مَیں تیسری کلاس میں تھی تو مجھے ”موٹا چہرہ“ اور ”بدصورت“ کہہ کر پکارا جاتا، دھتکار دیا جاتا۔ سارہ نے کہا: ” وہ کہتے تھے مجھے مرض لاحق ہے“۔ اکثر مَیں کچھ کہے بغیر ہی وہاں سے چل دیتی۔ ایک دن کیشئر نے ایک سٹور پر سارہ سے رقم لینے سے انکار کردیا۔ اس نے سوچا کہ سارہ کو ایک متعدی بیماری ہے۔ جب وہ سولہ سال کی ہوئی تو اس نے جدوجہد کرنے کا ارادہ کیا۔ سوشل میڈیا پر اس عنوان سے آواز بلند کی ”شاید اک روز تحقیروتضحیک (بلنگ) ختم ہوگی“؟.... سارہ ایٹول ایسی بیماری کے ساتھ پیدا ہوئی، جس نے چہرے کے ایک طرف نمایاں ٹیومر کو جنم دیا تھا۔ ٹیومر کے سبب دائیں رخسارکا گوشت لٹک کر ٹھوڑی تک پہنچ گیا، ناک بھدی اور چہرہ بدنما ہو گیا۔ 8 ماہ کی عمر میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ بیتے ماہ و سال میں سارہ کو مستقل درد سر، دھندلی نظر اور چہرے کو آٹھ سرجری آپریشنوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر سب سے بڑی جدوجہد سکول میں بے ہودگی اور بد مذاقی (بلیز) کا سامنا کرنا تھا۔
ڈان میری کا قصہ حیران کن بھی ہے اور دلدوز بھی۔ کینیڈا کی رہائشی اس بچی نے 14 سال کی عمر میں کتے کے پیٹ سے لٹک کر اپنے بیڈ روم میں خود کشی کرلی۔ اس نے اہل خانہ کے لئے اپنی آخری تحریر میں لکھا: ”اگر مَیں مدد حاصل کرنے کی کوشش کروں گی تو معاملات اور بگڑ جائیں گے۔ وہ ہر وقت نئے شخص کی تلاش میں ہوتی ہیں اور یہ نہایت خطرناک لڑکیاں ہیں۔ یہ سکول سے نکال دی جائیں گی اور ان کو کوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ مَیں آپ سب سے بہت محبت کرتی ہوں“۔موٹا ہے یا دبلا ہے ، لمبا ہے یا چھوٹا ہے، گوراہے یا کالاہے، کتاب پرفداہے یا کھیل کا شیدا ہے، خوبرو ہے یا بدرو۔ بدلحاظ اوربداخلاق ہر ایک کو نشانہء ستم بنائیں گے، کم یا زیادہ۔ سوچئے! بدن میں پھیلاو¿ ہے تو کیا اپنی تمنا سے؟ ناک لمبی ہے تو کیا اپنی آرزو کا نتیجہ ہے؟ رنگت سیاہ ہے تو کیا ذاتی چاہت سے؟ رنگ کے ڈرم میں چھلانگ رغبت کے سبب لگائی ؟ ٹانگیں طویل اور بدن لمبا ہے تو کیا آمادگی سے آرڈر کیا؟ بصارت میں ضعف ہے، دھندلا دکھائی دیتا ہے تو کیا: ”لو وزیبلٹی آپشن“ خود منتخب کیا؟
زبانی ہراساں کرنا، جملے کسنا، تمسخر اڑانا، دھمکی دینا، طاقت کا استعمال، یہ سب "بلنگ" کے زمرے میں آتا ہے۔ طبقات، نسل، مذہب، جنس، حلیہ اور جسمانی خلقت میں فرق عموماً اس کی بنیادہوتا ہے۔ اس کی چاراقسام کی جاتی ہیں۔ جذباتی، زبانی، جسمانی اور سائبر۔ سائبر بلنگ ایک جدید اصطلاح ہے۔ اس میں ای میلز، ٹیکسٹ میسجز، ویب سائٹس اورسوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی موبائلز کے ذریعے واہیات پیغامات (میسجز) سے انجان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہراساں کرنا ڈھکا چھپا معاملہ نہیں۔ ٹیکسٹ میسجز نہایت سستا ، آسان اور محفوظ، لیکن مہلک ترین ذریعہ ہے۔ سکول بلنگ کلاس، پیریڈز کے درمیانی وقفہ، کینٹین، غیر نصابی سرگرمیوں، کھیلوں کے دوران، باتھ رومزکے آس پاس اورسکول بس میں جاری رہتی ہے۔ طلبہ کا بدتہذیب گروہ کسی ایک کو نشانہ پر رکھ لیتا ہے۔ معذورطلبہ کو بھی ان کی زیادتی اور بد سلوکی سہنی پڑتی ہے۔ سکول بلنگ سب سے زیادہ نقصان دہ اس لئے ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں کی عمر ناپختہ ہوا کرتی ہے اور اسی سبب خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ چند برس بیتے، جنوبی پنجاب کے معروف تعلیمی ادارے کے چند ناخلف طلبہ نے ایک جونئیر کو غنڈہ گردی اور تشدد کے ذریعہ کومے کی حالت تک پہنچا دیا۔
آپ کے مذاق اور ستانے کے سبب کوئی طالب علم زندگی میں ناکام ہوسکتا ہے۔ جارحانہ رویہ اس میں جنم لے سکتا ہے۔ وہ نفسیاتی عوارض کا شکا رہوسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔ 13 سالہ امریکی طالب علم ریان ہیلیگن کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ اس نے اپنے ساتھی طلبہ کے مسلسل ستانے سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔وزیرمملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمن شائستہ اور درد مند شخص ہیں۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لئے کوشاں ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بھی ترجیحات میں شامل کریں گے۔ میری رائے میں طلبہ کے تعلیمی سفر میں ایک پیریڈ مختص کیا جانا چاہیے۔ حقوق کی ادائیگی، فرائض کی پہچان اوراخلاقی اقدارجس میں بتائی اور سکھائی جائیں۔ اخلاقیات سے عاری تعلیم ڈگری ہولڈرزکو تو جنم دے سکتی ہے، لیکن انسانیت کی روح پیدا نہیں کر سکتی۔
ہم میں سے اکثر افراد سکول میں، خاندان میں ، ہمسائیگی یا دفتر میں، ورکشاپ میں، دکان پر اپنے ساتھیوں، جونئیرز اورملازمین کے ساتھ شعوری یا لا شعوری طور پر ناروا سلوک کر بیٹھتے ہیں۔ رکئے! سوچئے! اگر آپ سہارا نہیں دے سکتے، تودھکا بھی نہ دیں۔ اگر آپ پیار نہیں دے سکتے، تونفرت بھی نہ دیں۔ سب سے اعلیٰ تعلیمات، جو اس ضمن میں انسانیت کو دی جاسکتی ہیں، وہ خالق انسانیت نے کتاب لاریب میں دی ہیں :”اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہترہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں ،وہی ظالم لوگ ہیں“۔ (سورة الحجرات، آیت11)
نہ ستاؤ
پی ڈی ایف دستیاب ہے —
ڈاؤن لوڈ کریں