزِ عمل۔ (3) میری کرسمس کے کلمات کا عیسائیوں کے مذہبی تہوار کا موقع سے منسلک ہونا۔ (4) عیسائیوں کا مخصوص الفاظ سے آپس میں تہینتی کلمات کا تبادلہ کرنا۔ (5) مذہبی تہوار کی مناسبت سے غیر عیسائیوں کو عیسائیت کا غیراعلانیہ یا Soft تعارف (6) مسلمانوں کا بعینہ انھی کلمات سے جوابی مبارک باد دینا۔
اگر عیسائی نے جراءت کرکے مسلمان کو میری کرسمس کہہ کر اپنے مذہبی تہوارکی مبارک دے دی ہے تو مسلمان کو بھی چاہئے کہ جراء تکر کے اپنے عقیدے کی وضاحت کرکے کفریہ عقیدے سے براءت کرے وگرنہ کم از کم جوابی مبارک سےکفریہ عقیدے کی تائید نہ کرے۔
(10C) غزوہ احد کے موقع پر کفار نے جب غیراللہ کی بڑائی بیان کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوابی طرزِعمل دیکھئے۔ یاد رہے ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا: "۔۔۔ اس کے بعد وہ (ابو سفیان) فخریہ رجز پڑھنے لگا‘ أُعْلُ هُبَلْ، أُعْلُ هُبَلْ ہبل ( بت کا نام ) بلند رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ہم اس کے جواب میں کیا کہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو کہا للَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ اللہ سب سے بلند اورسب سے بڑا بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا إِنَّ لَنَا العُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ ہمارا مددگار عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا کوئی بھی نہیں، آپ نے فرمایا، جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے عرض کیا، یارسول اللہ! اس کا جواب کیا دیا جائے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ کہو کہ اللَّهُ مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ اللہ ہمارا حامی ہے اور تمہارا حامی کوئی نہیں ۔" (صحیح بخاری: 3039)

