کرسمس، چند سوالات

کرسمس، چند سوالات

کرسمس کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات ہیں۔ ان سوالات و جوابات کو ہم نے چھے (6) عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔

1۔ میری کرسمس کا کیا معنی ہے؟

میری کرسمس Merry Christmas اور ہیپی کرسمس Happy Christmas ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ گو یا یہ کرسمس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کرسمس کیا ہے؟ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے جو کہ سالانہ منایا جاتا ہے۔ 25 دسمبر کو عیسائی یہ تہوار مناتے ہیں، یہ اس کا معنی ہے۔ اس کا اصطلاحی معنی کیا ہے؟ بطورِ ٹرمنالوجی Terminology اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ ہم آپ کے سامنے بیان کرتے۔
لیکن اس سے پہلے ہم عیدالفطر کی مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ جب ہم عیدالفطر کہتے تو اس سے مراد صرف سویوں کی عید نہیں ہوتی۔ عیدالاضحیٰ سے مراد صرف گوشت کی عید نہیں ہوتی، بلکہ عیدالفطر کے ساتھ بہت ساری چیزیں منسلک ہیں۔ اس میں عید کی نماز ہے، تکبیرات ہیں، اس سے پہلے روزے ہیں، قیام اللیل ہے اور زکوٰۃ فطر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو سب عبادت کے ساتھ ریلیٹڈ Related ہیں۔ اور پھر اس کے نتیجے میں اور اس کے بعد عیدالفطر آتی ہے۔ اسی طرح عیدالاضحیٰ کو اگر دیکھیں تو عیدالاضحیٰ کے ساتھ جانورں کی قربانی، اسماعیل علیہ السلام کی قربانی، ابراہیم علیہ السلام کی قربانی، ذوالحجہ کے ایام، حج کا تعلق ہونا، قربانی کی شرائط، یہ ساری چیزیں اس کے ساتھ منسلک ہیں اور اس کے مفہوم سے متعلق ہیں۔
اب اسی طرح ہم کرسمس کا مفہوم دیکھتے ہیں۔ بشپ مائیکل کری Bishop Michael Curry عیسائی سکالر ہے اور بشپ نے برطانوی شہزادہ Prince Harry کی شادی پر Sermon تقریر کی تھی۔ بشپ میڈیا پروگرام This Morning CBS میں اظہارِ خیال کے لیے آئے(1) تو بشپ سے سوال کیا گیا کہ ?What is the real meaning of Christmas "کرسمس کا حقیقی معنی کیا ہے؟"، تواُس کا جواب دیتے ہوئے بشپ نے کہا:

The real meaning of Christmas is that God made a decision to show us what we mean to God. There is a text in the New Testament John’s Gospel: God so loved the world that he gave his son (his only son) that’s the key to the meaning of Christmas.(2)

ترجمہ: "کرسمس حقیقی معنی یہ کہ خدا نے ایک فیصلہ کیا، یہ دکھانے کے لئے کہ ہم اس کے نزدیک کتنی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور عہد نامہ جدید یوحنا باب 03 میں متن ہے: 'کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بَیٹا بخش دِیا۔' کرسمس کے معنی کو سمجھنے لیکن یہ کنجی (بنیادی بات) ہے۔"
اسی طرح معروف (مسیحی ویب سائیٹ) gotquestions.com پر بھی اسی طرح کا جواب دیا گیا ہے، اور John 3: (16,17) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ان حوالوں References سے یہ بات بڑی واضح ہو گئی ہے کہ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے، اس کے پیچھے فکر یہ ہے کہ 'عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں اور خدا نے اپنا بیٹا اس دنیا میں بھیجا۔' اس مفہوم کے بعد اگرآپ کو کوئی ان الفاظ میں مبارک باد دے کہ "خدا کے بیٹے کی پیدائش کی عید مبارک" یا "خدا کے بیٹے کی پیدا ئش مبارک" تو آپ کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ کیا آپ بھی اُسے ویسے ہی Reciprocate کریں گے؟ یا جوابی مبارک باد میں وہی الفاظ کہیں گے؟ تو اس تفصیل سے اندازہ ہوگیا کہ کرسمس کا یہی اصل مفہوم ہے۔ ان ظاہری مختصر الفاظ سے جو مفہوم منسلک ہے وہ ہم نے عیسائی مبلغین سے ریفرنس کے ساتھ واضح کر دیا۔

References:

1. Bishop Michael Curry on the true meaning of Christmas.

2. For God so loved the world, that he gave his only begotten Son… John 3: (16)


2۔ کرسمس کی مبارک باد (دوسرا حصہ) Christmas Greetings

دوسرا عنوان اور دوسرا ٹائٹل یہ ہے کہ کرسمس کی مبارک باد دینا یہ کیسا عمل ہے؟
1۔ اس حوالے سے جو پہلا سوال ہمارے پاس آیا تھا وہ ہے کہ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا حقیقی بیٹا نہیں بلکہ معنوی بیٹا مانتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کسی شخص کی اپنی سوچ ہو سکتی ہے لیکن نہ عیسائی Scriptures اور نہ عیسائی مبلغین بلکہ خاص کر عیسائی مبلغین جو Interpretation کرتے ہیں وہ یہ ہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور حقیقی بیٹے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ رب العالمین قرآن مجید میں کہتے ہیں وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا (سورۃ مریم، آیت 88) ۔ اُنہوں نے کہا کہ رحمٰن کا بیٹا ہے۔ تو اللہ رب العالمین نے اس آیت اور دیگر آیات میں یہ عقیدہ عیسائیوں کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اگر وہ حقیقی طورپر بیٹا مانتے ہیں تو تب ہی اللہ رب العالمین نے اس عقیدے کی اُن کی طرف نسبت کی ہے۔ تو اس لئے یہ کسی شخص کی اپنی سوچ ضرور ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ ہی کرسچن مبلغین اس کی تائید کرتے ہیں۔ اور نہ قرآن مجید اس کی تائید کرتا ہے۔
2۔ ایک اور سوال ہے کہ عیسائی فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ اگر کوئی شخص مجھے یا کسی بھی شخص کو، کسی مسلمان Happy Christmas یا Merry Christmas کہہ رہا ہے تو ممکن ہے اس کا عقیدہ یہ نہ ہو! ممکن ہے اس کا عقیدہ یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہیں مانتا!
اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ عیسائیوں میں بہت سارے فرقے ہیں Protestant ہیں، Catholic ہیں ،Orthodox ہیں اور بہت سارے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ ہی ہے کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو کیا معلوم کہ اُس کا عقیدہ کیا ہے؟ یعنی وہ شخص آپ کو مبارکباد دے رہا ہے۔ جب آپ کوبھی تو اس کا عقیدہ معلوم نہیں ہے پھر کیسے آپ اُس کی مبارک باد کو جوابی مبارک باد سے Respond کر سکتے ہیں؟
3۔ ایک اور سوال کیا گیا ہے یہ کہ مسلمان جب کسی کو Happy Christmas یا Merry Christmas کہتا ہے تو اُس کا عقیدہ تو ٹھیک ہے وہ تو اپنے صحیح عقیدے کے مطابق جواباً اس کو Merry Christmas کہہ سکتا ہے؟
جواب یہ ہے کہ مسلمان کا عقیدہ تو بلاشبہ اس بارے میں بڑا واضح ہے کہ اللہ رب العالمین نے نہ کوئی بیٹا جنا۔ نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ نہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ۔ تومسلمان کا عقیدہ ضرور درست ہے لیکن یہ قول اور عمل درست نہیں۔ مسلمان اپنے الفاظ کے چناؤ میں اور اعمال کے چناؤ میں اللہ رب العالمین کی شریعت کا پابند ہے اور اپنے اعمال کے لئے بھی رب العالمین کی شریعت کا پابند ہے کہ انہی کی روشنی میں الفاظ کی ادائیگی بھی کرے گا اور انہی کی روشنی میں اپنےا عمال بھی کرے گا ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورۃ البقرۃ: آیت 104)۔ اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں مسلمان بیٹھتے اور اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے رَاعِنَا کہتے ۔ یہود بھی جب مجلس میں آتے تو وہ اسی رَاعِنَا کے الفاظ کو اس کا معنی ہے (ہماری طرف متوجہ کیجئے )راعینا کر کے پڑھتے جس کامعنی ہے ہمارے چرواہے۔ اور یہود اس لفظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استھزاء کرتے۔ تو اللہ رب العالمین نے ان الفاظ کے استعمال کرنے سے منع کردیا کہا: لَا تَقُولُوا رَاعِنَا یہ الفاظ نہ کہو بلکہ وَقُولُوا انظُرْنَا اس معنی بھی یہ ہی ہے کہ (ہماری طرف متوجہ کرو) گویا یہود جس الفاظ کو اللہ کے رسول ﷺ کی توہین کا ذریعہ بنا رہے تھے اللہ رب العالمین نے ان الفاظ کے استعمال سے بھی مسلمانوں کو روک دیا۔ تو مسلمان وہی الفاظ استعمال کریں گے وہی Wishes کریں گے جو شریعت کی روشنی میں جائز ہوں گی۔ جو شریعت کی روشنی میں درست ہوں گی ۔جو عیسائیوں اور یہودیوں کو کسی طرح کا کوئی ایسا موقع فراہم نہیں کریں گی کہ جس سے اُن کے عقیدے کی یا اُن کی سوچ کی ترویج ہو یا اسلام کی کسی طرح کی کوئی توہین کرنے کا اُن کو موقع مل سکے۔
عمل کے اعتبار سے مسلمان کیسے محتاط ہوتا ہے اور کیسے پابند ہوتا ہے ! ایک شخص آیا اللہ کے رسول ﷺکے پاس اور کہنے لگا کہ اللہ کے رسول ﷺ میں نے نذر مانی تھی کہ میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کروں گا تواللہ کے رسولﷺنے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی جاہلیت کے بتوں میں کسی بت کی عبادت تو نہیں کی جاتی؟ تو لوگوں نے کہا نہیں اللہ کے رسول ﷺ نے پوچھا کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید تو وہاں نہیں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ اور کہا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ (سنن ابی داؤد: 3313، صحیح) گویا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے Questioning کی اور اس سے پوچھا کہ جاہلیت کے بتوں کی عبادت تو نہیں ہوتی اور کفار کی عید تو نہیں ہے؟ اگران سوالات کا Answer جو ہے Yes میں ہوتا توکیا خیال ہے اللہ کے رسولﷺ اجازت دے دیتے؟ تو گویا کفار کی عید کے مقام پر یا کفار کی عید کی جگہ پر وہاں بھی جانے کی اجازت نہیں ۔ اگرچہ وہ عید ہو رہی تھی یا نہیں ہو رہی تھی۔ تو مسلمان ہے اپنی شناخت میں اور اپنے اعمال میں بھی شریعت کی حدود کا پابند ہے صرف وہی کچھ کرے گا جس کا شریعت میں حکم دیا ہے۔
4۔ ایک سوال یہ تھا کہ یوم عاشورہ (دس محرم) کا روزہ اللہ کے رسول ﷺ یہود کی مشابہت میں رکھا۔ تو آپ ہمیں عیسائیوں کی مشابہت سے منع کر رہے ہیں اگر اللہ کے رسول ﷺ یہود کی مشابہت میں عاشورہ کا روزہ رکھ سکتے ہیں تو ہم عیسائیوں کی مشابہت میں کرسمس کیوں نہیں منا سکتے یا Merry Christmas کیوں نہیں کہہ سکتے؟
جواب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ روزہ رکھا حدیث میں آتا فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا (صحیح مسلم: 1130)۔موسیٰ علیہ السلام نے شکر کا روزہ رکھا۔ تواصل میں یہ روزہ موسیٰ علیہ السلام سےرکھنا ثابت حدیث میں یہ الفاظ موجود ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کےاس عمل کو شریعتِ محمدی میں باقی رکھا، اس کی تائید کی، اور اس کو برقرار رکھا۔ اب آئیے کرسمس کے استدلال کی طرف۔ اولاً: موسیٰ علیہ السلام نے خود روزہ رکھا تھا۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام نے خود کرسمس منائی تھی؟ ثانیاً: اللہ کے رسول ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کے عمل کو برقرار رکھا۔ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے کرسمس کو منا کر عیسیٰ علیہ السلام کے عمل کو برقرار رکھا ؟یہاں دونوں جواب نفی میں ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نےنہ کرسمس منائی اور نہ ہی اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی تائید کی۔ نہ اس کوبرقرار رکھا۔ نہ اس کو منایا۔تو اس لئے یہ Example اور یہ دلیل یہاں بالکل درست نہیں ہے۔
