قربانی یا غریب کی مدد؟ (حصہ اول)
کورونا میں قربانی کی جائے یا غریبوں کی مدد کی جائے؟ یہ سوال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح اگرکوئی ایسی صورتحال پیش ہوجاتی ہے جیسے سیلاب کا معاملہ ہوجائے یا زلزلے کا معاملہ ہوجائے تو یہ سوال کیا جاتا ہے۔ یا کوئی آفت و پریشانی آجائے تو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ قربانی کرنی چاہیے یا غریب کی مدد کرنی چاہئے؟اس حوالے سے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ قربانی اللہ تعالٰی کی طرف سےعائد کردہ ایک ذمہ داری ہے اور اللہ رب العالمین نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ (سورۃ الکوثر، آیت نمبر: 02) اس لئے قربانی ہر صاحبِ استطاعت کے لیے لازمی ہے۔ جب استطاعت نہیں تو وہ قربانی نہیں کرے گا اور جب استطاعت ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قربانی کرے۔ آفت ومسائل میں یا اس طرح کے حالات میں قربانی کا حکم ختم نہیں ہوتا نہ قربانی ساقط ہوتی ہے۔ بلکہ قربانی کی ادائیگی اور قربانی کی ذمہ داری برقرار رہے گی۔
کچھ تفصیلات ہم ذکر کرتے ہیں جن سےاس معاملے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو شخص یہ سوال کرتا ہے تو یقیناً ہم ایسے ماحول کی بات کررہے ہیں جو اسلامی معاشرہ (پاکستانی) ہے۔ اس میں یہ سوال بعض لوگوں کی جانب سے سامنےآتا ہے۔
(1) سوال کرنے والے سے پوچھا جائے گا کیا آپ زکوٰۃ دیتے ہیں؟ تو اگر آپ زکوٰۃ دے رہے ہیں تو آپ زکوٰۃ سے اس غریب کی مدد کرسکتے ہیں۔جو غریب کسی بھی پریشانی کا شکار ہے، کسی بھی مصیبت کا شکار ہے۔ محتاج ہے، مسکین ہے، حاجت مند ہے، ضرورت مند ہے، تو آپ اپنی زکوٰۃ سے اس کی مدد کرسکتے ہیں یا کسی اہلِ خیر کی اس طرف توجہ دلا سکتے ہیں کہ وہ اپنی زکوٰۃ سے اس کی مدد کردے۔ اسلام نےزکوٰۃ کا بہت بڑا باب رکھا ہے۔ ہر صاحبِ نصاب پرلازم ہے کہ وہ فقراء اور مساکین کے لیے اپنے مال میں سے حصہ رکھے تو یہ مدد کی ایک صورت ہے۔
(2) آپ اپنےمال میں صدقہ کرسکتے ہیں۔ نفلی صدقہ کرسکتے ہیں۔ جسکی بہت ساری فضیلتیں ہیں۔ شریعت نےاس کی طرف ترغیب دلائی ہے تو دوسری صورت یہ ہے کہ آپ صدقہ کریں۔
(3) اسی میں اکمل حق باتیہ ہے کہ مسلمان جو رقم فضولیات پر خر چ کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی ویلنٹائن ڈے مناتا ہے تو اس کو چاہیے کہ ویلنٹائن ڈے نہ منائے اور یہ جو اضافی رقم ہے اللہ تعالٰی کی راہ میں دے دے۔ ایک تو فضولیات سے بچ جائے گا اور دوسرا رقم صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔
جو رقم تعیشات پہ خرچ کی جاتی ہے مثلاً بڑے ملٹی نیشنلFood Chainپر جا کر کھانا کھایا جاتا ہے تو وہ نہ کھایا جائے ایک بار، دوبار، چاربار۔ وہ رقم ہے کسی غریب کو دے دی جائے۔
اپنی ضروریات میں سے کچھ رقم پس انداز کر لی جائے۔Savingکرلی جائے۔ مثلاً کھانا ہے آپ دو ٹائم کھاتے ہیں تین ٹائم کھاتے ہیں۔ ایک دن تین ٹائم مت کھائیے دو ٹائم کھا لیجیے۔ ایک دن ایسی چیز کھا لیجئے جو سستی بنتی ہے۔ یا ایک دن روزہ رکھ لیجئے۔
تو اپنی فضولیات میں سے، تعیشات میں سے اور ضروریات میں سے، تینوں میں سے غریب کے ساتھ تعاون کیجئے۔
(4) غربت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی تھی۔ بھوک کے بہت سارے واقعات ملتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھانے کے لیے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح لباس کی تنگی تھی۔ لیکن ان تمام معاملات کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ایک بھی بار ساقط نہیں کی۔ بلکہ ایک حدیث ہم اس حوالے سے پیش کرتےہیں:
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جہاں لوگ قربانیوں کے لیے موجود تھے (قربان گاہ میں) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین دن تک کے لیے گوشت رکھ لو۔ جو باقی بچے (سب کا سب) صدقہ کر دو۔" دوبارہ جب اس (قربانی) کا موقع آیا تو لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! لوگ تو اپنی قربانی (کی کھا لوں) سے مشکیں بناتے ہیں اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا مطلب؟" انھوں نے کہا: یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرمایا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت (وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آئے تھے۔ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُواب (قربانی کا گوشت) کھاؤ رکھو اور صدقہ کرو۔" صحیح مسلم: 1971(5103)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ لوگ پریشانی اور مشکل میں آئے اور حاجت مند تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ساقط نہیں کی بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دے دیا کہ آپ لوگ اپنی قربانیوں میں سے گوشت صرف تین دن کے لئے رکھیں باقی ان لوگوں میں (فقراء اور مساکین میں) تقسیم کردیں تو آج بھی اگر ایسے حالات ہو تو زیادہ مقدار گوشت کی صدقہ کرنی چاہیے۔ تاکہ فقراء اور مساکین پر جو مصیبت ہے اس کی شدت میں کمی آسکے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے یہ صراحت ہوجاتی ہے۔
(5) قربانی بذاتِ خود غریبوں کی مدد ہے جیسے ابھی ہم نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ضرورت مند غریبوں کو گوشت دے دیا۔ تو ظاہر ہے گوشت یہ بھی کھانے کی چیز ہے اور غریبوں کو بھی اسکی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو سارا سال گوشت نہیں کھا سکتے انکو بھی اس کی احتیاج ہوتی ہے تو بذاتِ خود یہ گوشت دینا غرباء کی مدد ہے۔
مدد کے حوالے سے دوسری اہم بات قربانی کاCircleہے۔ اس Business Circleسے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کا چولہا جلتا ہے مثلاً جو مویشی پالنے وال اہے اسکو اس سے روزی ملتی ہے وہ منڈی میں اپنے جانور لے کر آتا ہے اور اس جانور کو لوگ خریدتے ہیں۔ اسی طرح مویشی منڈی والے ہیں منڈی لگاتے ہیں یا منڈی کا ٹھیکہ لیتے ہیں انکو آمدن ہوتی ہے۔نقل و حمل Transportation والے لوگ اس سے روزی حاصل کرتے ہیں۔ عید کے دنوں میں جو چارہ اضافی فروخت ہوتا ہے۔ قصابButchersگوشت بناتے ہیں ان تمام کو روزی حاصل ہوتی ہے۔ ان جانوروں کی کھالیں اتار دی جاتی ہیں پھران کو محفوظ کیا جاتا ہے اس سےTannery Industry ہےچلتی ہے اور لاکھوں لوگوں کو اس سے روزگار ملتا ہے۔ اسی چمڑےLeather کی جیکٹس اور بہت سا ری مصنوعات بنتی ہیں۔ لوکل استعمال ہوتی ہیں اور ایکسپورٹ ہوتی ہیں۔ بھرپور بزنسGenerateہوتا ہے۔ روزگار ملتا ہے، بے روزگاری ختم ہوتی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں حکومتیں جو روزگار سکیم چلاتی ہیں مثلاً: "اپنا روزگار سکیم"۔ سکیم میں گاڑی دی جائے گی۔ (نوٹ: ایسی سکیم میں سودی پہلو ہو، تو ایسی سکیم درست نہیں)۔گاڑی دینے کا کیا مقصد ہے؟ کہ لوگ اس گاڑی کے ذریعے اپنا روزگار کمائیں گے۔ تو ایسا ہی فائدہ اگر اسلام کے حکم سے ہو تو کیا مضائقہ؟ قربانی ایک تو اللہ تعالی کی عبادت ہے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے۔اسلام کا شعائر میں سے ایک شعیرہ ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔
قربانی ضروری ہے (حصہ دوم)
سوال کیا گیا ہے کیا قربانی کرنا ضروری ہے؟قربانی کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں، اللہ رب العالمین کی قربت حاصل کرنے کے لئے، اللہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عیدالاضحیٰ پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو قربانی کہا جاتا ہے۔ صاحبِ استطاعت (ایسا شخص جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہے) کے لیے اور مالی استطاعت رکھنے والے کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔ اس رائے کو کئی علماء نے اختیار کیا ہے۔ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔ اس کے حوالے سے دلائل پیش خدمت ہیں:
(1) اللہ رب العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۃ الانعام، آیت: 162) کہہ دیجئے بیشک میری نماز میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔ اللہ رب العالمین نے یہ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوائی اس میں قربانی کا ذکر بھی ہے اور یہ قربانی کی اہمیت پر دال ہے۔
(2) اللہ رب العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (سورۃ الکوثر، آیت نمبر: 2) پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کردو۔ جس طرح نماز کا ذکر کیا اسی طرح ساتھ قربانی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ نماز پڑھیئے اور قربانی کیجیئے۔ سو جیسے نماز کی اہمیت ہے ایسے ہی قربانی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔
(3) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا» (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 3123) جس کے پاس وہ وسعت ہے وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہمارے مصلے کے قریب نہ آئے ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ محدث البانی رحمہ اللہ نےاس حدیث کوحسن کہا ہے۔
(4) مخنف ابن سلیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدانِ عرفات میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ((يَاأَيُّهَا النَّاسُ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ)) لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے۔ (جامع الترمذی: 1518)۔ محدث البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوحسن کہا ہے۔
پچھلی حدیث (ابنِ ماجہ) میں قربانی کو گنجائش (یعنی استطاعت) کےساتھ اس کو مشروط کردیا گیا، کہ صاحبِ استطاعت قربانی نہ کرے تو ہماری عیدگاہ (مصلے) کے قریب نہ آئے۔ حالیہ حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ہر گھر والوں پر ایک ہرسال قربانی ہے۔ یہ دونوں احادیث قربانی کےلازمی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
(5) جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔ (صحیح بخاری: 5562)
تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تاکید کرنا کہ جس نے قربانی نماز سے پہلے کرلی وہ دوبارہ قربانی کرے۔تو گویا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی تاکید کر دی اور اس کو لازمی قرار دے دیا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی بلکہ دوسری بار اس کو لازم قرار دیا۔ ساتھ یہ کہا کہ جس نے قربانی نہیں کی وہ بھی اپنی قربانی کرے تو یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔
جو علماء قربانی کے وجوب کے قائل ہیں وہ یہ دلائل پیش کرتے ہیں۔ سو صاحبِ استطاعت پر قربانی کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ البتہ جس کے پاس استطاعت نہیں ہے وہ قربانی مت کرے۔
وضاحت: قربانی اسلام کے شعائر میں سے ایک شعیرہ ہے۔ یاد رہے کہ تمام گھر والوں کی طرف سے ایک جانور (ایک بکری یا بھیڑ) کافی ہے۔ اگر کوئی زیادہ کرناچاہے، گائے کرنا چاہے، اونٹ کرنا چاہے یا ایک سے زائد بکریاں کرنا چاہے، دو یا تین حصے کرنا چاہے، تو کر لے۔ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے باعثِ اجر ہے۔ لیکن ایک جانور بہرحال کافی ہے۔ اللہ رب العالمین مجھے اور آپ کو قربانی کے مسائل کی سمجھ دیں اور اس میں عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