11۔ راعنا مت کہو

نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ ایمان والے لوگوں کو کہیں کہ ”راعنا“ نہ کہا کریں، ”انظرنا“ کہا کریں [٢:١٠٤]۔ اسی طرح اگر کسی کو لگتا ہے کہ میری کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا ہے (جو کہ نہیں ہے) تو اسے ہیپی برتھ ڈے ٹو عیسیٰ کہہ کر تصحیح کر دیں۔
11۔ تبصرہ:
(11A) مسلمانوں کو ان الفاظ کے استعمال سے روک دیا جن کے ذریعے یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی توہین کرتے تھے۔ متبادل الفاظ بتا بھی دئیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گفتگو کے لیے متوجہ کرنا تو اس دور میں مسلمانوں کے لیے لازمی اور ضروری امر تھا۔ رَاعِنَا کا لفظ ابتدائی طور پر مسلمان روز مرہ میں استعمال کرتے تھے، یہود نے اسی لفظ کو استعمال کرکے توہین کی راہ ہموار کی۔ جبکہ میری کرسمس کا لفظ نہ ابتدائی طور پر مسلمانوں نے کہنا شروع کیا، نہ ہی اس کا استعمال روزمرہ میں ضروری ہے اور نہ ہی میری کرسمس کا جواب دینا کوئی ضروری امر ہے۔
اگر مسلمانوں کو رَاعِنَا کا لفظ ترک کرنے کا کہا گیا جس کی پشت پر کوئی شرکیہ عقیدہ نہ تھا تو میری کرسمس یا ہیپی برتھ ڈے ٹو عیسیٰ (علیہ السلام) کے الفاظ جو کہ عیسائیوں کی کفریہ عقیدے پر مبنی عید کے تہینتی کلمات ہیں ان کو ترک کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اللہ تعالی کی توہین کے مرتکب افراد سے براءت کا اظہار کریں۔ تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (90) أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدًا (91)آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔ کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔ (سورۃ مریم، آیت: 90-91)
رَاعِنَا کے متبادل جب انظُرْنَا کا لفظ بتایا گیا تو توہین کا یہ دروازہ بند ہو گیا۔ لیکن کیا میری کرسمس کے جواب میں ہیپی کرسمس کہنے سے اپنےعیسائیوں کی کفریہ عقیدے پر مبنی عید میں خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا یا براءت کا؟
(11B) میری کرسمس کے جواب میں آپ ہیپی برتھ ڈے ٹو عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے تو ان جوابی الفاظ سے خیرسگالی اور ظاہری تائید ہی جھلک رہی ہے۔ آپ نے جواباً کچھ کہنا ہے ہی تو الفاظ اورعقیدہ دونوں کی اصلاح فرمایئے۔ ان کو وہ الفاظ اور عقیدہ بتائیے جو قرآنِ مجید نے بتلائے۔ (یعنی سورۃ الاخلاص) ان کو وہ الفاظ اور عقیدہ بتائیے جو رسول اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے سامنے پیش کیا اور جو پیغام ہرقل کو خط سے بھیجا۔ (دیکھئے نقطہ: 7 C) ان کو وہ الفاظ اور عقیدہ بتائیے جو نجاشی کے سامنے جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے پیش کیا۔ (دیکھئے نقطہ: 7 B)
(11C) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور ان لوگوں کے ہاں دو دن تھے کہ وہ ان میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’یہ دو دن کیا ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم دورِ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دئیے ہیں۔ اضحیٰ (قربانی) کا دن اور فطر کا دن (یعنی عید الاضحی اور عید الفطر)۔‘‘ (ابوداؤد: 1134، صحیح)
یعنی لوگ دورِجاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے، خوشی منایا کرتے تھے۔ Relax اور Enjoy کیاکرتے تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دو دنوں کے بدلے ان سے دو بہتر دن دے دیئے ہیں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دورِ جاہلیت کے عید اور خوشی کے دو دن متعین Fixed تھے، ان کو برقرار نہیں رکھا، نہ مسلمانوں کو کہا کہ ٹھیک ہے آپ بھی یہی دو دن عید منا ئیں، نہ مسلمانوں کو یہ کہا کہ آپ یہ دو دن بھی عید منائیں اور میں دو دن مزید بھی دے دیتا ہوں، نہ ان عید منانے والے غیرمسلموں کو مبارک باد دی۔ بلکہ غیر مسلم کے مقرر کردہ عید کے دنوں کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں دی، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے تمیں دو بہتر دن عطا کر دیئے۔ نہ اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے جاہلیت کے ان دو روز میں کبھی عید منائی۔ اب نجانے کیوں بعض مسلمان، غیر مسلموں کی عیدیں منانے کے لیے بے چین ہیں؟
(11D) وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ (57)فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (58)
اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔ (سورۃالأنبياء: 57-58)
مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ابراھیم علیہ السلام کی قوم عید منانے کے لیے گئی اور ابراھیم علیہ السلام نے مشرک قوم کی عید کے دن قوم کی عدم موجودگی میں ان بتوں کو توڑ دیا (دیکھئے: تفسیر قرطبی، تفسیر ابن کثیر، تفسیر بغوی) ابراھیم علیہ السلام کا مشرکین کی عید پر طرز عمل دیکھئے اور دورِ حاضر میں مشرکین کی عید پر مبارک باد دینےکے لیے بے تاب، بے چین، بے قرار اور بے کل لوگوں کو دیکھئے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ۔۔۔ تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔ (١) جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ (٢) ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی۔ (سورۃ الممتحنة، آیت: 4)

12۔ کرسمس منانے والوں کی مراد

آج کے دور میں کرسمس منانے والوں اور اس کی مبارک باد دینے والوں کی اکثریت میری کرسمس کہنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا جشن ہی مطلب لیتے ہیںَ۔ بالفرض لغوی اعتبار سے میری کرسمس کا اگر کچھ دوسرا مطلب بنتا بھی ہے (جو کہ نہیں بنتا) لیکن میری کرسمس کا وہی مفہوم معتبر سمجھا جائے گا جو رائج ہوگا۔ اردو میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےلغوی معنی کچھ اور ہیں لیکن ہم انہیں دوسرے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے غزل، عورت، شعراور شوربا وغیرہ۔
12۔ تبصرہ:
میری کرسمس Merry Christmas اور ہیپی کرسمس Happy Christmas ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ گویا یہ کرسمس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کرسمس کیاہے؟ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے جوکہ سالانہ منایا جاتا ہے۔ 25 دسمبر کوعیسائی یہ تہوار مناتے ہیں، یہ اس کا معنی ہے۔ کرسمس Christmas ("Christ's Mass") دو الفاظ کا مرکب ہے۔ عبرانی زبان کے لفظ مسیح کو یونانی میں Christ کہا جاتا ہے اور Mass کا اصل لاطینی لفظ Missa ہے جو "عشائے ربانی" کی ایک مسیحی رسم سے متعلق ہے۔ یہ رسم مصلوب ہونے سے قبل آخری کھانے سے جڑی ہے۔
حوالہ کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

کرسمس، بمطابق ویکیپیڈیا ویب سائٹ


کرسمس کا اصطلاحی معنی کیا ہے؟ بطورِ ٹرمنالوجی Terminology اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ ہم آپ کے سامنے بیان کرتے۔
لیکن اس سے پہلے ہم عیدالفطر کی مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ جب ہم عیدالفطر کہتے تو اس سے مراد صرف سویوں کی عید نہیں ہوتی۔ عیدالاضحیٰ سے مراد صرف گوشت کی عید نہیں ہوتی، بلکہ عیدالفطر کے ساتھ بہت ساری چیزیں منسلک ہیں۔ اس میں عید کی نماز ہے، تکبیرات ہیں، اس سے پہلے روزے ہیں، قیام اللیل ہے اور زکوٰۃ فطر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو سب عبادت کے ساتھ ریلیٹڈ Related ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں، اور اس کےبعد عید الفطر آتی ہے۔
اسی طرح عیدالاضحیٰ کو اگر دیکھیں تو عیدالاضحیٰ کے ساتھ جانورں کی قربانی، اسماعیل علیہ السلام کی قربانی، ابراہیم علیہ السلام کی قربانی، ذوالحجہ کے ایام، حج کا تعلق ہونا، قربانی کی شرائط، یہ ساری چیزیں اس کے ساتھ منسلک ہیں اور اس کے مفہوم سے متعلق ہیں۔
اب اسی طرح ہم کرسمس کا مفہوم دیکھتے ہیں۔ بشپ مائیکل کری Bishop Michael Curry عیسائی سکالر ہے اور بشپ نے برطانوی شہزادہ Prince Harry کی شادی پر Sermon تقریر کی تھی۔ بشپ میڈیا پروگرام This Morning CBS میں اظہارِ خیال کے لیے آئے(1) تو بشپ سے سوال کیا گیا کہ ?What is the real meaning of Christmas "کرسمس کا حقیقی معنی کیا ہے؟"، تواُس کا جواب دیتے ہوئے بشپ نے کہا:

The real meaning of Christmas is that God made a decision to show us what we mean to God. There is a text in the New Testament John’s Gospel: God so loved the world that he gave his son (his only son) that’s the key to the meaning of Christmas.(2)

ترجمہ: "کرسمس حقیقی معنی یہ کہ خدا نے ایک فیصلہ کیا، یہ دکھانے کے لئے کہ ہم اس کے نزدیک کتنی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور عہد نامہ جدید یوحنا باب 03 میں متن ہے: 'کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بَیٹا بخش دِیا۔' کرسمس کے معنی کو سمجھنے لیکن یہ کنجی (بنیادی بات) ہے۔"
ویڈیو درج ذیل لنک پر دیکھئے:

Bishop Michael Curry on the true meaning of Christmas


اسی طرح معروف (مسیحی ویب سائیٹ) gotquestions.com پر بھی اسی طرح کا جواب دیا گیا ہے، اور John 3: (16,17) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ان حوالوں References سے یہ بات بڑی واضح ہو گئی ہے کہ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے، اس کے پیچھے فکر یہ ہے کہ 'عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں اور خدا نے اپنا بیٹا اس دنیا میں بھیجا۔' اس مفہوم کے بعد اگرآپ کو کوئی ان الفاظ میں مبارک باد دے کہ "خدا کے بیٹے کی پیدائش کی عید مبارک" یا "خدا کے بیٹے کی پیدا ئش مبارک" تو آپ کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ کیا آپ بھی اُسے ویسے ہی Reciprocate کریں گے؟ یا جوابی مبارک باد میں وہی الفاظ کہیں گے؟ تو اس تفصیل سے اندازہ ہوگیا کہ کرسمس کا یہی اصل مفہوم ہے۔ ان ظاہری مختصر الفاظ سے جو مفہوم منسلک ہے وہ ہم نے عیسائی مبلغین سے ریفرنس کے ساتھ واضح کر دیا۔

13۔ سال گرہ

سالگرہ کی مبارک صرف زندہ شخص کے لیے۔۔۔
سالگرہ پر ایک اعتراض یہ کہ، سالگرہ مبارک صرف زندہ شخص کو کہا جا سکتا ہے۔
اس اعتراض کا مطلب اس بات کا اقرار ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ سوائے چند جدت پسندوں کے تمام مسلمان ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ تسلیم کرتے ہیں۔
13۔ تبصرہ:
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (157) بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (158) وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (159) (سورۃ النساء)
مسلمانوں کا عقیدہ کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ آخر زمانے میں دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ ان کو صلیب پر نہیں کھنچوایا گیا اور نہ ان کو قتل کیا گیا ۔
عیسائیوں کا عقیدہ مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عیسی (علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھایا گیا۔ ان کو صلیب پر موت آئی۔ البتہ مسیحی عقیدہ میں مسیح کی صلیب پر موت بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے ضروری تھی۔ اس طرح گویا مسیح نے خود سخت تکیف اٹھا کراور موت کا جام پی کر تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔ مسیحی عقائد کے مطابق یسوع مسیح اپنے مصلوب ہونے کے تسرے دن دوبارہ جی اٹھے۔ آمد ثانیاً ظہور دوم کے مسیحی عقیدہ جسے یسوع مسیحِ کی آمد شخصی طور پراسی زمین پر آخر زمانہ میں ہو گی۔ ایک تو یہ وضاحت ضروری تھی کہ مسیح کی موت کا عقیدہ تو عیسائیوں میں پایا جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف سال گرہ نہیں بلکہ سال گرہ سے بڑھ کر کفریہ عقیدے پر مبنی تہوار (عید) ہے، جس کو کلیسا اور عیسائی مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ یہ عام فرد کی سال گرہ بھی نہیں، یہ خدا کے بیٹے کی پیدائش کا تہوار ہے۔ سو کفار کا تہوار (عید) منانا، مسلمان کے لیے درست نہیں۔

14۔ عید اور روزوں پر مبارک باد

متفقہ اجماع۔۔۔ جہاں تک اس اجماع کی بات ہے کہ کافروں کو ان کے قومی شعائر پر مبارک باد دینا بالاتفاق حرام ہے جیسا کہ ان کی عیدوں اور روزوں پر مبارک باد دینا حرام ہے اور غیرمسلموں کو شادی، بچے کی پیدائش وغیرہ پر مبارک باد دی جا سکتی ہے یا نہیں اس بارے اختلاف ہے۔
اس بارے میں عرض ہے کہ پچھلی قوموں کے لیے خوشی کے موقعوں کا ذکر قرآن [٥:١١٤] میں بھی موجود ہے۔ پچھلی قوموں پر اللہ تعالیٰ نے روزے بھی فرض [٢:١٨٣] کیےتھے۔ جب ہم پر اور پچھلی قوموں پر روزے اللہ تعالیٰ نے ہی فرض کیے تو روزوں پر مبارک باد دینا کیوں حرام ہے؟
14۔ تبصرہ:
قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار، جو ہمارے پہلوں اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور تو سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔ (سورۃ المائدة: آیت 114)
سورۃ المائدۃ میں بیان کردہ خوشی کے موقع کو عیسی علیہ السلام نے عید قرار دیا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عید منائی؟ یا عہدِ نبوی میں عیسائیوں کو اس عید پر مبارک باد دی تھی؟
اہلِ کتاب کو عبادات اور عید وغیرہ کی مبارک باد دینا اس لیے درست نہیں کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد جو شریعت منسوخ ہوگئی اس منسوخ شدہ شریعت پرعمل کی کیسے مبارک دیں؟ اور کفریہ عقیدے پر مبنی عید کی کیسے مبارک باد دیں؟
نقطہ (11C) میں ہم نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں کفار کا تہوار دیکھ کر نہ اس میں شرکت کی ، نہ اس کی مبارک باد دی، بلکہ کہا کہ اللہ رب العالمین نے مسلمانوں کو ن کے بدلے دو بہتر دن دئیے ہیں۔

