سوال کیا گیا ہے توبہ کرنا چاہتا ہوں لیکن کیسے ؟ تفصیل اس سوال کی کچھ یوں ہے کہ تقریباً ایک برس قبل واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن کے توسط سے مجھے ایک سوال موصول ہوا اور اس کا جواب طلب کیا گیا۔ ایک نوجوان نے یہ سوال بھیجا تھا۔ سوال کو پڑھتے ہیں اور پھر اس کے جواب کی طرف آتے ہیں۔
سائل لکھتا ہے: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال کچھ طویل ہے۔ میں تیس سالہ نوجوان ہوں۔ لیکن بہت زیادہ گناہوں میں گھرا ہوا ہوں۔ سینکڑوں، شاید ہزاروں بار سچی توبہ کر چکا ہوں۔ اگر گناہوں کا ذکر کروں، تو لسٹ اتنی طویل ہے کہ شاید ہی کوئی گناہ ایسا ہو جو میں نے نہ کیا ہو۔ اللہ نے میرا پردہ قائم رکھا ہوا ہے لیکن میں گناہ کرنے پر دلیر ہو چکا ہوں۔ غلط صحبت کا شکار ہوا۔ غیر اخلاقی فلمیں دیکھنی شروع کیں۔ ایک دوست سے موبائل کا فری انٹرنیٹ کوڈ ملا۔ پھر سلسلہ شروع ہو گیا۔ گھر سے کھانے کے لئے ایک معقول رقم ہمیشہ ملتی رہی ہے۔ لیکن فضول اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے چھوٹی موٹی چوریاں شروع کر دیں۔ وقت کے ساتھ یہ سلسلہ بڑی چوریوں تک پہنچا اور اس کے بعد اور بہت ساری برائیاں کرتا رہا۔ زنا کا بھی ارادہ کیا۔ لیکن موقع نہ مل سکا۔ لاتعداد نمازوں، روزوں اور باقی عبادات سے خود کو محروم کر چکا ہوں۔ بدلنا چاہتا ہوں لیکن کر نہیں پا رہا۔ جب کبھی دل کی کیفیت بدلتی ہے تو رو کر معافی مانگتا ہوں۔ سب چھوڑ نے کا سوچتا ہوں۔ لیکن توبہ پر قائم نہیں رہ پاتا اور توبہ کو پورا نہیں کر پاتا۔ میرے چند سوالات ہیں: پھر سائل نے حقوق اللہ کے حوالے سے اور حقوق العباد کے حوالے سے پوچھا کہ کیسے میں ان کی تلافی کر سکتا ہوں؟ آخر میں لکھا ہے کہ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
جواب:
1۔ سب سے پہلی اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جو شخص گناہ کر چکا ہے، وہ توبہ کی طرف آنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ عزم اور ارادہ بہت عمدہ اور قابلِ تحسین ہے۔ انسان پلٹنے کا سوچے، اللہ رب العالمین کی طرف آنے کا سوچے، یہ عظیم بات ہے۔ اللہ رب العالمین اپنے بندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ یقیناً تم میں سے کسی کے توبہ کرنے پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنی گم شدہ سواری (واپس) پا کر خوش ہوتا ہے۔" (صحیح مسلم: 6953)
جیسے کسی کی سواری گم ہو چکی ہو، کسی صحرا میں یا چٹیل میدان میں۔ تو جتنی خوشی اس کو سواری کے واپس ملنے پر ہوتی ہے، اللہ رب العالمین اس سے بھی زیادہ اپنے بندے پر خوش ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والے کے لئے سعادت مندی ہے۔ اس کے لیے مبارکباد ہے کہ وہ ارادہ رکھتا ہے کہ اللہ رب العالمین کو خوش کرنا ہے۔
2۔ دوسری بات اللہ رب العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ کہہ دے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہوجاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (سورۃ الزمر، آیت: 53)
جب گناہوں کے بعد توبہ کا ارادہ بن گیا تو اس بات سے بالکل پریشان نہ ہوں کہ کیا میرے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ کیا اللہ رب العالمین میری توبہ قبول کر لیں گے؟ کیا میری مغفرت ہوجائے گی ؟ بے شک اللہ رب العالمین سب گناہ معاف کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں حدیثِ قدسی ہے: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: 'اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہوگی۔ اے آدم کے بیٹے! اگرتو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھرمجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا)۔' (جامع ترمذی: 3540، صحيح)
یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ حدیثِ قدسی ہے۔ جس میں اللہ رب العالمین نے گناہوں کی مغفرت کا اور توبہ کو قبول کرنے کا وعدہ کیا اور بہت امید دلائی ہے۔
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث ہے کہ؛
ایک بوڑھا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ کہتا ہے کہ کوئی گناہ ایسا نہیں کہ جو میں نے نہ کیا ہو، کوئی کوتاہی ایسی نہیں جو میں نے نہ کی ہو، کوئی نافرمانی ایسی نہیں جو میں نے نہ کی ہو تو کیا میرے لئے توبہ ہو سکتی ہے؟ کیا میری ان گناہوں سے معافی ہو سکتی ہے؟ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو نے اسلام قبول کر لیا ہے؟" اس نے کہا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔" تو فرمایا: اچھائی کے کام کرو اور برائیوں کو چھوڑ دو، اللہ رب العالمین تمہارے سارے گناہ اور ساری نافرمانیوں کو نیکیاں بنا دیں گے۔ تو کہنے لگا۔ وغَدَراتي وفَجَراتي؟ کہنے لگا میری ساری کوتاہیاں ،میری ساری لغزشیں، میری ساری فریب کاریاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں (وہ بھی معاف)۔ تو وہ اللہ اکبر کہتا رہا، اللہ اکبر کہتا ہوا صحابہ کی نظر سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اوجھل ہو گیا۔ (صحيح الترغيب: 3164، صحيح، الألباني)
توبہ کے بارے میں آپ کے سوال کے حوالے سے پہلی بات جو ہم نے پہلے Episode (حصے) میں ذکر کی ہے، یہ ہے کہ جب آپ توبہ کرنا چاہتے ہیں تو ناامید ہونے کی ضرورت نہیں, اللہ رب العالمین سارے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔
(نوٹ: یہ اصلاً ویڈیو درس ہے جو 20 ستمبر2019ء کو میرے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے متن کو معمولی ردوبدل کے ساتھ تحریری شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔)