کالم

’’مکہ، مدینہ‘‘

’’مکہ، مدینہ‘‘
''اللہ کی قسم، بلاشبہ تو اللہ کی سر ز مین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا۔'' خاتم النبینؐ کا یہ ارشاد مکہ کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ مسافر نے سیاہ منقش غلاف میں لپٹے خانہ ء کعبہ پرالوداعی نگاہ ڈالی تو دل سے بے اختیار صدا آنے لگی: '' مالک! مسافر کو اسی بستی کی طرف باربار لے آنا۔'' مکہ میں اللہ رب العالمین کی عبادت کے لئے پہلا گھر(بیت اللہ) تعمیر کیا گیا۔ قرآن مجیدمیں مکہ کوام القری یعنی شہروں کی ماں کہا گیا۔ مسافر کو یہ شہر ماں کی مانند محسوس ہوتا ہے۔جب اس کی آغوش میں پہنچتا ہے، قرار آ جاتا ہے۔ ماں بچے کا ٹھکاناہے وہ اسی کی طرف لپکتا اور پلٹتا ہے۔
روپے کو ریال میں تبدیل کرنے کا ارادہ کیا۔ پندرہ برس قبل پندرہ روپے کے عوض ایک ریال تھا۔ آج سینتیس روپے کے عوض ایک ریال۔قرضے، پیپر کرنسی اور جدید اقتصادیات کا گورکھ دھندہ۔ پی آئی اے میں سفر مقدر تھا۔ باکمال لوگ، لاجواب سروس سے کون واقف نہیں! قومی ائیر لائن کا حال کسی سے مخفی نہیں۔بہرحال پرواز وقت پر تھی۔ سویرے کی پروازتھی یوں دن چڑھے جدہ جا اترے۔ جدہ مکہ شاہراہ پر تیز رفتار گاڑیوں کے انبوہ میں مسافر بھی ایک گاڑی میں سوار تھا۔ اطراف میں جدید عمارتوں کی قطاریں۔کہیں وسیع صحرا کی سنہری چادرپھیلی نظر آتی تھی، جس پر وقفے وقفے سے سبزے کی باریک لہر ابھرتی اورآنکھوں کو طراوت بخشتی تھی۔
مکہ میں داخل ہوتے ہی مکہ ٹاور کی فلک بوس عمارت استقبال کرتی ہے۔ ہوٹل مسجد حرام سے دور نہ تھا۔ کچھ وقت آرام کیا۔ رات کو ادائیگی عمرہ کا عزم کیا۔ مسجد حرام میں حجاج اور زائرین کی خدمات کا انتظام بلاشبہ قابل تعریف ہے۔ ریالوں کے عوض سکوٹر کے ذریعے عمر رسیدہ افرادبا سہولت طواف اور سعی کر سکتے ہیں۔ سکوٹر حاصل کرنے کا نظام جدید اور تیز رفتار ہے۔ عام وہیل چئیر کے حصول کو بھی اگر الیکٹرانک کر دیا جائے تو زائرین کے لئے مزیدآسانی ہو جائے گی۔ موبائل پر ایف ایم آن کر کے ائیر فون کے ذریعے مختلف زبانوں میں خطبہ جمعہ کا ترجمہ سنا جا سکتا ہے۔ سماعت سے محروم افراد کے لئے اشاراتی زبان میں خطبہ کاؤنٹربھی اچھی کاوش ہے۔
معجزاتی زم زم کی ہمہ وقت وافر فراہمی، صفائی کا مسلسل اہتمام، زائرین کے ہجوم کو ناخوشگوار حادثات سے بچانے کے انتظامات کرنے میں مشغول محافظ، تلاوت کے لئے قرآن مجید کی صفوں کے قریب دستیابی، مختلف رنگوں کی وردیوں میں چاق و چوبند خدمت گزار۔جھکنے سے عاجز عمر رسیدہ کے لئے تہہ ہو جانے والی کرسیوں کی سہولت تاکہ ان پر بیٹھ کرنماز ادا کریں۔لاکھوں زائرین کے لئے وضو خانے اور بیت الخلا کا انتظام۔ یہ سب قابل تحسین ہے۔مسجدحرام کے کتب خانہ کا ایک ذیلی حصہ مسجد میں ہی قائم ہے جبکہ مرکزی عمارت العزیزیہ میں واقع ہے۔ ذیلی حصہ میں عربی اور دیگر زبانوں میں کتب موجود ہیں۔ زائرین مرکزی میز کے گردکرسی پر بیٹھ کر پر سکون ماحول میں مطالعہ سے سیراب ہو سکتے ہیں۔ مسجدحرام میں اہل علم مغرب کے بعد درس دیتے ہیں۔ اردو دان طبقے کے لئے پروفیسروصی اللہ محمد عباس قابل ذکر ہیں۔ وہ ام القری یونیورسٹی مکہ کے سابق استاد ہیں اور مسجد نبوی کے امام آپ کے شاگرد بھی ہیں۔مولانا خیر محمد مکی بھی اردو میں درس دیتے ہیں۔
ہوٹل لفٹ میں کھڑا تھا۔ نظر اٹھائی تو ایک بوڑھی خاتون کے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا دیکھا۔ پنسل سے انگریزی حروف MP کے مقابل مسجد تحریر تھا۔ لفٹ میں منزلوں تک رسائی کے لئے موجود بٹن پرکندہ حروف و عدد کو یاد رکھنا عمر رسیدہ زائر خاتون کے لئے مشکل تھا۔ سو آسانی کے لئے کاغذ پر انگریزی حروف کے مقابل مطلوبہ جگہ لکھ لی۔ زبان سے نا آشنائی بھی زائرین کے لئے مشکل کا سبب بنتی ہے اگرچہ رہبر بھی نمودار ہو جاتے ہیں۔سعودی ٹیلی کام کمپنیز کے آؤٹ لیٹ اور کاؤنٹرز جگہ جگہ موجود ہیں۔ ویزا دکھانے اور بائیومیٹرک کے بعد چند منٹ میں موبائل فون سم حاصل کی جا سکتی ہے۔ مکہ میں اسلامی تاریخ کے نشانات جا بجا موجود ہیں۔عمارت مسجد حرام سے متعلق میوزم اور کعبہ کی غلاف بافی کارخانہ بھی قابل دید مقامات میں شامل ہیں۔
مدینہ کے لئے تین رویہ سڑک پر ہلکی گاڑیوں کے لئے حد رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اطراف میں صحرائی بودوباش کے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ خیمے،باڑے، اونٹ اور بھیڑیں ان مناظر کا حصہ تھیں۔دوران سفر سنگلاخ پہاڑ دیکھ کر ذہن میں سوال ابھرا کہ نبی اکرمؐ نے ہجرت کی تو پہاڑوں اور گھاٹیوں کو عبور کرتے ہوئے سات دنوں میں یہ پرمشقت سفر کیا۔ آج ساڑھے چار سو کلو میٹر کا سفر تیز رفتار کار پرچارگھنٹے میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔ پہاڑوں کا سیاہ پتھریلا بدن سبز مہین چادر سے جھلک رہا تھا اور سبزے کی چادر اس کو چھپانے کے لئے ناکافی تھی۔ جوں جوں مدینہ کی جانب مسافت گھٹتی چلی جاتی ہے کھجور کے باغات دکھائی دینے لگتے ہیں۔
مسجد قبا میں دورکعت کی ادائیگی پر عمرہ کا ثواب ہے، سو مسجد قبا زائر کیلئے مرکز نگاہ ٹھہرتی ہے۔ مدینہ یونیورسٹی قابل دید ہے۔ دنیا بھر کے بیسیوں ممالک سے ہزاروں طالب علم سکالر شپ پرتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حدیث کالج ہائرا سٹڈیز کے سیکریڑی ڈاکٹر عمر مصلح الحسینی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی کتاب ہدیہ کی۔ الدعوہ کالج کے سینئر استاد ڈاکٹر عبداللہ الشمسان سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر ف۔عبدالرحیم سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ آپ کنگ فہد قرآن کمپلیکس شعبہ ترجمہ کے ڈائریکٹر ہیں۔مدینہ یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ کئی ایک زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔بیسیوں کتب کے مصنف ہیں۔ چند تالیفات عنایت کیں۔مسافر نے گلستانِ الفاظ و معانی کو جستہ جستہ دیکھا اور حظ اٹھایا۔
مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے نمائندہ وفد نے پاکستانی ہوٹل میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ خضر حیات ماسٹرز کے طالب علم ہیں۔ شفقت الرحمٰن مغل ماسٹرز کر چکے ہیں اور عرصہ سے مسجد نبوی کے خطبہ جمعہ کواردو تحریر اور اردو آڈیو میں منتقل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ مدینہ میں کھجور منڈی سے کھجور خریدنا بھی ایک دلچسپ مرحلہ ہے۔ عجوہ، سکری، مبروم، صقعی، ربیعہ،عنبر اور نجانے کتنی اقسام کی کھجور دستیاب ہیں۔ کھجور منڈی میں پاکستانی ملازمین کی کثرت ہے۔ سوموار اور جمعرات کے مسنون روزے کی نسبت سے مسجد میں افطار کا اہتمام کیا جاتاہے۔ دستر خوان بچھتے ہیں۔ کھجوریں، دہی اوربیکری بریڈ دسترخوان کی زینت ہوتی ہیں۔ عربی قہوہ پیش کیا جاتا ہے۔ زائرین کو محبت سے دسترخوان پر تشریف کی دعوت دی جاتی ہے۔مسجد نبوی کی دیدہ زیب اور عظیم الشان خودکار چھتریاں زائرین کے لئے سائے اور سہولت کا باعث ہیں۔ مسجد نبوی کے وسیع کتب خانے میں کتب کا بیش بہا ذخیرہ ہے۔
سعودی عرب میں خریداری پر 5 فی صدVAT (ویلیو ایڈڈ ٹیکس) ادا کرنا پڑتا ہے۔قیمتی سامان کے لئے حفاظتی لاکرز کی مسجد حرام کے صحن میں موجودگی زائرین کے لئے باعث راحت ہے۔ مسجد حرام میں آویزاں سکرین پر عربی میں ہدایات اور احکامات جلوہ گر ہوتے ہیں۔ مسجدحرام میں ٹول فری نمبر پر کال کرکے اعمال حج و عمرہ کے بارے میں رہنمائی لی جاسکتی ہے۔مسجد نبوی میں کیو آر کوڈز رہنما آلہ پر برقی کتب دستیاب تھیں۔ کیوآر کوڈ کو موبائل پر کوڈ سکینر ایپ سے سکین کر کے مطلوبہ کتاب حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں طلبہ کے لئے تلاوت و تجوید قرآن کے حلقہ جات کا اہتمام بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش وہ جانتے۔'' مکہ میرے نبیؐ کی چاہت تھی تو مدینہ راحت۔ مالک کائنات! ہر مسلمان کو یہ ''چاہت'' نصیب فرما!یہ'' راحت'' نصیب فرما۔
پی ڈی ایف دستیاب ہے — ڈاؤن لوڈ کریں
تمام کالم