قربانی کا گوشت ضائع نہیں ہوتا (حصہ سوم)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ بیان کیا کہ لوگ اپنی قربانی کی کھالوں سے مشکیں بناتے ہیں اور اس کی چربی کو پگھلا کر سنبھال لیتے ہیں۔ گویا چربی پگھلا کر اس چربی کو تیل کے طور پر یا جو فیٹس Fatsاس میں ہوتے تھے ان کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کھالیں بھی ضائع نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کے مشکیزے بنا لیے جاتے تھے یا اس کی مشکیں بنا لی جاتی تھیں۔ ان میں پانی محفوظ کیا جاتا تھا۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ صحیح مسلم: 1971(5103)اسی طرح گوشت بھی محفوظ کرلیا جاتا تھا اس کو خشک کر لیا جاتا تھاDried Meat کہلاتا تھا اور پھر یہ مہینوں تک محفوظ رہتا تھا۔اس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور لوگ استعمال کرتے تھے۔ نمک لگایا جاتا تھا۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید گوشت اس دور میں ضائع ہوجاتا تھا اور گوشت استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔فریجFridgeاس دور میں نہیں ہوتےتھے۔ خشک کرنے کا یہ طریقہ اس دور میں رائج تھا آج بھی رائج ہے۔ آج بھی بہت سارے لوگ اس طریقے کو استعمال کرتےہیں۔گوشت کو ابال کر دھوپ میں سکھا لیتے ہیں۔ پھر اس پر نمک لگایا جاتا ہے۔ ہڈی والا گوشت کو سوکھنے کے لیے چارپائیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بغیر ہڈی کے گوشت کو دھاگوں میں پرو کر لٹکا دیا جاتا ہے۔ چند دنوں میں یہ خشک ہوجاتا ہے۔
پھر یہ سارا سال استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تصور کہ گوشت سابقہ سالوں میں یا اب ضائع ہوجاتا ہے، درست نہیں ہے۔ کوئی اکا دکا واقعات کہیں ہوجائیں تو اور بات ہے۔ وگرنہ آج کل تو ویسے بھی ریفریجرٹر Refrigerator موجود ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے پاس جو غریب ہیں۔ جھگیوں میں رہتے ہیں چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں۔ انکے پاس فریج یا بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے وہ اسی طرح گوشت سکھاتے ہیں اور اس طرح ماضی میں بھی سکھایا جاتا تھا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ حج کے موقع پر سعودی عرب میں جب لاکھوں حاجی قربانی کرتے ہیں تو وہ گوشت ضائع ہوجاتا ہے۔ یہت صور بھی درست نہیں ہے۔ منی میں ایک بہت بڑا سلاٹر ہاؤسSlaughter Houseمذبح خانہ ہے۔ اسکےعلاوہ چھوٹے چھوٹے مذبح خانے اور مزارع (فارم ہاؤسز Farm Houses) موجودہیں۔ وہاں لوگ قربانیاں کرتے ہیں اور اپنا گوشت ساتھ لے جاتے ہیں۔ منی میں حاجیوں کے لیے بڑا مذبح خانہ بنا ہے۔ اس سارے معاملے کو Manage کرنے کے لئے "اضاحی" کا پروجیکٹ ترتیب دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر آپ مزید تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔ اس پراجیکٹ میں قربانی کی قیمت کی ادائیگی کے بعد کوپنCoupon جاری کیا جاتا ہے۔ اسکے بعد قربانی کرنے والے کو اختیار دیا جاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ادارے کو اپنا وکیل بنا لیں۔ ادارہ آپکی طرف سے قربانی کردے گا اور گوشت تقسیم کردے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خود جا کر قربانی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری قربانی ہورہی ہے آپکو اس کے لیے سہولیات دے دی جاتی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ آپ خود جا کر قربانی کرنا چاہیے تو اس کے لئے بھی سہولت موجود ہے۔ اگر آپ اس قربانی میں سے گوشت لینا چاہتے ہیں تو گوشت بھی آپ کو مل جاتا ہے۔
ادارے کے پاس جو بقایا گوشت رہ جاتا ہے۔ اس کو پہلے مکہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ حرم کے فقراء اور مساکین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو سرپلس Surplusہوتا ہے یا زیادہ ہوتا ہے اس کو دنیا کے 27 ممالک میں بھیجا جاتا ہے اور غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ حکومت کے بہت سارے ادارے جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ عدل، اسلامی مذہبی امورکی وزارت، حج وعمرہ کی وزارت اور شؤون الحرمین (مسجد نبوی اور مسجد حرام کے معاملات کا نگران ادارہ) وہ اسکیSupervision میں شریک ہوتے ہیں۔ تقریباً چالیس ہزار لوگ جن میں قصاب Butchers، ماہرینِ لائیوسٹاک کے ماہرین (مویشیوں کے ماہرین) ہیں، ویٹنریVeterinary ماہرین اورLogisticsکی پوری ٹیم ہوتی ہے جو اس کام کوسرانجام دیتی ہے۔ وہاں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں تو یہ پورا طریقہ کار اور سسٹم وہاں موجود ہے۔ اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت بھی اس لیے پیش آئی کہ لوگوں کی طرف سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ گوشت ضائع کردیا جاتا ہے۔ تو اس حوالے سے آپ "اضاحی" کی ویب سائٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ویب سائٹ وزٹ کرنے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