دوسری بات ہے کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے حج کی عباد ت کا لوگوں میں اعلان کیا تو وہ عبادت امت محمد ﷺ میں بھی باقی ہے ۔تو اللہ کے رسول ﷺ نے عاشورہ کےروزے کے عمل کو بھی امت محمد ﷺ میں باقی رکھا۔ لیکن جب اللہ کے رسول ﷺ کو یہ بتا یا گیا کہ یہو د اور نصاریٰ، عیسائی اور یہودی دونوں اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے کہا لأصومَنَّ التاسعَ (مسند احمد) اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ فَإِذَا كانَ العَامُ المُقْبِلُ -إنْ شَاءَ اللَّهُ- صُمْنَا اليومَ التَّاسِعَ (صحیح مسلم 1134) یعنی یوم عاشورہ دس(10)کا روزہ تھامیں آئندہ سال نو(9)کا روزہ رکھوں گا ۔گویا ان کی مخالفت میں اللہ کے رسول ﷺ نے تاریخ کو بدل دیا۔
5۔ ایک سوال اور کہ وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (سورۃ مریم، آیت 33) قرآن کریم کی آیت ہے اس میں عیسیٰ علیہ السلام یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مجھے موت آئے گی اور جس دن میں دوبارہ زندہ اُٹھایا جاؤں گا۔ تو اس سےبھی استدلال لیتے ہیں کہ کرسمس منایا جاسکتا ہے۔
اس کا جواب تو یہ ہے کہ اس آیت میں تو ولادت اور وفات دونوں کا تذکرہ ہے۔ آپ ولادت پر جشن منانے کی دلیل لے رہے ہیں لیکن وفات پر کوئی جشن منانے کی دلیل نہیں لے رہے۔
دوسری بات یہ کہ اللہ رب العالمین نے اس میں بشارت دی ہے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سلامتی کی۔ اس میں عیسائیوں کے اس عقیدے کی نفی کر دی کہ عیسی ٰ السلام معبود ہیں کیونکہ حقیقی معبود جو ہوتا ہے نہ پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کو موت آتی ہے اور نہ وہ دوبارہ زندہ کیا جاتاہے۔ تو گویا رب العالمین نے یہاں اس سلامتی کے ذکر کے ساتھ عیسائیوں کے عقیدے کی بھی تردید کر دی۔
تیسرا اور سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ یہ آیت سب سے پہلے کس پر نازل ہوئی؟ سب سے پہلے مخاطب اس کے کون تھے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد کیا کرسمس منائی؟ کیا آپ ﷺ نے اس سے استدلال لیا؟ تواگر اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے اس طرح کا کوئی عمل نہیں لیا تو میں اور آپ اس سے کیسے ایسے عمل کی دلیل لے سکتے ہیں! اس میں کرسمس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ صرف سلامتی ہے جو اللہ رب العالمین نے اپنے اس رسول کے لئے، اپنے اس نبی کے لئے عیسیٰ علیہ السلام، کے لئے بطور بشارت ذکر کی۔ کرسمس کا مفہوم، مفسرین میں سے کسی نے بھی مراد نہیں لیا۔ تو یہ دلیل یہاں درست نہیں ہے۔
خلاصہ ساری بات کا یہ ہے کہ Happy Christmas یا Merry Christmas یا کرسمس کے موقع پر مبارک باد دینا یا مبارک باد کے جواب میں مبارک باد دینا۔ یہ سارا عمل ناجائز ہے اور شرعاً درست نہیں ہے۔ چہ جائیکہ کہ اس سے بڑھ کر ہم میں سے کوئی شخص جو ہے وہ سانتا کلاس Santa Claus کا روپ اختیار کر لے۔ کرسمس پر تحائف دے ،Gifting کرے یا کھانے تیار کرے Meal Serve کرے۔ تواس طرح کی کسی چیز کی شریعتِ محمدی میں اجازت نہیں ہے۔

