سوال : میرے دوست نماز پڑھنے کے حوالے سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کیا کروں ؟
جواب:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابو جہل نے سرداران قریش سے پوچھا کیا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے روبرو اپنا چہرہ مٹی میں آلودہ کرتا ہے؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ ابوجہل کہنے لگا اگر میں نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں اس کا چہرہ روند دوں گا۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا کہ آپ کو نقصان پہنچائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ روند دے۔ تو یکا یک ایڑیوں کے بل پلٹا اور گویا اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔ پوچھا کیا ہوا ؟تو کہنے میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول (پیدا کرنے والی مخلوق )اور بہت سے پر تھے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔
صحیح مسلم: 7065
تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گویا اس نے یہ دھمکی دی اور threat کیا۔ عملی طور پر اس کی کوشش بھی کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ روند دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پر ثابت قدمی اختیار کی۔
2۔ دوسری حدیث کے مطابق
مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ کیا تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لئے مارڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے
(مختصرا)صحیح بخاری: 3856
3۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے ،ایک سب سے زیادہ بدبخت آدمی (اونٹنی کی) اوجھڑی لے کر آیا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں یہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! ( اس وقت ) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور ( ہنسی کے مارے ) لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ( بوجھ کی وجہ سے ) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا۔ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ یا اللہ! تو قریش کو پکڑ لے
(مختصرا) صحیح بخاری: 240
تو ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی گئیں۔ آپ کو دھمکیاں دی گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ادائیگی پر ثابت قدم رہے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ رب العالمین نےذکر کیا اور یہ آیت نازل کی
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب
ہرگز نہیں، اس کا کہنا مت مان اور سجدہ کر اور(رب کے) بہت قریب ہوجا
۔(سورة العلق آیت19)۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ لوگ صرف زبان سے آپ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، آپ کو discourage کرتے ہیں۔ تو آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نماز ادا کریں۔ ثابت قدم رہیں ۔
نوٹ: یہ اصلا ویڈیو درس ہے جو 26اگست 2019ء کو میرےیو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا تھا ۔ اس کے متن کو معمولی ردوبدل کے ساتھ تحریری شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔)