کالم

سیلاب، اضطراب اور سدباب

سیلاب، اضطراب اور سدباب
ان کے گھر سیمنٹ اور سریے کے نہ تھے۔ لکڑی کے شہتیر وں کا سائبان تھا، ان پرچٹائیاں اور مٹی کا لیپ تھا، ان گھروں میں ڈرائنگ، ڈائننگ، سٹنگ بھی نہ تھے۔ کچے فرش تھے۔ ایک یادو رہائشی کمرے تھے، اٹیچڈ واش روم بھی نہ تھے، علیحدہ کچن بھی نہ تھا،صحن میں ایک ہی غسل خانہ تھا، صحن میں ہی جانور بندھے تھے، یہ کچے گھروندے بہہ گئے،یہ جھونپڑی، یہ کوٹھڑی، یہ کٹیا بھی چھن گئی۔ہر ایک کی داستان میں کچھ نیا ہے، لیکن دکھ اور تکلیف مشترک ہے: ''مال مویشی بہہ گئے۔ سامان بہہ گیا۔ گھر تباہ ہو گیا۔ بچیاں بہہ گئیں۔دو دن درخت پر گزارے، نیچے پانی ہی پانی تھا۔ میں نے تین لاشیں اپنے ہاتھوں سے نکالیں، کھانے کو کچھ نہیں۔ ریل کی پٹڑی بہہ گئی، کپاس برباد ہو گئی، فصل ضائع ہو گئی۔ گاڑی کے انجن میں گارا بھر گیا، سیلاب کے طوفانی ریلے نے گھر کو نگل لیا، ٹیلے پر چڑھ کر جان بچائی، ویگن میں مسافر بہہ گئے۔ پل بہہ گئے۔'' لاکھوں گھرانے متاثر ہیں، اور لاکھوں داستانیں ہیں۔بلوچستان کے عبدالرحیم کے سارے گھر میں پانی داخل ہو گیا، اب وہ خود بیلچہ کی مددسے گارا اور مٹی نکال رہا ہے۔ کوئی شے بھی قابل استعمال نہیں۔پانی نے تباہی مچا دی۔ضلع راجن پور کے محمد دین کا گھر کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے بہا دیا۔ لوگ بے بسی کا شکار ہیں۔
چودہ اگست کو اسلام آباد میں ایک تقریب منائی گئی۔ جس میں رقص، موسیقی اور اچھل کود تھی۔ چودہ اگست کی بے شمار تقاریب سیلابی پانی میں، کھلے آسمان کے نیچے منائی گئیں جن میں آنسو، آہیں اور سسکیاں تھیں، ایک جلسہ لاہور میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں اقتدار کا حصول مقصد تھا،سیلاب میں گھرے لوگوں کی مدد کے لئے کوئی کمپین نہیں، کیونکہ یہ ترجیح نہیں بڑی سیاسی جماعتوں کا رویہ سب کے سامنے ہے،کیا خوب ہوتا کہ چودہ اگست کو تمام عوامی نمائندے اپنے علاقے میں سادگی سے تقریب منعقد کر لیتے درخت لگاتے مقروض ملک کے کروڑوں روپے سیلاب متاثرین پر خرچ کر دئیے جاتے لیکن اس بے توجہی کے ساتھ امید کی ایک کرن ضرور ہے، مقامی رفاہی تنظیمیں، تاجر، مساجد، مدارس، علماء رضاکارانہ طورپر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں، متاثرین کے لئے راشن، ادویات، نقدی، خیمے، وقت، رضاکارانہ خدمات، سب جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بارشوں کے طویل سلسلے اور سیلاب سے پاکستان کے دس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں سینکڑوں اموات ہوچکی، بلوچستان کا صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 27 اضلاع اور تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں بلوچستان میں ساڑھے 21 ہزار مکانات، 690 کلومیٹر طویل شاہراہیں، 18 پل اور ایک لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر ہوئے۔ ضلع کوئٹہ، پشین، سبی، چمن، زیارت، ہرنائی، ڑوب، ڈیرہ بگٹی، خضدار، پنجگور، کوہلو، لسبیلہ اور دیگر کئی اضلاع متاثر ہیں، ضلع لسبیلہ کے علاقے بیلا میں ڈیم ٹوٹنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ پنجاب کے تین اضلاع، گلگت بلتستان کے چھ، خیبر پختونخوا کے 9 اضلاع، سندھ کے 17 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوج کے دستے ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ شہری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔
این ڈی ایم اے (نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کی ویب سائٹ کے مطابق این ڈی ایم کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے ہنگامی امداد کی فراہمی جاری ہے۔ فراہم شدہ ریلیف سامان میں 40 ہزار سے زائد افراد کیلئے خوراک (راشن پیکس)، 60 ہزار متاثرین/افراد کی رہائش کیلئے خیمے، مچھر دانیاں اور کمبل مہیا کی گئیں جبکہ نکاسی آب کیلئے117 ڈی واٹرنگ پمپس مہیا کئے گئے سب سے زیادہ امداد بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کیلئے دی گئی بلوچستان میں سیلاب متاثرین کیلئے 60 ہزار لیٹر پینے کا پانی بھی مہیا کیا گیا دیگر امدادی سامان میں کچن سیٹ، حفظانِ صحت کٹس اور کیمیکل سپرے مشینز شامل ہیں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز بھی سرگرم عمل ہیں لیکن المیہ بڑا ہے، کاوشیں عارضی اور محدود ہیں۔
پاکستان میں دہائیوں سے سیلاب آتے ہیں، تباہی لاتے ہیں۔ اب گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کے سبب شاید شدت بڑھ گئی ہے دوسری طرف سائنس، ترقی اورٹیکنالوجی کے نئے افق دریافت ہوئے پاکستان میں بھی نئے ادارے قائم کئے گئے، لیکن چند سالوں کے بعد جب بھی سیلاب آتے ہیں، پاکستانی قوم اس طرح رلتی نظر آتی ہے، اب آتے ہیں تجاویز اور حل کی طرف بلاشبہ سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن نقصان کم کیے جا سکتے ہیں اگر بھارت کی طرف سے دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑا جاتا ہے، کیا ہم اس اضافی پانی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے؟ بنجر علاقوں تک نہریں نہیں نکال سکتے؟ بلوچستان، تھر اور چولستان تک نہریں نکالی جائیں۔ مان لیا شہروں میں سیوریج کی نکاسی اور بارش کے پانی کی نکاسی کا الگ نظام فوری طور پر تشکیل دینا مشکل ہے۔ لیکن اس کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ ایک کنال اور بڑے گھروں میں سٹوریج ٹینک کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے جو بارشی پانی جمع کریں۔
رہائشی کالونی کی انتظامیہ پابند ہوکہ سوسائٹی میں جھیل ہو اور پارکس کے ساتھ واٹر ری چارج ویل ہو۔ شہروں میں بڑے انڈر گراؤنڈ سٹوریج ٹینک بنائے جا سکتے ہیں، لاہور میں انڈر گراؤنڈ سٹوریج ٹینک کے ایک منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ ہر شہر میں یا مضافات میں بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لئے بڑی جھیلیں بنائی جا ئیں۔(سیلابی میدان) کے تصور کو فروغ دے کر کھلے، سیلابی علاقوں سے متصل غیر آباد علاقوں میں سیلاب کے پانی کو چھوڑا جائے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے بلوچستان کا اکثر حصہ غیر آباد ہے۔ آبادی کم ہے، زیادہ سے زیادہ جھلییں بنائی جائیں، دریاؤں اور نالوں کی گزرگاہوں سے عارضی آبادیوں کو ہٹا کر متبادل جگہ دی جائے، آبی ماہرین ان مشوروں اور دیگر تدابیر کی بارے میں بہتر طور پر رہبری کر سکتے ہیں۔
سیلاب آنے کے بعد ہم جاگتے ہیں۔ جو علاقے حساس ہیں ان پر سارا سال توجہ کیوں نہیں دیتے؟ چند برس قبل ڈیموں کے لیے عطیات بھی اکٹھے کئے گئے۔ کیا ہم نے ان سے ڈیم تعمیر کر لئے؟ کیا ہم چند برس کے لیے سیلاب کے سدباب پر توجہ مرکوز کر کے اربوں کا نقصان بچانے کا تہیہ نہیں کر سکتے؟ کیا غیر مستقل مزاجی ہمارا مزاج بن چکی۔ قدرتی آفات کے بعد غیرملکی امدادکا انتظار ہماری عادت بن چکی؟سیلاب کی تباہ کاری پر ہر درد دمند کو اضطراب ہے۔ سیلاب کا سد باب کرتے ہوئے سیلاب (سیل آب) کو صرف آب (پانی) میں تبدیل کر کے اس خزانے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ترقی کی نئی راہ پرقدم رکھا جا سکتا ہے۔
پی ڈی ایف دستیاب ہے — ڈاؤن لوڈ کریں
تمام کالم