3۔ مسلمانوں کی عیدیں

تیسرے حصے کا Topic یا موضوع ہے: مسلمانوں کی عیدیں۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور ان لوگوں کے ہاں دو دن تھے کہ وہ ان میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’یہ دو دن کیا ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم دورِ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دئیے ہیں۔ اضحیٰ (قربانی) کا دن اور فطر کا دن (یعنی عید الاضحی اور عید الفطر)۔‘‘ (ابو داؤد: 1134، صحیح)
یعنی لوگ دورِ جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے، خوشی منایا کرتے تھے، Relax اور Enjoy کیا کرتے تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دو دنوں کے بدلے ان سے دو بہتر دن دے دیئے ہیں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دورِ جاہلیت کے عید اور خوشی کے دو دن متعین Fixed تھے، ان کو برقرار نہیں رکھا۔ نہ مسلمانوں کو کہا کہ ٹھیک ہے آپ بھی یہی دو دن عید منائیں۔ نہ مسلمانوں کو یہ کہا کہ آپ یہ دو دن بھی عید منائیں اورمیں دو دن مزید بھی دے دیتا ہوں۔ غیر مسلم کے مقرر کردہ عید کے دنوں کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں دی۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے تمھیں دو بہتر دن عطا کر دیئے۔ نہ اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے جاہلیت کے ان دو روز میں کبھی عید منائی۔ اب نجانے کیوں بعض مسلمان، غیر مسلموں کی عیدیں منانے کے لیے بے چین ہیں؟
اللہ کے حکم سے مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دو بہتر دن عید الفطر اور عید الاضحی بیان کر دیئے۔ مسلمانوں کی یہی دوعیدیں ہیں۔ اس کے علاوہ کسی تیسری عید کا Concept اسلام میں نہیں۔ نہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی تیسری عید منائی، نہ کوئی چوتھی عید منائی، نہ کافروں کی کوئی عید کافروں کے ساتھ مل کر منائی، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کوئی تیسری اور چوتھی عید منائی، نہ عیدمیلادالنبی نہ کوئی اور عید۔ ہاں جمعہ کے لئے عید کا لفظ حدیث سے ثابت ہے، اس لیے جمعہ کا دن بھی عید کا دن ہے۔ (ابن ماجہ: 1098، حسن، الالبانی)

04۔ دسمبر25 25th December

چوتھے حصے کا Topic یا موضوع ہے: دسمبر25
کریم میں اللہ رب العالمین نے بیان کیا ہے: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔ (سورۃ مریم آیت: 25)قرآن کریم میں مریم علیہا السلام (اللہ تعالیٰ اُن پر سلامتی کرے)، اُن کے وضع حمل کا Period بیان کیا جارہا ہے اور جو بچے کی پیدائش کا وقت بتایا جارہا ہے وہ گرمیوں کا بتایا جا رہا ہے جب کھجوروں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا Text بھی 25دسمبر کی تائید نہیں کرتا۔ اسی طرح بعض عیسائی سکالر بھی اس تاریخ (25 دسمبر) پر متفق نہیں ہیں۔ بلکہ پوپ بینڈیکٹ 16 (Pope Benedict 16) نے اپنی کتاب میں چند بر س قبل یہ سوال اُٹھایا تھا اور یہ بات بہت مشور ہوئی تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے، اس (تاریخ) کا تعین ممکن نہیں ہے۔
(نوٹ: آرتھوڈاکس چرچ Orthodox Church کے ماننے والے 25 دسمبر کی بجائے 7 جنوری کو کرسمس مناتے ہیں۔)