15۔ بچے کی پیدائش اور شادی کی مبارک باد

ایک طرف ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام بچے دینِ توحید پر پیدا ہوتے ہیں مگر اس بچے کی پیدائش کی مبارکباد دینے میں اختلاف کیوں ہے؟ اب بچے کا تو کوئی قصور نہیں کہ وہ غیر مسلم کے گھر پیدا ہوا۔ یہی حال شادی کا ہے، شادی سے معاشرے کی بہت سی اخلاقی برائیاں ختم ہوتی ہے۔ مسلمان مردوں کو غیر مسلم عورتوں (اہلِ کتاب) سے شادی کی اجازت ہے مگر انہیں شادی کی مبارک باد دینے میں اختلاف کیوں ہے؟
15۔ تبصرہ:
(15A) جو امور اہلِ کتاب کے دین، عبادت، شعائر، خاص علامت سے متعلق نہیں، ان پر مبارک باد کا جواز ہے، مثال:۔ بچے کی پیدائش کی مبارک باد، شادی کی مبارک باد (یاد رہے تقریب میں شرکت کے جواز کی بات نہیں ہو رہی)۔ لیکن ایسی مبارک باد دیتے ہوئے مسلمان فرد، الفاظ کا چناؤ شرعی ضوابط کے مطابق ہی کرے گا۔ اگر ان مواقع کے ساتھ کوئی مذہبی رسم، تقریب اور عبادت منسلک ہو جائے گی تو پھر اس جواز کی شرعی حیثیت بھی بدل جائے گی۔
اہلِ کتاب کے ساتھ کھانا کھانے، تجارت کرنے وغیرہ میں حرج نہیں۔ اسی طرح مریض کی عیادت کا بھی جواز ہے۔
(15B) ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حنین کے لیے نکلے تو آپ ﷺ کا گزرمشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذَاتُ أَنْوَاطٍ (ذات انواط) کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقررفرما دیجئے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’سُبْحَانَ اللَّهِ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہا جْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کروگے۔ (جامع ترمذی: 2180، صحیح، الالبانی)تفصیل کے لیے دیکھئے۔ سورۃ الأعراف، آیت: 138، تفسیر القرطبی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ برکت حاصل کرنے کے لیے درخت مخصوص کرنے کی خواہش اور اس کے لیے مشرکین کی مشابہت پر آپ نے بہت سخت تنبیہ کی، بلکہ قوم موسی (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی۔ پھر کہا کہ تم گذشتہ امتوں (یہود و نصارٰی) کو Follow کروگے۔ اب حال یہ ہے کہ کوئی عیسائیوں کو Merry Christmas کہنے کے لیے دلائل تلاش کر رہا ہے۔ کوئی مصنوعی Christmas Tree کی شاخیں لے کر ان کو چاند (ہلال) کی شکل دے کر رمضان کے لئے Ramzan Tree بنا رہا ہے۔
امریکی ریاست مشی گن کی ایک خبر دیکھئے:

Muslim moms make moon-shaped Ramadan trees — and they're a hit


"میری کرسمس" کے عنوان سے لکھی گئی تحریر کا جواب "کرسمس: شبہات کے جوابات (1-15)" کے عنوان سے مکمل ہوا۔ اس جواب میں 15 نقاط کی صورت میں تمام شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔

الحمدُللَّهِ الَّذي بنِعمتِهِ تتمُّ الصَّالحاتُ

نوٹ: اس تحریر کو ویڈیو میں بھی اپ لوڈ کیا جائے گا، ان شاءاللہ!