کالم

ترقی ٹائم، براستہ…………

ترقی ٹائم، براستہ…………
مجھے کمپیوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ہے" میں نے ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں بیٹھے کہنہ مشق اہل کار کو کہا۔ اس نے نظریں اٹہا کر دیکھا اور بولا ”باہر سے فارم لے لیں۔“ میں باھر نکلا تو سڑک کنارے شجر سایہ دار تلے سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص کرسی، میز اور چھوٹے سے صندوق سے عارضی دفتر سجا کر بیٹھا تھا۔ میں نے ویب سائٹ سے ڈاو¿ن لوڈ کئے ہوئے کاغذ دکہا کر کہا "یہی فارم ہے، ناں؟" اس نے قدرے تعجب سے کہا ”نہیں جناب۔“ فارم کی قیمت دریافت کی، تو تین ہندسوں پر مشتمل رقم بتائی اور بولا ”فارم پر بھی کر دوں گا۔“ فارم پر کروا کر ڈاک ٹکٹ ڈاکخانہ سے جا کر خرید کئے، میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور ضروری کاغذات کے ساتھ اگلے روز جمع کروا دیا۔
حسب ہدایت بیالس ایام کے بعد وہاں دوبارہ پہنچ گیا۔ اب کی بار لائسنس برانچ کی تجویز کردہ فوٹو کاپی شاپ سے ذرا زائد قیمت پراگلے مرحلے کا فارم خریدا۔ نئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور متعلقہ کاغذات کے ہمراہ پھرجمع کروا دیا۔ ” آپ نے تو LTV لکھوایا ہے یہ تو مشکل اور لمبا کام ہے۔“ ایک اہل کار نے معصومیت سے کہا۔ میں نے کہا”جناب، مہربانی فرمائیں۔“ اس نے چار ہندسوں پر مشتمل رقم بتائی اور کہا اگلے ہفتے آ کر لائسنس لے جائیں۔ میں نے رقم دینے سے انکار کر دیا، توجمعرات کا وقت دیا کہ موٹر وہیکل ایگزامنر دوسرے شہرسے صرف اسی روز ہی تشریف لاتے ہیں۔ بے دلی سے ایک بیزار شکل اہل کار نے کمپیوٹر سے منسلک کیمرے پر میری تصویربنائی۔ اورطرفہ یہ کہ وہاں شخصی موجودگی کو یقینی بنانے کی بجائے میز پر پڑی دیگر پاسپورٹ سائز تصاویر کو ہی کیمرے کے سامنے کر کے، کاروائی ڈالی جا رہی تھی۔جمعرات کو پہنچا، تو باور کرایا گیا کہ ایگزامنر صاحب ایک ماہ سے نہیں آ رہے، ان کی ذمہ داری کا دائر کار کئی شہروں پر محیط ہے، دوبارہ آنے کو کہا گیا۔ میں نے گزارش کی کہ آپ صرف موٹر سائیکل اور کار کا لائسنس ہی بنا دیں، جواب ملا کہ آپ منگل کو آئیں تو ھمارے DSP صاحب آپ کا ٹیسٹ لے لیں گے۔ میں نے باھر نکل کر ایک صاحب تعلقات کو فون کیا اور داستان گوش گزار کی، انہوں نے ہمدردی کا اظہار کیا اورتعاون کا وعدہ فرمایا۔ میں نے کاغذات ان کو بھجوا دیئے۔ دس دن بعد زبانی ٹیسٹ، گراو¿نڈ ٹیسٹ اور روڈ ٹیسٹ وغیرہ کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس میرے ہاتھ میں تاو اور عام فیس کے ساتھ معمولی سا نذرانہ اس کا عوض تھا۔
میں نے متعلقہ محکمہ کی ویب سائٹ پر ان مشکلات کو حل کرنے کے لیئے چند تجاویز ارسال کیں، آج کی تاریخ تک جواب موصول نہیں ہوا، شاید ویب سائٹ کا محرر لمبی چھٹی پر ہے۔داستان سنا کر وہ اجلا شخص خاموش ہو گیا۔ اگر ترقی اینٹ، روڑے، بجری اور سڑک کا نام ہے توشاید موٹروے اور ہائی وے بنا کر ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ لیکن اگر یہ قانون کی حکمرانی اور عوام کی سہولت کانام ہے تو ہم ناکام ہیں۔ ہر ضلع کی ڈرائیونگ لائسنس برانچ لاکھوں کا بزنس کرتی ہے۔ سائلین کو رقم دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک واقف حال کا کہنا ہے کہ شہروں میں ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعہ مال برداری کے لئے باقاعدہ ”الیمنیٹڈ پاس“ جاری ہوتے ہیں۔ ایک کارڈ پر ایکسائز کا اہل کار اپنا نام اور موبائل نمبر نیلی سیاہی سے تحریر کرتا ہے اور پھر اس کو الیمنیشن مشین سے گزار کر پائیدار بنایا جاتا ہے۔ سالانہ ممبر شپ فیس ادا کر کے اہل کار سے یہ روڈ پاس حاصل کیا جا سکتا ہے اور قانون کی ناک کو مروڑاجا سکتا ہے، لیکن یاد رہے کہ یہ ناک کٹتی نہیں ہے۔
چنگ چی کی مقامی خود ساختہ صورت جس کو پیار سے ”چاند گاڑی“ کہ کر پکارا جاتا ہے، اس سے اتنا چائے پانی اکٹھا ہو جاتا ہے کہ چین کی ہوائی ٹکٹ تو ہفتہ وار بنیاد پر خریدے جاسکتے ہیں۔ ھر وہ نوجوان جس کی مسیں نہیں بھیگی اور جس کے پاس شناختی کارڈ و ڈرائیونگ لائسنس نہیں وہ اس کو اڑا سکتا ہے اور وسط شاہراہ اس کو تین سو ساٹھ کے زاویہ پرکسی بہی لمحہ گھما سکتا ہے۔ دس سواریوں اور گیارہویں کپتان سمیت جب اس کی بریک لگائی جاتی ہے تو دو افراد کے لیئے ڈیزائن کردہ یہ بریک سو میٹر بعد جا کر کارگر ہوتی ہے۔ گدھا ریڑھی اوردیگرچوپایہ ریڑھیاں ریفلیکٹرز اور اندراج کے بغیرپانچ فٹ کی اضافی سونڈ اور دس فٹ کی زائد دم لٹکائے سڑک پرراج کرتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی ملٹی ملین انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز میں ٹرانسپورٹرز، سیاستدان، اہل کار اور افسران وغیرہ شامل ہیں۔ پیسہ جن کی بدن کی شریان اور جزو ایمان ہے۔ ان سے سوال ہے کہ لہو میں ڈوبے اس لاشے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ خون کی قیمت پر خزانہ جمع کرنا، کیا شرف انسانیت ہے؟
پی ڈی ایف دستیاب ہے — ڈاؤن لوڈ کریں
تمام کالم