اور سوشل میڈیا پر آپ دیکھیں گے تو کچھ آپ کو ویڈیوز بھی مل جائیں گی جہاں منٰی کے مذبح خانہ سے متعلق تفصیلات دکھائی گئی ہیں۔
ویڈیو دیکھنے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
مشروع المملكة العربية السعودية للإفادة من الهدي والأضاحي
یہ سوچ رکھنا کہ قربانی کا گوشت ماضی میں یا حال میں یا حج کے موقع پر ضائع ہوجاتا ہے، درست نہیں ہے۔ کہیں ایک دو واقعات ممکن ہوسکتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
قربانی کے گوشت کی تقسیم کیسے؟ (حصہ چہارم)
قربانی کے گوشت سے متعلق 3 اشیاء ہیں:اول: قربانی کا گوشت ہے۔ اس میں گوشت کے ساتھ جانور کے جسم کے دیگرحصے شامل ہیں۔ مثال: سری پائے، گردے، کلیجی، تلی، کپورے اور اوجھڑی وغیرہ۔ یہ سب گوشت ہی کے تحت آئیں گے۔
دوم: جانور کی کھال ہے۔
سوم: جانور کی جھول ہے۔ جانور کے بدن پر جو کپڑا پڑا ہو اسے جھول کہتے ہیں۔
ان تین چیزوں کی تقسیم کے حوالے سے ہم چھے امور بیان کریں گے:
(1) پہلی بات جو تقسیم میں پیشِ نظر رہے وہ یہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کھاؤ"۔ سو یہ گوشت خود کھایا جائے، گھر والوں کو کھلایا جائے اور کھال وغیرہ کو اپنے استعمال میں لایا جائے۔
(2) "کھلاؤ" ۔ قربانی کرنے والا اپنے دوستوں کو، ہمسایوں کو، رشتہ داروں وغیرہ کو، گوشت کھلائے، تحفتاً دے۔
(3) ذخیرہ کرلیا جائے۔ قربانی کرنے والا، اپنی ضرورت کے لیے اسے ذخیرہ کر لے۔
(4) صدقہ کیا جائے۔ محتاج پر، مسکین پر، ضرورت مند پراور مدارس میں پڑھنے والے فقراء طلباء پر۔ ایک بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حسبِ حالات صدقہ زیادہ کرنا چاہیے۔ اگر فقراء اور مساکین کے حالات بہت زیادہ تنگی والے ہیں۔ محتاجی کسی بھی سبب سے، قحط کے سبب سے، کسی آفت کی وجہ سے، زیادہ ہے۔ تو پھر صدقے کا حصہ بڑھا دینا چاہیے۔
یہ جو چار باتیں ابھی ہم نے ذکر کی ہیں۔ کھاؤ، کھلاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔ اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور قرآن کی آیت ذکر کرتے ہیں:
فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (سورۃ الحج، آیت نمبر: 28) بس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں جو الفاظ آتے ہیں: فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا صحیح مسلم حدیث نمبر: 5103(1975)
عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جہاں لوگ قربانیوں کے لیے مو جود تھے (قربان گاہ میں) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین دن تک کے لیے گوشت رکھ لو۔ جو باقی بچے (سب کا سب) صدقہ کر دو۔" دوبارہ جب اس (قربانی) کا موقع آیا تو لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! لوگ تو اپنی قربانی (کی کھا لوں) سے مشکیں بناتے ہیں اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا مطلب؟" انھوں نے کہا: یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرمایا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت (وغیرہ استعمال نہ کیا جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آ پائے تھے۔ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا اب (قربانی کا گوشت) کھاؤ رکھو اور صدقہ کرو۔" صحیح مسلم میں5103(1975)
جب حالات میں تنگی ہو تو مسکینوں کو زیادہ دینا چاہیے یعنی صدقہ زیادہ کرنا چاہیے۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا قربانی کی کھالیں اور چربی وغیرہ ذاتی استعمال میں لائی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ کے لئے حکم دے دیا کہ جب حالات مناسب ہوں، تو پھر گوشت کھایا بھی جائے اور ذخیرہ بھی کیا جائے۔ اپنے پاس سنبھال کر اپنی انسان فریزر Freezer میں رکھ سکتا ہے۔ فریج میں رکھ سکتا ہے۔ اس کو خشک کر کے اپنی ضرورت کے لیے آئندہ استعمال کرسکتا۔ اسی طرح صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
دوسری حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا (جامع ترمذی: 1510) سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) ذخیرہ کرکے رکھو۔ یہ حدیث ترمذی میں ہے اور محدث البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ تو اس میں (دوسروں کو) "کھلانے" کا ذکر بھی ہے۔
(5) گوشت کی تقسیم میں کیا قصاب کا حصہ رکھا جائے گا؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (علی رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کردیں اور قصاب کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1717)
گوشت میں سے قصاب کو بطورِ مزدوری یا بطورِ اجرت (بطورِ سروسز) کچھ دینا درست نہیں۔ مثال کے طور پرقصاب ایک بکرا ذبح کرنے کے تین ہزار روپے بطورِ مزدوری لیتا ہے۔ تو اس کو کہہ دیا جائے کہ میں آپ کو دو ہزار روپے نقد دوں گا اور ایک ہزار کا گوشت دے دوں گا۔ یا یہ کہہ دیا جائے کہ آپ کوتین ہزار کے برابر گوشت قربانی سے دوں گا۔ تو یہ درست نہیں ہے۔ قربانی کے گوشت میں سے اسے مزدوری نہیں دی جائے گی۔ یا بطورِ مزدوری گوشت نہیں دیا جائے گا۔ آپ اپنی مرضی سے اس کو کچھ دینا چاہتے ہیں، ہدیہ کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
(6) غیر مسلموں کو گوشت دینا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے لیے ان کے گھرمیں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر (گوشت کا) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبریل پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنا دیں گے۔ (ترمذی: 1943 محدث البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔)
عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ کا اس بات کا اہتمام سے پوچھنا کہ یہودی پڑوسی کو اس بکری کے گوشت میں سے تحفہ بھیجا گیا ہے؟ اس کا کچھ گوشت یہودی پڑوسی کے گھر ارسال کیا گیا ہے؟ پھران کا پڑوسی کے ساتھ اچھائی کے حوالے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنانا۔
سعودی فتوٰی کمیٹی کا بھی یہی فتوٰی ہے کہ غیر مسلم کو گوشت دینا درست ہے۔ ایسے کافر جن کے ساتھ جنگ وغیرہ نہیں ہے۔ ان کی غربت کی وجہ سے، رشتہ داری کی وجہ سے، پڑوسی ہونے کی وجہ سے، ویسے تالیفِ قلب کے لیے قربانی کا گوشت دینا جائز ہے۔ سعودی فتویٰ کمیٹی نے قرآن کی آیت ذکر کی ہے کہ لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ "اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔" سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر: 08
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ اپنی والدہ کے ساتھ تعاون اور ان کے ساتھ صلہ رحمی وغیرہ کریں اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ حالانکہ اس وقت ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر کی والدہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (صحیح بخاری: 2620)
تو ان دلائل کے پیشِ نظر ایسے کفار جن سے جنگ نہیں ہے۔ جن کے ساتھ آپ کے تعلقات ہیں، آپ کے ساتھ امن کے معاہدے میں ہیں، آپ کے آس پاس رہتے ہیں۔ تو ان کو گوشت دینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ واللہ اعلم
یہ اصلاً ویڈیو درس ہے جو 20 جولائی 2020ء کو میرے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے متن کو معمولی ردوبدل کے ساتھ تحریری شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