کالم

فحاشی، بے پردگی اور بداخلاقی

فحاشی، بے پردگی اور بداخلاقی
چند روز قبل وزیر اعظم نے بیان دیا جس کا کچھ حصہ میڈیا میں ہوں رپورٹ ہوا۔ اگرچہ ریپ کے بارے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں لیکن ایسے جرائم کے بڑھنے کی وجوہات کو بھی دیکھتا ہو گا اور ان میں سے ایک وجہ فحاشی کا پھیلتا ہے۔ آج جس معاشرے کے اندر آپ فاشی بڑھاتے جائیں تو اس کے اثرات ہوں گے۔ ہمارے دین میں کیوں منع کیا گیا ہے ؟ پردے کی تاکید کیوں کی گئی ہے؟ تا کہ کسی کو ترغیب نہ ملے اس بیان پر مخصوص گروہ نے شدید تنقید کی۔
اس موضوع سے متعلق چند سوالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ لباس اور اس کے اثرات کے بارے میں کیا مذہب اور ریاست رو نمائی کرتی ہے؟ یقینا۔ اسلام پردے کا حکم دیتا ہے۔ معاشرے میں حیا اور بے حیائی کا تصور متعین کرنے میں لباس اہم ہے۔ ڈاکٹر، پولیس، نرس، وکلاء غیر کی پہچان لباس سے ہوتی ہے۔ لباس لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ ملٹی بلین فیشن انڈسٹری، فیشن شوز اور کیٹ واک اس کا ثبوت ہیں۔ میکسی اور منی، آف دی شولڈر اور کاک ٹیل اور دیگر مغربی لباس کے فیشن اس پر دلیل ہیں۔ اگر لباس ریاست اور معاشرے کی اقدار کے خلاف ہو تو جرمانے عائد ہوتے ہیں۔ پشت سے ڈھکتی پتلون پہننے کو sagging کہا جاتا ہے۔ ساؤتھ کیرولینا میں اس پر جرمانہ ہے۔ بارک اوبا نے بھی تقریر میں اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ سیکولر اقدار کو حجاب اور برکینی کا پیناوا ناپسند ہے۔ اس لیے فرانس میں حجاب اور پر کمیٹی پہنے پر پابندی ہے اور جرمانے کی سزا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا فحاشی اور نامناسب لباس ریپ کا سبب ہے؟ جی یہ ریپ کا ایک سبب ہے۔ اگر چہ اس کے علاوہ بھی کئی اسباب ہیں۔ انڈیپنڈنٹ (برطانیہ) میں 2019ء میں شائع شدہ ریسرچ کے مطابق برطانوی مردوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ایسی عورت کے لیے ہر اسانی اور حملہ زیادہ متوقع ہے جو جسم کو ظاہر کرنے والا لباس پہنتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل یوٹیوب پر ویڈیو وائرل ہوئی، جس کو لاکھوں افراد نے دیکھا۔ نیو یارک سٹی کی گلیوں میں خاتون 5 گھنٹے چست ٹی شرٹ اور جینز پہن کر گھومتی ہے۔ اس لباس میں خاتون کو ہراسگی کا سامنا رہا۔ پھر وہی خاتون عبایہ (گاؤن) پہن کر 5 گھنٹے گھومتی ہے، تو ہر اسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس ویڈیو کو Keywords کے ساتھ گوگل پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔
تیسر اسوال یہ ہے کہ کیا لباس کے معاملے میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنا درست ہے؟ یقیناً درست ہے۔ آسٹریلیا کے انڈریو بولٹ کے مطابق خاص تناظر میں لباس سے متعلق ہدایات کا مطلب صرف رسک منیجمنٹ (خطرہ کا بندوبست) ہے اور اس ہدایت کا و کنم بلینگ سے تعلق نہیں۔ راؤنڈل کا کہنا ہے کہ میر احق ہے کہ میں گھر کی کھڑ کی کھول کر دکان سے خر خریداری کرنے چلا جاؤں اور ممکن ہے کہ میر اگھر چوری سے محفوظ رہے لیکن یہ غیر محتاط عمل ہے۔ مائیک کا کہنا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو نامناسب حالات میں بر انگیختہ کرنے والا لباس پہننے کا مشورہ نہ دوں گا۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر خاتون نامناسب اور توجہ حاصل کرنے والا لباس پہنے تو کچھ لوگ اس لباس کو مرد کی پیش قدمی کے لیے خاتون کی رضامندی تصور کرتے ہیں؟ ہی، ممکن ہے کہ لباس پہنے والی خاتون کی فکر ایسی نہ ہو لیکن بعض مردوں میں بہر حال یہ سوچ موجود ہے۔ نئی دہلی (2012) میں چلتی ہوئی بس میں خاتون میڈیکل اسٹوڈنٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کے مجرموں میں سے مکیش سنگھ کا کہنا تھا: "تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ایک باحیا اور شائستہ لڑکی رات کے 9 بجے یوں آوارہ پھرتی نظر نہیں آتی۔" گھریلو کام کاج اور گھر داری دراصل ایک مہذب لڑکی کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ راتوں کو ڈسکو اور بار میں پھر نا، غلط کاموں میں ملوث رہنا اور نامناسب لباس پہنتا۔ مجرم کی اس سوچ اور عمل کی قطعا تائید نہیں کی جاسکتی، لیکن اس سوچ کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ Victim blaming و کم بلینگ اور احتیاط کی حدود کیا ہوں؟ اول: خاتون کے ساتھ ریپ ہو ا ہے تو و و مظلوم ہے اور پیسٹ ظالم درندہ مجرم کو زیادتی اور ظلم کے لیے غذر دینا بے تکا ہے۔ دوم: ریپ کیسز میں واردات کے دو طریقے عام ہیں۔ ایک یہ کہ لڑکی رضا مندی سے بوائے فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ پر جاتی ہے۔ بوائے فرینڈ، اپنے دوستوں کو بھی انوائٹ کرتا ہے۔ نتیجہ گینگ ریپ، ویڈیو ریکارڈنگ اور بلیک میلنگ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دوسری واردات میں بوائے فرینڈ ڈیٹ پر خود ریپ کر کے ویڈیو نا لیتا ہے۔ اس صورت میں اگر لڑکیوں (بیٹیوں اور بہنوں ) کو ان وارداتیوں سے خبر دار رہنے کا کہا جائے تو بہت مناvictim blaming نہیں؟ سوم: سیٹ بیلٹ باندھنے کے بعد بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ بہت لوگ کار کی سیٹ بیلٹ نہیں باندھتے ، مگر زندگی بھر ان کا حادثہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ہم اپنے پیاروں کو سیٹ بیلٹ کیتا کید کرتے ہیں۔ ریپ سے بچنے کے لیے خواتین کو گائیڈلائنز اور احتیاطی تدابیر بتاتا یقینا مفید ہے۔ اگر خواتین سیلف پروٹیکشن کے لیے Pepper spray gun کو استعمال کرتی ہیں تو مکمل لباس سے حفاظت میں کیا مضائقہ؟ اگر پولیس پروٹیکٹڈ ایریا کوترجیح دیتی ہیں تو محرم کی حفاظت میں چلنے میں کیا الجھن؟ خطرات کم کرنے کی دو سطحیں ہیں۔ ایک انفرادی، دوسری حکومتی (ریاستی)۔ انفرادی سطح پر ہم اپنی احتیاط کریں۔
فحاشی، بے حیائی اور پورن کی گندگی پھیل رہی ہے۔ فلم ٹی وی چینلز اور موبائل ایپس اس کا ذریعہ ہیں۔ ریپ کے بڑھتے ہوئے جرم کے اور بھی اسباب ہیں۔ لیکن بلا شبہ بعض افراد میں گندگی کے زیر اثر درندگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ کمسن بچوں اور عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کے دعوے دار زنا کے مجرم کے لیے کوڑوں اور سنگساری کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے۔ بازار حسن (ریڈ لائٹ ایریا) جہاں عورت فروخت ہوتی ہے اس کی بندش کے لیے صدا بلند نہ ہو گی۔ فلموں میں ریپ مناظر نہ دکھائے جائیں، کیا اس کے لئے ہونٹ حرکت کریں گے؟ سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک عورت کی قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف، گونگا مین کیوں ہے ؟ فحاشی کے مناظر شوٹ کر کے انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں رقم کمائی جاتی ہے۔ میڈیا میں عورت کی ) objectification پراڈکٹ اور شے ) کے عمل نے عورت کی عزت اور توقیر میں کمی کو چلن دیا ہے ۔ حقوق نسواں کے نام نہاد علم بردار عورت کے حقوق کی آڑ میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔
ایک اینکر کا بیان پرنٹ میڈیا میں بھی رپورٹ ہوں۔ تین ملکوں کی رپورٹس سے منتخب حصے پیش کئے۔ پہلی بات: ریپ کے ضمن میں طاقت کے اظہار کو اس رپورٹ میں بنیادی سبب قرار دیا ہے اور جذبات کو ثانوی۔ اول: جذبات کو سبب تسلیم کر لیا گیا، چاہے ثانوی طور پر۔ دوم: یہ بھی معلوم ہوا کہ ریپ کے سبب ایک سے زیادہ ہیں۔ سوم: یہ رپورٹ ایک ملک کی ہے تاکہ پوری دنیا کی ، ہر خطے میں ریپ کے اسباب کی فہرست میں درجہ بندی میں فرق ہونا اچنبھا نہیں۔ دوسری بات : 35 فی صد ریپ کیس گھر ، آفس اور قریبی جگہوں پر ہوئے۔ اول: باقی 65 فی صد کیس کہاں ہوئے ؟ دوم: معلوم ہوا کہ محفوظ مقامات پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے اور غیر محفوظ مقامات پر تو بے حد ضروری جوشیلے اینکر نے یہ نہیں بتایا کہ ان Findings کی روشنی میں کیا ان ممالک میں ریپ کا جرم ختم ہو گیا؟ اینکر ریپ کا سب متعین کرتے، سزا تجویز کر دیتے یا قابل عمل حل بتا دیتے تو قوم ان کی دانشوری پر شکر گزار ہوتی۔ میڈیا کے لیے ریٹنگ کی دوڑ اور سنسنی کا چلن اہم ہے۔ اہم مسائل پر سنجیدہ مکالمہ کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں۔ ریپ کے ضمن میں جنگ کی مثال دی۔ جنگ میں اگر طاقت کا اظہار ہی مقصد ہوتا تو گردن اڑانا اور غلام بنانا ہی کافی تھا۔ جبری زیادتی کے ساتھ بہر حال خواہش اور لذت کا فیکٹر بھی جڑا ہے۔
کاش اس موضوع پر لب کشائی سے قبل نقاد، قرآن مجید سے رہ نمائی طلب کرتے۔ سورہ الاحزاب میں ارشاد ہے: "اے نہیں ؟ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر اشکالیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ، نہایت رحم والا ہے ( آیت: 59) پہچانی جائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کو با پردہ، سادہ اور حیادار لباس میں دیکھ کر دیکھنے والا جان لے کہ وہ شریف اور با عصمت خواتین ہیں۔ تکلیف نہ پہنچائی جائے سے مراد یہ کہ ان کو نہ چھیٹر ا جائے منہ ان کو ستایا جائے۔ جب تک قرآن مجید میں بیان کردہ ہدایات ، انظام، گائیڈ لائنز اور سزاؤں کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا تھالی کے بینگن لڑھکتے رہیں گے اور قوم کی تھالی لرزتی رہے گی۔
تمام کالم