5۔ عیسائیوں سے تعلقات Relations with Christians

پانچویں حصے کا Topic یا موضوع ہے: عیسائیوں سے تعلقات
خصوصا وہ لوگ یہ سوال Question کرتے جو ایسے علاقوں میں ہیں جہاں Multi-Cultural Society ہے اور بالخصوص Christians وہ Dominant ہیں، یعنی اکثریت میں ہیں اور Majority میں ہیں۔ مسلمان وہاں اقلیت میں ہیں۔ بہرحال، ایسے لوگ بھی سوال کرتے ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ مسلمانوں کا عیسائیوں سےRelationship کیسے ہونا چاہیے؟ کیا اس کی Boundaries (حدود) ہیں؟ الحمدللہ، شریعت میں اس حوالے سے واضح امور بیان کئے گئے ہیں۔
1۔ ایک دلچسپ امر آپ کے سامنے رکھتے ہیں وہ یہ کہ مسلمانوں کے عیسائیوں سے جو تعلقات ہیں اس میںM3 بہت اہم ہیں۔ پہلا M اس سے Mary بنتا ہے یعنی مریم علیہا السلام۔ مریم کے لیے انگریزی میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ Mary ہے۔ قرآن کریم میں مریم کے نام سے ایک مکمل Chapter (یعنی سورۃ) ہے۔ جبکہ Bible (انجیل) میں بھی Mary کے نام سے کوئی Chapter نہیں۔ مسلمان مریم علیہا السلام (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو، اللہ تعالیٰ ان پر سلامتی کرے) کی تقدیس کرتے ہیں۔ ان کی پاکیزگی کے قائل ہیں۔ اللہ رب العالمین کے کلام (قرآن مجید )میں ان کے نام سے ایک مکمل سورۃ ہے اور کئی مقام پر ان کا ایک تذکرہ ہے۔
2۔ عیسائیوں کےساتھ آپ کھا سکتے ہیں، پی سکتے ہیں، ان کوکسی خوشی پر مثلاً؛ جاب ملنے یا امتحان میں کامیابی پر، یا کسی اور دنیاوی معاملہ میں کامیابی پر آپ انہیں مبارک دے سکتے ہیں، آپ ان کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں، لین دین کر سکتے ہیں، میل جول رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ درست طریقے سے ذبیحہ کرتے ہیں تو آپ ان کے ذبیحہ کو بھی کھا سکتے ہیں۔ آپ ان کی پاک دامن عورت سے شادی کرسکتے ہیں، اس کی اجازت رب العالمین نے قرآن میں دی ہے۔ یہاں دوسرا M آگیا اور اس سے Marry بنتا ہے یعنی "شادی"۔ اور پھر تیسرا M ہے جس سے Merry بنتا ہے جو لفظ Merry Christmasکا حصہ ہے اس سے ہم مسلمان براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں شرکیہ عقیدے کی تائید اور ترویج ہے۔
آپ عیسائیوں کو Gifting کرسکتے ہیں۔ بلکہ Gifting کے حوالے سے ایک بامقصد طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ سورۃ مریم کا Text اچھے انداز سے پرنٹ کروائیں اور اس کا خوبصورت سا Booklet بنوائیں اور اپنے جاننے والے یا شناسا عیسائی کو بطورِ تحفہ دیجئے۔ تاکہ ان کو معلوم ہو کہ مسلمان عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ، دونوں کی کتنی تقدیس وتعظیم کرتے ہیں اور ان کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔

6۔ کفار سے مشابہت Imitating Disbelievers

چھٹے حصے کا Topic یا موضوع ہے: کفار سے مشابہت
رسول اللہﷺ نے فرمایا مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ”جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔“ (سنن ابی داؤد: 4031)۔ کچھ روز پہلے ویڈیو میں ایک اسکالر کہہ رہے تھے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور موصوف نے نہ دلیل دی اور نہ کسی محدث کا حوالہ ذکر فرمایا۔ حالانکہ محدث الالبانی رحمہ اللہ نے اس کوصحیح قرار دیا ہے۔ دیگر علماء اور محدثین نے بھی اس کو صحیح کہا ہے۔ بہرحال یہ حدیث علماء کی اقوال کی روشنی میں صحیح ہے۔
ایسے خاص تہوار اور ایسے امور جو کسی قوم کا، کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص بن جائیں، ان کی پہچان بن جائیں تو ان امور میں ان سے مشابہت اختیار کرنے سے گریز کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کو ابتدا میں عیسائیوں اور یہودیوں (اہلِ کتاب) کی موافقت پسند تھی اور آپ مشرکین کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے اسلام کے احکامات نازل ہوتے گئے، رسول اللہ ﷺ نے اہلِ کتاب کی مشابہت اور ان کی موافقت کو ترک کر دیا۔ بلکہ ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا۔ اس کے دلائل قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ بلکہ کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔ ان میں سے چند ایک ذکر کرتے ہیں۔
1۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہود کی مخالفت کرو۔ یہ لوگ اپنے جوتوں یا موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔“ (سنن ابی داؤد: 652) اس میں یہود کی مخالفت ہے۔
2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خَالِفُوا المُشْرِكِينَ۔ داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کراؤ، مشرکین کی مخالفت کرو۔ (صحیح مسلم: 602) ایک حدیث میں یہود و نصاری سے عدم مشابہت کے الفاظ ہیں۔ ولا تَشَبِّهوا باليهودِ والنَّصارى (صحيح الجامع: 1067، صحيح، الالبانی)
3۔ باجماعت نماز کے لئے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہو۔ یہ معاملہ اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے تھا۔ تو آپ ﷺ کے سامنے ایک تجویز یہ آئی کہ نرسنگھے Horn کا استعمال کیا جائے، جیسے یہودی کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے اس کو رد کردیا۔ دوسری تجویز ناقوس Bell کے بارے میں تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عیسائیوں کی مشابہت کی وجہ سے انکارکر دیا۔ پھر اذان کا سلسلہ جاری ہوا۔ (سنن ابی داؤد: 498، صحيح، الالبانی)
یہ صرف تین Examples مثالیں سامنے رکھی ہیں، اس کے علاوہ بھی حدیث میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
ایک سوال کیا گیا کہ آپ جب گاڑی (کار) استعمال کرتے ہیں۔ جہاز، موبائل، انٹرنیٹ تب آپ کو مشابہت یاد نہیں آتی؟ دیگر معاملات میں آپ کو مشابہت یاد آتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں تلوار، تیر، گھوڑے، خیمے، نیزے، برتن اور اس طرح کی بہت ساری چیزیں مشترک تھیں۔ یہ چیزیں کافر بھی استعمال کرتے تھے، یہودی بھی استعمال کرتے تھے، عیسائی بھی استعمال کرتے تھے، مجوسی بھی استعمال کرتے تھے، اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ بھی استعمال کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان سے منع نہیں فرمایا۔ اگر ایسی بات ہوتی کہ روزمرہ استعمال کی عام اشیاء ہیں یا عام امور جو کسی خاص مذہب کا یا کسی خاص قوم کا شعار نہیں ان سے رسول اللہ ﷺ منع فرما دیتے تو مسلمان رک جاتے۔ لیکن ان چیزوں کے استعمال سے نہیں روکا، گویا ان میں مشابہت کا اعتبار نہیں۔ مشابہت وہی ہے جس کی تفصیل ہم ذکر چکے، اور اس کی Examples بھی پیش کر چکے ہیں، اس فرق کو ذہن میں رکھنا چاہیئے۔
آخری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی ایسے پیروی کرو گے جیسے بالشت، بالشت کے برابر ہے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہے یہاں تک کہ اگر وہ سانڈے کی بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کا اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اور کون مراد ہوسکتے ہیں؟“ (صحیح بخاری: 7320)
صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ جو لوگ جن آپ بات کررہے ہیں یہ یہود ونصاریٰ ہیں؟ یعنی ہم ان کی پیروی کریں گے؟ ان کے پیچھے چلیں گے؟ اللہ رسول ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ مراد یہ تھی کہ ایک زمانے میں ایسے امتی بھی ہوں گے جو یہود و نصاریٰ کی پیروی کریں گے۔ اور دوسری بات اللہ کے رسول ﷺ کا یہ کہنا کہ سانڈے Mastigure کی بل (سوراخ Hole) میں بھی ان کے پیچھے جاؤ گے، یعنی اس چھوٹے سے جانور کی بل یا سوراخ میں گھسنا۔ یہ ایک عجیب اور نا پسندیدہ بات ہے۔ یہود و نصاریٰ عجیب و غریب، بے معنی اور بے مقصد کوئی کام بھی کریں گے تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے۔ یہ اللہ کے رسول ﷺ کی پیش گوئی ہے۔ آج بعض مسلمانوں کو دیکھ کر اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یقیناً وحی کی بنیاد پر ہی یہ خبر دی تھی إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (سورۃ النجم آیت: 04) وحی کی بنیا د پر آپ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ بہت سے امتی، ہر اس چیز کو اور ہر اس عمل کو جس پرکفارکی مہر لگ گئی ہو یا جو کفار کی طرف سے آئی ہو اس کو اپنانے میں اور کفار کے رسم ورواج کواختیار کرنے میں بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اللہ رب العالمین مجھے اور آپ کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو اور قرآن کو اور اسلام کو سمجھنے کی توفیق دیں اور اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
(نوٹ: یہ اصلاً ویڈیو درس ہے جو 04 جنوری 2020ء کو میرے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے متن کو معمولی ردوبدل کے ساتھ تحریری شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔)